نئے سال کے لیے سات اصول (مکمل کالم)
آج صبح کا اخبار دیکھا تو اس میں بہت سی بری خبریں نظر آئیں، کہیں ملک کے کنگال ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا تو کہیں دہشت گردوں کی کارروائیوں کا بیان تھا۔ بہرحال یہ کوئی نئی بات نہیں، جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی کچھ سن رہے ہیں، اب تو عادت سی ہو گئی ہے۔ مگر اس مرتبہ حالات کچھ زیادہ ہی خراب ہیں اور ان حالات سے نمٹنے کے لیے جو کرنا ہے ہم نے خود کرنا ہے، کسی دوست، رشتہ دار، فرد، گروہ، معاشرے، ریاست یا حکومت نے ہمارے لیے کچھ نہیں کرنا، یہ بات ہم جتنی جلدی سمجھ لیں اتنا ہی اچھا ہے، اگر کہیں سے کوئی مدد مل جائے تو اسے بونس سمجھیں مگر اس پر تکیہ کر کے نہ بیٹھیں، پاکستان جیسے ملکوں میں زندگی گزارنے کا یہی اصول ہے۔ آج مورخہ یکم جنوری کو اگر آپ اس اصول کو پلے سے باندھ لیں گے تو نئے سال میں ملنے والی تمام بری خبروں کو ہضم کرنے میں آسانی ہوگی۔ لیکن مسئلہ صرف ہاضمہ درست کرنے سے حل نہیں ہو گا اس کے لیے کچھ عملی کام کرنے ہوں گے اور یہ کام اچھے برے دونوں طرح کے حالات میں کیے جا سکتے ہیں۔ نئے سال کے آغاز میں ہر بندہ چونکہ موٹیوویشن کی معراج پر ہوتا ہے اس لیے یہ وقت اس قسم کے مشورے دینے کے لیے بہترین ہوتا ہے کہ آپ نے زندگی کیسے گزارنی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ زندگی گزارنے کے طریقے بتانے والے خود کسی گرو سے مشورہ لینے پہنچے ہوتے ہیں اور گرو کسی پیر کے پاس اور پیر اپنی زندگی کا مسئلہ حل کروانے کسی وزیر کے پاس بیٹھا ہوتا ہے۔ اس سے پہلے کہ بات کہیں دور نکل جائے، آج ان اصولوں کی بات کرتے ہیں جو جاپانیوں نے زندگی گزارنے کے لیے دریافت کیے ہیں، ان سات اصول پر اگر آپ نے نئے سال میں عمل کر لیا تو سمجھیں آپ امر ہو گئے۔ یہ اصول کیا ہیں؟
پہلے اصول کا نام ہے ’Ikigai‘ ، مطلب زندہ رہنے کی وجہ۔ ہمارے وجود کا مقصد یا زندگی کا ہدف کیا ہے، ہم روزانہ صبح کیوں اٹھتے ہیں، کس مقصد کے لیے، کیا سوچ کر ہم کام پر جاتے ہیں، کیا ہماری ملازمتیں اور کاروبار ہی زندگی کا اول و آخر مقصد ہیں؟ ان سوالوں کا ایک سیدھا سادہ سا جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ اگر ہم کام پر نہیں جائیں گے تو بہرحال یہ سوچنے کے لیے بھی زندہ نہیں رہیں گے کہ زندگی کا کوئی مقصد ہونا چاہیے یا نہیں لہذا جب ہم صبح اٹھتے ہیں تو کسی اعلیٰ و ارفع مقصد کے لیے نہیں بلکہ مجبوراً اٹھتے ہیں کہ زندگی کی گاڑی چلانی ضروری ہے۔ یہ سوال میں نے ایک بٹ صاحب سے پوچھا، وہ اس وقت کلچوں کے ساتھ ’کھد‘ کھا رہے تھے، جن کرم فرماؤں کو کھد کے بارے میں جانکاری نہیں وہ کسی دن پرانی انارکلی لاہور کا چکر لگائیں انہیں کھد کے ساتھ زبان بھی پیش کی جائے گی۔ سو وہ بٹ صاحب بھی پرانی انارکلی میں یہی کام کر رہے تھے، انہوں نے اطمینان سے اپنی انگلیوں پر لگے سالن کو چاٹ کو صاف کیا اور پھر نیم وا آنکھوں سے مجھے دیکھتے ہوئے بولے کہ ان کی زندگی کا مقصد یہ جاننا ہے کہ لاہور میں اچھا کھانا کہاں کہاں سے ملتا ہے۔ ان کا یہ جواب سن کر میری آنکھیں نم ہو گئیں۔ وہ بٹ صاحب اب تک لاہور میں ملنے والے انواع و اقسام کے کھانوں کے بارے میں اپنی تحقیق مرتب کرچکے ہیں۔ آپ بھی اپنی زندگی کو کھنگالیں اور دیکھیں کہ آپ کا مقصد کیا ہے، اگر کوئی مقصد نہیں تو یہ مقصد آج ہی تلاش کریں، اگر یہ مقصد آپ کی صلاحیتوں، ضرورتوں اور دنیا کے مسائل اور ان کے حل سے ہم آہنگ ہوتو کیا کہنے، اس کا مطلب ہو گا کہ آپ اکی گائی کے اصول پر کاربند ہو گئے۔
دوسرا اصول ہے ’Shikata ga nai‘ یعنی جو بات ہمارے بس میں نہیں اس پر پشیمان ہونا چھوڑ دیں، جن چیزوں کو ہم تبدیل نہیں کر سکتے ان پر وقت ضائع نہ کریں اور یہ اصول ذہن نشین کر لیں کہ ہر بات ہمارے بس میں نہیں ہوتی لہذا ان باتوں پر دھیان دیں جو ہمارے بس میں ہیں اور جنہیں ہم تبدیل کر سکتے ہیں۔ بہت سے رواقی فلسفی، جیسے کہ سنیکا اور ایپک ٹیٹس، بھی اسی نظریے کے قائل تھے، اس اصول کو اپنانے سے ہم زندگی کی صعوبتوں اور غموں سے بہتر طریقے سے نبردآزما ہوسکتے ہیں اور اپنی توانائیاں ان کاموں میں صرف کر سکتے ہیں جو کام ہمارے اختیار میں ہیں۔ ایک لطیفہ یاد آ گیا۔ گاؤں کے مراثی کی بیوی بہت خوبصورت تھی، چوہدری روزانہ اسے کسی نہ کسی بہانے اپنے گھر بلا لیتا تھا، جب یہ بات پھیل گئی تو گاؤں کے لوگ میراثی کے گھر گئے اور اس کی غیرت کو جگانے کی کوشش کی، جواب میں مراثی نے اسی Shikata ga naiکے اصول کو اپناتے ہوئے کہا کہ یہ بات میں نے سمجھ لی ہے کہ اصل میں وہ چوہدری کی بیوی ہے، لیکن ہفتے میں وہ دو دن کے لیے میرے پاس بھی آجاتی ہے۔
تیسرے اصول کا نام ہے ’Wabi sabi‘ یعنی زندگی بے عیب نہیں ہوتی، پرفیکٹ بننے کے چکر میں اس کا لطف برباد نہ کریں، اس بات کو تسلیم کریں کہ خود آپ میں اور دوسروں میں کمی ہو سکتی ہے، کوئی شخص کامل نہیں ہو سکتا، لہذا بے عیب زندگی کی کاوش ترک کر کے موجودہ زندگی سے ہی مسرت کشید کریں۔ چوتھا اصول ہے ’Gaman‘ جس کا مطلب ہے مشکل وقت میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، اپنے وقار پر آنچ نہ آنے دیں، زندگی میں اگر کوئی افتاد آن پڑے تو جوانمردی سے اس کا مقابلہ کریں، اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں اور یہ سوچیں کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ پانچواں اصول ’Oubaitori‘ ہے جو میرا پسندیدہ ہے، یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنا موازنہ کسی دوسرے سے نہ کریں، اکثر ہم اپنے ہم عصروں سے موازنہ کرتے وقت اس بات پر دکھی ہو جاتے ہیں کہ وہ زندگی میں ہم سے آگے نکل گئے، لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ ہر شخص کی زندگی منفرد ہے جس کا تقابل کسی دوسرے کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا، دنیا میں کوئی دو کہانیاں ایک جیسی نہیں، ہر کہانی کا آغاز اور انجام مختلف ہے، ہم لوگوں کی ظاہری چکا چوند کے ساتھ اپنی ذات کے سب سے کمزور پہلو کا موازنہ کرنے کی غلطی کرتے ہیں اور خواہ مخواہ پچھتاتے رہتے ہیں، یہ نہیں جانتے کہ جس شخص سے ہم متاثر ہو رہے ہیں اس کی اپنی زندگی کیسی ہے!
