بری عادات سے اجتناب
بری عادات کی بہت سی وجوہات ہیں۔ جس طرح تکبر۔
تکبر دراصل یہ کیا؟ تکبر اصل میں اپنے آپ کو اعلیٰ و ارفع اور افضل سمجھنا اس کی نسبت دوسروں کو بہت ہی گرا ہوا اور حقیر سمجھنا ہے۔ تکبر ایک بہت بڑی بیماری ہے۔ اس بیماری میں مبتلا شخص کو متکبر اور مغرور کہا جاتا ہے۔ لیکن اصل میں اس طرح کا شخص خود کو دھوکا دے رہا ہے۔
تکبر انسان میں کیسے پیدا ہوتا ہے؟ بغض اوقات انسان میں تکبر کثرت علم، عبادت و ریاضت، مال و دولت کی کثرت، حسب اور نسب پر فخر، عہد و منصب، کامیابی و کامرانی کے حصول، حسن و جمال اور طاقت و قوت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ تکبر کرنے والا شخص کبھی جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا، وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
غرور و تکبر کی کئی صورتیں ہیں، جیسے حق کی بات کا انکار، دوسروں کو حقیر جاننا، زمین پر آکڑ آکڑ کر چلنا، کپڑے زمین پر گھسیٹتے ہوئے چلنا، اپنے سے کم مال و دولت والے کے پاس بیٹھنے سے نفرت کرنا۔ تکبر کا خاتمہ کیسے ہوتا ہے؟ سلام میں پہل کرنا، کسی شخص کی نصیحت کو قبول کرنا، ہر بات پر غصہ نہ کرنا اور کسی کو حقیر نہ سمجھنے سے تکبر کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جب فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو تو ابلیس نے انکار کر دیا۔ ابلیس کے انکار کرنے کی وجہ یہی تکبر تھی۔ اب وہ کافروں سے بھی زیادہ بد تر ہے۔ جب کوئی انسان تکبر کا شکار ہوجاتا ہے تو وہ جھوٹی انا کے تحفظ کے لیے برے اخلاق کا سہارا لیتا ہے۔ اس نحوست کی وجہ سے انسان جھوٹ، غیبت، گالی گلوج اور دیگر بری عادتوں کا شکار ہوجاتا ہے۔
*حسد*
اسی طرح حسد بھی ایک بہت بری بیماری ہے۔
حسد کب پیدا ہوتا ہے؟ اور اس کی وجہ کیا ہے؟ حسد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی انسان کسی دوسرے انسان کے پاس اللہ کی دی ہوئی نعمتیں دیکھ کر نا شکری کی روش اختیار کر لیتا ہے۔ وہ انسان اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا۔ بلکہ یہ سوچتا ہے کہ کاش جو دوسرے کے پاس ہے وہ بھی مجھے ہی مل جائے۔
لیکن اگر کوئی انسان یہ سوچتا ہے کہ جو نعمت دوسرے انسان کو اللہ نے دی ہے وہ اللہ مجھے بھی دیتا تو بات کو رشک کہتے ہیں۔ قرآن و سنت میں حسد کو پسند نہیں کیا گیا۔ لیکن رشک کی اجازت دی گئی ہے۔ حسد کرنے والوں کو حاسد کہتے ہیں۔ حسد سے بچو، حسد نیکیوں کو اس طرح کھاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو۔
حسد کی اصل وجہ کیا ہے؟ حسد کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حاسد خود محنت نہیں کرتا۔ اگر وہ خود محنت کرتا تو اس کے بھی اللہ کی نعمتیں ہوتیں۔ وہ اس طرح حسد کی آگ میں نہ جلتا۔ دوسری وجہ دعا نہ کرنا ہے۔ لالچ میں مست رہنا حسد کی بنیادی علامات ہیں۔ جو شخص کسی کی برائی چاہے وہ حاسد ہے۔ حاسد ہمیشہ اپنا نقصان خود کر رہا ہوتا ہے۔ جیسے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو نا پسند کر کے اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کر رہا ہے۔
انسان جب حسد جیسی گھٹیا حرکت کرتا ہے۔ وہ دنیا و آخرت میں ناکام ہو جاتا ہے۔ اور بعض اوقات انسان اس حد تک گر جاتا ہے کہ وہ قتل و غارت پر بھی اتر آتا ہے۔ جیسے کہ قابیل نے حسد کی وجہ سے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔ انسان جب اس طرح کی گھٹیا قسم کی حرکت کرتا ہے تو وہ دنیا و آخرت میں ناکام ہوجاتا ہے۔ معاشرے کو مثبت کی بجائے منفی جذبات اور عوامل کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی تخلیق کا مقصد بھی کھو بیٹھتا ہے۔ اور مایوسی کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ جیسا کہ یہود مدینہ صرف حسد کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے سے محروم رہے۔
حسد سے کیسے بچیں؟ رات کو سوتے وقت پورے دن کا تجزیہ کریں کہ میں نے دل میں کسی کا بارے میں کوئی حسد تو نہیں رکھا۔ اگر خود کو اس طرح کے جذبات کا مرتکب پائیں تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ رسالت میں توبہ استغفار کریں۔ اور سب کے لئے خیر و برکت کی دعا کریں۔
نبی کریم ﷺ ہر روز سونے سے پہلے حسد سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ کر سوتے تھے، آپ ﷺ معوذ تین ) سورت الفلق اور سورۃ الناس (اور آیت الکرسی پڑھ کر اور اپنے ہاتھ پر پھونک مار کر پورے جسم پر مل لیتے۔


