پیلے دی سامبا بوائے
سن 1950 میں برازیل میں منعقدہ فٹبال ورلڈ کپ کے فائنل میں برازیل، یوراگوئے سے ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست کھا گیا، اس شکست پر برازیلین عوام بے حد رنجیدہ تھے، کیونکہ فٹبال کو پوجنے والی قوم اب تک ایک بھی ورلڈ کپ نہیں جیت سکی تھی۔ لیکن 1954 میں سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والا فٹ بال کا ورلڈ کپ برازیل کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا جب برازیل کی ٹیم سیمی فائنل تک بھی رسائی حاصل نا کر سکی اور کواٹر فائنل میں ہنگری کی ٹیم سے دو کے مقابلے میں چار گول سے شکست کھا گئی۔
اس شکست کے بعد برازیلین فٹبال کنفیڈریشن پر ملک میں بے پناہ تنقید ہونا شروع ہو گئی۔ برازیلین فٹبال کو مستقبل کے چیلنجز سے ہم آہنگ کرنے کے لیے، مینجمنٹ نے بڑے غوروخوض کے بعد طے کیا کہ برازیل کو یورپین طرز کی فٹبال کھیلنا ہوگی۔ یورپین ٹیمیں زیادہ تر مضبوط دفاعی حکمت عملی کے تحت کھیلتی ہیں، جب کے لاطینی امریکہ کے ممالک کا کھیلنے کا انداز جارحانہ ہوتا ہے۔
جب برازیلین کھلاڑیوں کو یورپی طرز کی ٹریننگ دی گئی تو کھلاڑیوں کو اس انداز میں ڈھلنے کے لیے کافی مشکل پیش آئی کیونکہ یہ برازیلین فٹبالر کے کھیل کا قدرتی انداز نہیں تھا۔ برازیلین کھلاڑی اپنے مخصوص جینگا یا سامبا اسٹائل کے فٹبال کھیلنے کے لیے مشہور ہیں۔ جینگا اسٹائل میں فٹ بال کو چھوئے بغیر مگر اپنے کنٹرول میں رکھ کر مخالف کھلاڑیوں کو ڈاج دیا جاتا ہے یہ اسٹائل قدیم افریقی مارشل آرٹ تکنیک ’کیپوایرا‘ سے حاصل کی گئی، کیپوایرا مارشل آرٹ میں ایک مخصوص طریقے سے جھومتے اور لہراتے ہوئے جسم کے نچلے حصے اور ٹانگوں سے حملہ آور ہوا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ نو آبادیاتی دور میں جب افریقہ سے لوگوں کو غلام بنا کر برازیل لایا گیا تو یہ افراد موقع پا کر جنگلات میں بھاگ نکلے جب ان کو پکڑنے کے لیے جنگلات کا رخ کیا جاتا تو وہ اپنے اس مخصوص کیپوایرا انداز میں حملہ آور ہوتے۔ پھر جب نوآبادیاتی دور کا خاتمہ ہوا اور یہ لوگ جنگلوں سے نکل کر شہروں میں بسنے لگے تو اسی انداز کو فٹبال میں بھی اپنایا جسے جینگا یا سامبا اسٹائل کہا جانے لگا۔ اسی مناسبت سے برازیلین فٹبال ٹیم کو ’دی سامبا بوائز‘ بھی کہا جاتا ہے۔ جینگا اسٹائل میں فٹبالر جھومتے اور لہراتے ہوئے فٹبال کے ساتھ جمناسٹک کا مظاہرہ کرتا ہے اور مخالف کھلاڑیوں کو ڈاج دیتا ہے اور گول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسی طرح سولہ سالہ پیلے کو کلب لیول پر بہترین کارکردگی دکھانے پر جب برازیلین قومی فٹ بال ٹیم میں شامل کیا گیا تو ان کو بھی سخت ہدایات دی گئیں کہ وہ جینگا اسٹائل کی بجائے یورپی طرز کی فٹبال ہی کھیلیں۔ 1958 میں پیلے کو جب سویڈن میں ہونے والے ورلڈ کپ کی ٹیم میں شامل کیا گیا تو پیلے کی عمر محض سترہ برس تھی۔ پیلے کی بدقسمتی تھی کہ وہ ٹورنامنٹ کے آغاز میں ہی گھٹنے کی انجری کا شکار ہو گئے۔ ریکوری روم سے آنے کے بعد کوچ، پیلے کو روس کے خلاف میچ کھلانے سے ہچکچا رہے تھے لیکن ساتھی کھلاڑیوں کے کہنے پر کھیل کے دوسرے ہاف میں دس نمبر کی ٹی شرٹ پہنے ہوئے پیلے کو کھیلنے موقع دیا گیا، روس کے خلاف میچ میں پیلے نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا۔
