پاکستان کی معاشی ترقی میں مسجد کا کردار
معاشی اشاریوں کے مطابق پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین معاشی حالات سے گزر رہا ہے۔ بے روزگاری کا مرض عروج پر ہے، مہنگائی کے عفریت نے کمر توڑ رکھی ہے، آٹے جیسی بنیادی ضرورت اس زرعی ملک میں غریب کی پہنچ سے دور بلکہ ناپید ہوئی جاتی ہے۔ گاڑیاں بنانے والی 2 بڑی کمپنیوں نے اپنے کارخانے پرزہ جات درآمدات رکنے کی وجہ سے بند کر دیے۔ یہ سب پریشانیاں اپنی جگہ اہم اور پریشان کن ہیں مگر میرے لئے اس سے زیادہ پریشانی کی بات یہ کہ آئندہ دہائی میں ہمارے ساتھ کیا ہو گا اگر ہم نے توجہ نہ دی اور وہ پریشانی ہے ہمارے نوجوان کو روزگار کے مواقع کا میسر آنا۔
یو این ڈی پی کی 2018 کی ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 64 فی صد آبادی جون ہے یعنی 30 سال سے کم عمر۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ ہمارے ملک میں جوان آبادی زیادہ ہے البتہ پریشانی کی صورتحال ہے ان جوانوں کو روزگار کے مواقع میسر نہ آنا اس لئے کہ تقریباً 60 فی صد جوان بے روزگار ہے۔
اس سلسلے میں مختلف حکومتوں نے جوانوں کو اپنے کاروبار کی طرف راغب کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جیسا کہ وزیراعظم نوجوان قرضہ جات، کامیاب جوان پروگرام یا نیشنل انکیوبیشن سینٹرز یا ایچ ای سی اور جامعات کی طرف سے انکیوبیشن سینٹرز وغیرہ کا فعال ہونا۔ یہ تمام اقدامات احسن ہیں اور ان سے کسی قدر جوانوں میں اپنا کاروبار کرنے کی طرف رجحان میں اضافہ بھی ہوا ہے۔
اس سلسلے میں مسجد کا بہت ہی کلیدی کردار ہو سکتا ہے 2012 کی ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں 900 کے قریب مساجد تھیں اس وقت اسلام آباد کی آبادی 20 لاکھ کے قریب تھی یعنی اس اعتبار سے 220 افراد کے لئے ایک مسجد اس وقت پاکستان کی آبادی 23 کروڑ 16 لاکھ 37 ہزار کے قریب ہے یعنی پاکستان میں تقریباً 10 لاکھ 53 ہزار مساجد ہیں۔
ہر مسجد کے نمازیوں میں یقیناً کامیاب تاجر، کارخانہ مالک، آڑھتی، ہول سیلر، دکاندار یا کاشتکار کی صورت میں ضرور موجود ہوتے ہیں۔ اگر یہ کامیاب کاروباری شخصیات اپنے تجربے سے نوجوانوں کو روشناس کروائیں مزید یہ کہ ان کو اپنے کاروبار پر ٹریننگ کے لئے اپرینٹس یا انٹرن کے طور پر بھی موقع دیں تو ہمارے بہت سارے جوان کامیاب تاجر بن سکتے ہیں اور یہ کامیاب جوان تاجر کئی اور لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں یہ بھی عرض کر دوں کہ خداوند متعال کو کاروبار کرنا پسند ہے جس کی واضح دلیل قرآن حکیم کا سورہ قریش ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے قریشیوں کے قافلوں کو گرمی اور سردی کے راستوں سے مانوس کرنے کا تذکرہ کیا ہے اور انہیں ان راستوں کے ذریعے بھوک سے نجات دلائی یعنی ان کی معیشت کو بہتر کیا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت ہاشم علیہ السلام نے قریشیوں کے قبیلوں کو اکٹھا کیا پیسے جمع کیے اور گرمی میں تجارت کے لئے شام و فلسطین کا سفر کرتے اور سردی میں مصر، یمن و حبشہ کا سفر کیا کرتے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت یوسف و موسی علیہم السلام کے علاوہ کسی بھی پیغمبر خدا نے ملازمت نہیں کی بلکہ زراعت کی، غلہ بانی کی یا تجارت کی اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اور اہلبیت علیہم السلام میں سے بھی اکثریت زراعت، غلہ بانی یا تجارت کرتے تھے۔
ہمارے علماء و مشائخ و مساجد کا کردار پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی ہے
آبیاری چمن!
۔
کچھ وقت لگے گا!
الجھنیں سلجھانے میں
صنم کدۂ دل کے بت توڑنے میں
کچھ وقت لگے گا!
منبر و محراب کی صداؤں میں مسئلۂ سماج لانے میں
کچھ وقت لگے گا!
بازار بے حجابی و بے حیائی تھمنے میں
بے روزگاری کے مرض پہ قابو پانے میں
اپنے کاروبار کی خو ڈالنے میں
کچھ وقت لگے گا!
طلاب علم کی راہنمائی میں انتخاب مضموں و میداں کی منصوبہ بندی میں
کچھ وقت لگے گا!
مسجدوں کو مثل مسجد النبی (ص) بنانے میں
ان کو درسگاہوں میں منتقل کرنے میں
ابھی کچھ وقت لگے گا!
سنت نکاح کو آسان بنانے میں
باطل رکاوٹوں کو ہٹانے میں
کچھ وقت لگے گا!
ہوگی بازپرس سماجی مسائل میں
مولوی صاحب کو یہ سمجھانے میں
کچھ وقت لگے گا!
یہ ذمہ ہے ہر واعظ و مبلغ و مدرس کا
معاشرے کے ہر ذی شعور فرد کا
یہ سمجھنے سمجھانے میں
کچھ وقت لگے گا
”ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ“
اس کو چمکانے میں ابھارنے میں
کچھ وقت لگے گا!
راہزنوں سے وطن کو بچانے میں
ان بتوں کو توڑ گرانے میں
کچھ وقت لگے گا!
مگر اب تاخیر کی گنجائش ہی کہاں!
مردانہ وار میدان میں آنے میں
اب کچھ وقت نہ لگے گا!
عقل و خرد و جنوں کو منزل دکھانے میں
مخلص و بصیر میر کارواں کو پہچاننے میں
سنگ بستہ راہوں پہ چلنے میں
ویران زمینوں کو آباد کرنے میں
آبیاری چمن کا ساماں کرنے میں
ہاں مگر
کچھ وقت لگے گا
(ڈاکٹر ظہیر کاظمی)



بہت اعلیٰ سر۔ آپ کے تجربے، علم اور وژن کا عکس ہے یہ تحریر