چھٹا اصول ’Kaizen‘ ہے، اس کا لفظی مطلب ہے ’تبدیلی، بہتری کے لیے‘ ۔ جاپانیوں کا ماننا ہے کہ ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں مسلسل بہتری کی کاوش کرنی چاہیے، یہ اصول دنیا بھر میں مشہور ہے، کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں یہ اصول پڑھایا جاتا ہے، بظاہر یہ بہت سادہ سی بات ہے مگر جزئیات میں دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس اصول کی افادیت کتنی زیادہ ہے۔ اس اصول کو یکم جنوری 2022 سے اپنی ذات پر لاگو کر کے دیکھیں اور خود سے سوال کریں کہ کیا گزرے ہوئے برس میں آپ نے خود میں بہتری لانے کے لیے کوئی تبدیلی کی؟ اگر آپ دیانتداری سے اپنی ذات کی پڑتال کریں گے تو ممکن ہے کہ اس سوال کا جواب ناں میں آئے، لیکن کوئی بات نہیں، آج سال کا پہلا دن ہے، آج سے ہی Kaizenکو اپنا لیں، اگر آپ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بھی بہتری لانے میں کامیاب ہو گئے تو سال کے آخر میں یہ ایک بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ جاپانیوں کا وضع کردہ ساتواں اور آخری اصول ہے ’Shu۔ Ha۔ Ri‘ ۔ کوئی بھی ہنر سیکھنے کی تین مدارج ہوتے ہیں، پہلا، شو، اس درجے میں آپ استاد سے بنیادی باتیں سیکھتے ہیں، انہیں یاد رکھتے ہیں اور ان لوگوں کی نقالی کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اپنی فن کے ماہر ہوتے ہیں، اس نقالی میں کوئی حرج نہیں، مثلاً اگر آپ کسی لکھاری سے متاثر ہیں تو اس کے رنگ میں لکھنے کی کوشش کریں، کسی تاجر سے متاثر ہیں تو اس کے کاروباری طریقوں کو اپنائیں۔ دوسرا درجہ ہے ’ہا‘ ۔ یہاں سے آپ تجربے کی دنیا میں داخل ہوں گے، جو کچھ سیکھا ہے اسے عملی طور پر کر کے دکھائیں گے۔ تیسرا درجہ ہے ’ری‘ ۔ اس درجے میں آپ فن کی معراج پر پہنچیں گے اور جدت سے کام لیتے ہوئے سوچ کے نئے دریچے وا کریں گے، گویا آپ خود استاد ہیں اور لوگ اب آپ کی نقالی کریں گے۔
یہ تمام اصول سخت ڈسپلن کا تقاضا کرتے ہیں، یہ ڈسپلن جنوری میں اپنے جوبن پر ہوتا مگر فروری کے آخر تک دم توڑ چکا ہوتا ہے، جو لوگ زندگی سے ناشاد رہتے ہیں انہیں چاہیے کہ ایک مرتبہ یہ بھی چیک کر کے دیکھیں کہ انہوں نے گزشتہ برس نئے سال کا جو عہد نامہ لکھا تھا اس پر کتنا عمل کیا؟ جواب کے لیے دیانتداری شرط ہے۔