اور پھر وہ دن بھی آ گیا جب پیلے کو سیمی فائنل میں فرانس کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا اس میچ میں پیلے نے مینجمنٹ کی ہدایات کو مکمل نظرانداز کر دیا اور اپنا نیچرل جینگا اسٹائل اپنایا جس کی بدولت سیمی فائنل میں پیلے نے ہیٹ ٹرک کی اور فرانس کو ایک کے مقابلے میں پانچ گولوں سے شکست دے دی۔ اس کے بعد فائنل میں برازیل نے سویڈن کو دو کے مقابلے میں پانچ گولوں سے شکست دی۔ اس میچ میں جینگا اسٹائل میں پیلے کا وہ گول جو ڈیفینڈر کے اوپر سے گھما کر جال میں پھینکا گیا اس گول کو ورلڈ کپ کی تاریخ کا ایک بہترین گول مانا جاتا ہے۔ فائنل میں پیلے نے دو گول کیے۔ پیلے کی بدولت، برازیلین ٹیم کی 1958 کے ورلڈ کپ کی فتح کے بعد جینگا یا سامبا اسٹائل برازیلین ٹیم کے لیے لازم ملزوم ہو گئے۔ پیلے سے لے کر آج کے نیمار تک برازیلین ٹیم کا ہر کھلاڑی جینگا یا سامبا اسٹائل ہی کھیلتا ہے۔
پیلے کی پیدائش ایک انتہائی غریب گھرانے میں ہوئی۔ ان کی پیدائش پر ان کا نام ان کے والد نے مشہور سائنسدان تھامس ایڈیسن سے متاثر ہو کر ایڈیسن رکھا تھا۔ اور وہ پیلے کو بھی سائنسدان بنانا چاہتے تھے۔ لیکن پیلے فٹبال میں بے حد دلچسپی لیتے تھے اور اپنے پسندیدہ گول کیپر ’بیلے‘ سے بہت متاثر تھے جس کی وجہ سے ان کے اسکول کے دوست ان کو بیلے پکارنے لگے جو بعد میں بگڑ کر پیلے بن گیا اور پھر وہ پیلے کے نام سے ہی معروف ہوئے۔
زندگی میں پیلے نے اس سے زیادہ حاصل کیا جس کی کوئی کھلاڑی توقع کر سکتا ہے۔ فٹبال کا آج بھی جو ریکارڈ ٹوٹتا ہے وہ پیلے کا ہی بنایا ہوا ہوتا ہے۔ آج بھی وہ واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے تین ورلڈ کپ جیتے۔ اپنے کیریئر میں پیلے نے 92 ہیٹ ٹرکس کیں۔ ان کو 1961 میں برازیل کا قومی اثاثہ قرار دیا گیا، ان کے نام پر ڈاک کے ٹکٹ کا اجرا کیا گیا۔ پیلے نے صدی کے عظیم ایتھلیٹ کا اعزاز حاصل کیا۔ دیگر انسانی فلاحی کاموں کے سفیر رہنے کے علاوہ پیلے کو فٹبال کا عالمی سفیر بننے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ 1969 میں جب پیلے اپنے کلب ٹیم کے ہمراہ افریقی ممالک کے دورے پر تھے تو نائجیریا کی خانہ جنگی کے دوران دو متحارب گروپوں نے صرف پیلے کو کھیلتا دیکھنے کے لیے عارضی جنگ بندی کی۔
سر بابی چارلٹن کے بقول، فٹبال ایجاد ہی پیلے کے لیے ہوا۔ اور خود پیلے کے نزدیک فٹبال کی حیثیت ویسی ہی تھی جیسے بیتھ اوون کے لیے موسیقی یا مائیکل اینجلو کے لیے پینٹنگ۔



