پاکستان کا معاشی بحران: سیاسی جماعتوں اور اداروں کی ذمہ داری


عمران خان کو جب ان کے بقول گزشتہ سال یہ معلوم ہوا کہ اپوزیشن ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی تیاری کر رہی ہے، تو انھوں نے اپنے تہیں یہ سوچ لیا کہ اگر ان کے پاس اقتدار نہیں رہتا تو آنے والی حکومت بھی آسانی سے نہ چل سکے۔ اپنی ذاتی سیاست کے لحاظ سے تو شاید عمران خان نے درست سوچا ہو، لیکن ملکی مفاد کے اعتبار سے ان کا طرز عمل کسی طور درست نہیں گردانا جا سکتا۔ عمران خان نے ایک انٹرویو میں خود کہا کہ انھیں گزشتہ سال اگست ستمبر میں اطلاعات تھیں کہ اپوزیشن ان کے خلاف عدم اعتماد لانے کی کوششوں کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔ عمران خان نے ایسی اطلاعات کے پیش نظر معاشی بہتری کے لئے ضروری سخت اقدامات اور سٹرکچرل چینجز کے لئے سست روی کی پالیسی اپنائی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ اپنی ہی حکومت کے طے شدہ سخت شرائط کے پروگرام کے مطابق فروری میں ایک ارب ڈالر لینے کے بعد پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے بعد مارچ میں ان کی قیمتیں کم کر کے جون تک فریز کر دیں۔ نتیجتاً معیشت گراوٹ کا شکار اور عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مجروح ہو گیا۔ پاکستان کے ڈیفالٹ کر جانے کے خدشات بڑھنے لگے۔ اپریل میں آئینی طریقے سے عدم اعتماد کی تحریک کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت ختم ہو گئی اور پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں کی مخلوط حکومت وجود میں آئی جس کے سامنے معیشت کی بحالی اور پی ٹی آئی کی مخالفت اور انتشار سے بھرپور سیاست کا مقابلہ کرنے کے دو سخت چیلنجز کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کے ساتھ اعتماد مستحکم کرنے کا مشکل کام سامنے تھا جو عمران خان حکومت کے دور میں متاثر ہو چکا تھا۔

پی ڈی ایم کی حکومت نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کر کے معیشت کو درست سمت پر ڈالنے کے کا کام کا آغاز کیا اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے آئی ایم ایف شرائط پوری کر کے تقریباً سات ارب ڈالر کا نیا پیکیج اور پروگرام حاصل کر لیا جبکہ مہنگائی آسمانوں کو چھونے لگی۔ حکومت نے اکتوبر میں کسانوں کے لئے اٹھارہ ارب کے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا۔ جو معیشت کے مجموعی امپیکٹ کی وجہ سے زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوا۔ عمران خان اپنی حکومت کے ہٹائے جانے پر پی ڈی ایم اتحادی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تقریباً آٹھ ماہ سے احتجاج اور انتشار کی سیاست پر ہیں اور ملک میں عدم استحکام پیدا کیے ہوئے

ہیں جس کے نتیجے میں معیشت درست ہونے کی بجائے مزید تنزلی کی سمت جا رہی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں مہنگائی تقریباً دگنا یعنی 23.5 فیصد سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بھی تنزلی کا شکار ہے۔ مون سون بارشوں نے رہی سہی کسر نکال دی اور ڈی جی خان ڈویژن، صوبہ سندھ، صوبہ بلوچستان، اور صوبہ خیبر پختونخوا کی دریائے سندھ بیلٹ کے ساتھ واقع اضلاع میں ہولناک تباہی مچائی جس سے لوگوں کے مکانات، مال و اسباب سمیت پھلوں کے باغات اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا جس کے معیشت پر بہت برے اثرات پڑے۔

تحریک عدم اعتماد کے آئینی طریقے کے نتیجے میں اپنی حکومت چھن جانے کے رد عمل میں عمران خان ”رجیم چینج“ کا ذمہ دار امریکہ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو قرار دیتے ہوئے فوری نئے انتخابات کروانے کی احتجاجی تحریک چلائے ہوئے ہیں اور 25 مئی اور نومبر کے لانگ مارچز، ملک کے طول و عرض میں تقریباً 55 جلسوں اور درجنوں پریس کانفرنسز کر کے سائفر سے کھیل کے آغاز کے بعد امریکی سازش، امپورٹڈ حکومت، میرجعفر میر صادق، چور ڈاکو، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، میرٹ پر آرمی چیف کی تقرری، اور اب ملک کے ڈیفالٹ ہونے اور ملکی معیشت کی تباہی کے بدلتے ہوئے بیانیوں کے ساتھ فوری انتخابات کے انعقاد کی غرض سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کی ناکام کوششیں کر چکے ہیں۔

اپنے جھوٹے بیانیوں پر یو ٹرن لیتے لیتے اب اپنی حکومت کی تبدیلی کا واحد ذمہ دار سابق آرمی چیف کو قرار دے رہے ہیں اور موجودہ اسٹیبلشمنٹ کو ڈوبتی معیشت بچانے کے لئے فوری انتخابات کی دو دہائیاں دے رہے ہیں۔ عمران خان کی احتجاجی تحریک کا شاید واحد فائدہ ان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ تو ہو سکتا ہے جبکہ اس کے برعکس ملک اور ملکی ترقی و معیشت کو جو نقصان ہو چکا ہے اس کا ازالہ سالوں میں ہی ممکن ہو گا۔ دریں اثناء عمران خان توشہ خانہ کیس میں کرپٹ پریکٹسز اور فارن فنڈنگ کیس میں نا اہل ہونے کے بعد عدالتوں میں فوجداری کارروائی کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔

عمران خان کی عدم استحکام پیدا کرنے کی سیاست ایک طرف، لیکن دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت بھی معاشی بہتری کے حوالے سے عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی۔ معاشی بحران، تیل، بجلی، گیس کی کمی اور ریٹس، مہنگائی اور امن عامہ کی صورتحال کو کس طور بھی اطمینان بخش نہیں کہا جا سکتا۔ پی ڈی ایم و اتحادی جماعتوں کی موجودہ حکومت کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے خارجہ امور، معیشت اور حالات کو جس زوال کی طرف ڈال دیا تھا، اس سے ملک کو بچایا اور آئی ایم ایف و دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاملات سلجھائے ہیں۔

لیکن یہ ابھی کافی نہیں کیونکہ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ معیشت کی حالت یہ ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کی تنزلی رک نہیں پا رہی، بجٹ خسارا بے قابو ہے، درآمدات پر جبری کنٹرول کے باوجود ادائیگیوں کا توازن بگڑا ہوا ہے، لارج سکیل مینوفیکچرنگ نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، برآمدات مایوس کن ہیں، امپورٹرز اور ایکسپورٹرز ایل سیز نہ کھلنے کے مسائل سے دوچار ہیں اور بنکوں کے قرضوں پر ناقابل برداشت بلند شرح سود نے زرعی، صنعتی اور کاروباری شعبے کی بس کرا دی ہے۔

حکومت سیاسی اور انتظامی محاذ پر دباؤ کی وجہ معاشی بہتری کے لئے کیے گئے اقدامات کو آگے بڑھا نہیں پا رہی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہنگامی طور پر انتظامی اخراجات پر کٹ لگایا جائے، کابینہ کے سائز کو فوری ممکنہ حد تک کم کیا جائے، اشد ضرورت کے علاوہ وزراء اور اعلٰی حکام کے غیر ملکی دوروں پر پابندی لگائی جائے اور بچت کر کے عام شہری کو ممکنہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں نے مشکل حالات میں اپنا سیاسی اثاثہ اور ساکھ داؤ پر لگا کر اقتدار حاصل کیا، اور ملک اور معیشت کو سنبھالا دینے کے چیلنج کو قبول کیا اور اب اس مقصد کے حصول کے لئے اسے یقیناً ضروری وقت درکار ہے۔

موجودہ حالات کے پیش نظر اب عام انتخابات سے زیادہ معاشی استحکام ملک کی اولین ضرورت ہے۔ عمران خان ملک کے دو بڑے صوبوں اور گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر مین حکومتیں سنبھالے بیٹھے ہیں اور عام انتخابات مقررہ وقت پر بھی ہو جائیں تو اتنا فرق نہیں پڑتا، لیکن اگر ان کی طرف سے پیدا کردہ عدم استحکام سے ملکی معیشت کو مزید نقصان پہنچتا ہے تو ملک اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ وقت کا تقاضا ہے تمام سیاسی جماعتیں ذمہ دارانہ کردار اپناتے ہوئے ملکی معیشت اور استحکام کا سوچیں اور آپس میں مل بیٹھ کر معیشت، انتخابی اصلاحات، نئی مردم شماری اور ملک کو عدم استحکام سے بچانے کے لائحہ عمل مرتب کریں آئین و جمہوریت کا تحفظ کریں۔

اس ملک کے عوام تو عمران حکومت اور موجودہ حکومت کی کمزور کارکردگیوں کی قیمت چکا ہی رہے ہیں اور اب سیاسی جماعتیں بھی سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ اس طرح اسٹیبلشمنٹ اور دیگر ریاستی ادارے بھی میک اینڈ بریک کی بجائے آئینی عملداری کی پالیسی پر کار بند ہوں اور پاکستان کو معاشی، سیاسی اور انتظامی بحرانوں سے باہر نکالیں۔

Facebook Comments HS