ڈالر خرید لو


میرے ایک بزرگ دوست نے نصیحت کی کہ ڈالر خریدتے رہنا چاہئیں، بہت ہی منافع بخش کام ہے۔ وہ میرا پہلا یا اکلوتا محسن نہیں تھا جس نے یہ مفید مشورہ دیا ہو۔ آپ کو بھی اکثر و بیشتر دوستوں اور رشتے داروں کی طرف سے ڈالر خریدنے کے مشورے ملتے ہوں گے۔ شروع شروع میں تو دوستوں کے اس مشورے پر کان نہ دھرنے کا پکا پکا ارادہ کر لیا تھا بالکل پکی پکی معشوق کے اٹل ارادے کی طرح۔ لیکن جب کسی کام کے حق میں ووٹ بڑھ جائیں تو کسی بھی جمہوریت پسند آدمی کے کان نہ دھرنے کے پکے ارادے بھی دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا ذہن بالآخر یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ کیا واقعی ڈالر خریدنا اتنا منافع بخش کام ہے؟ کیا اس سے بیٹھے بٹھائے اتنی آمدنی ممکن ہے کہ بندے کا گھر چل جائے؟

بس یہی سوالات تھے جن کے تسلی بخش جوابات ڈالر خریدے بغیر ملنا ہرگز ممکن نہ تھے۔ تبھی ڈالر خریدنے کا خطرہ مول لینا پڑا۔ خطرہ یوں کہ بیگم حساب کتاب کے معاملے میں ذرا سختی سے کام لیتی ہیں، بلکہ اس جملے میں ”ذرا“ کو اضافی تصور کر لیں۔ پیسوں کے معاملے میں ان کا فیصلہ آخری ہوتا ہے۔ آخری تو خیر پیسوں کے ہی نہیں! ہر معاملے میں ہی ہوتا ہے۔ آپ کا بھی یقیناً تجربہ رہا ہو گا کہ گھر میں بیگم کی حیثیت سپریم کورٹ کی سی ہوتی ہے۔

خیر! تو ہوا یوں کہ ایک بھلے دن جب چند روپے جیب پر بھاری پڑے تو میں نے ڈالر خریدنے کے لیے بس پکڑ لی۔ دوران سفر ایک انجان ہمسفر کی آغوش میں بچھے اخبار پر نظر پڑی اور وزیر و مشیر کرتا و دھرتا شیخ صاحب کا بیان نظر سے گزرا کہ ڈالر اب نیچے آ جائے گا۔ بیان پڑھنے کے بعد میں تو بس سے نیچے آ گیا لیکن ڈالر نیچے نہیں آیا۔

پھر کچھ وقت کے بعد کچھ رقم ہاتھ لگی تو ایک دوست سے ذرا دیر کے لیے موٹر سائیکل مانگ لی کہ ڈالر خریدنے جانا ہے۔ دوست نے موٹر سائیکل کی چابی کے بجائے اپنا موبائل تھما دیا۔ سوشل میڈیا پر آل راؤنڈر تجزیہ نگاروں کا میدان سج چکا تھا اور زیر بحث موضوع ترین کی ڈالر پر بہترین گرفت تھا۔ اس بار ترین نے ڈالر کو کنٹرول کرنے کا عزم کر کے ہمارے عزم کا جنازہ نکال دیا۔ دن گزرے اور پھر مہینے، لیکن ڈالر کا عزم ترین صاحب کے عزم پر بھاری ثابت ہوا۔

اگلی بار کچھ پیسے بچائے تو پیدل ہی ڈالر خریدنے نکل پڑا۔ راستے میں قاسم بھائی کے ڈھابے کے سامنے سے پائنچے اٹھا اٹھا کر کیچڑ اور پانی سے بچ بچا کر نکلنے کی غرض سے رفتار کچھ کم ہوئی تو ڈھابے سے ٹی وی کی بلند آواز نے پورے پلان پر پانی پھیر دیا۔ ڈالر اب اسمائیل کے میزائل کے نشانے پر تھا۔ اور دعویٰ ہو رہا تھا کہ ڈالر کی اڑان کو بہت جلد روک لیا جائے ہے۔ میرے قدم وہیں رک گئے مگر ڈالر کہیں رکا نہ اس کی اڑان۔

اب بہت ہو چکا! اس بار پکا ارادہ کر لیا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ڈالر خریدے بغیر واپس نہیں آنا۔ اس دن محض ہاتھ دھو کر نہیں بلکہ منہ ہاتھ دھو کر گھر سے ڈالر خریدنے کے لیے نکلنا تھا۔ مگر پیسے گننے کی آواز سن کر بیگم نے سلاد کاٹنے کا فیصلہ موخر کر دیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ پوچھا کس منحوس پر خرچنے کا ارادہ ہے؟ ایک تو پوچھا اچانک، دوسرا یہ کہ پوچھا بھی بیگم نے، تیسرا یہ کہ پوچھا بھی شک کی نگاہ سے، اور چوتھا یہ کہ سلاد کاٹنے والی چھری بھی ابھی تک ہاتھ میں!

مرتا کیا نہ کرتا، جھٹ سے بتا دیا۔ ڈالر خریدنے کا سنتے ہی بھڑک گئیں۔ پیسے اپنے قبضے میں لے کر فرمانے لگیں ادھر ڈار نے وار کر دیا ہے کہ ڈالر دو سو سے نیچے آ جائے گا اور ادھر تم ڈالر خریدنے چل پڑے ہو! عقل کیا گھاس چرنے گئی ہے! ؟ ہم نے ادب سے انکار میں جھکا ہوا سر ہلایا اور چپ چاپ سلاد چرنے بیٹھ گئے۔ اب کیا ہو سکتا تھا؟ اب تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا! سپریم کورٹ سے فیصلہ آ جائے تو نظر ثانی کا موقع مل سکتا ہے لیکن بیگم کے فیصلے کے بعد تو قلم کی نوک ٹوٹ جایا کرتی ہے۔

آج بھی جب بزرگ دوست کی بڑی گاڑی میں لفٹ لے کر آفس سے گھر آنا ہوتا ہے تو دل کسی سوشل میڈیا ٹرول کی طرح وزرائے خزانہ کو شدت سے یاد کرتا ہے۔ کاش! ہمارے وزرائے خزانہ کو عقل و ہدایت نصیب ہو کہ اگر وہ ملکی معیشت بہتر کرنے سے گریزاں ہیں تو جھوٹے دعووں سے بھی گریز کریں۔ کم از کم کسی جمہوریت پسند کو ڈالر خرید کر کچھ سوالوں کے تسلی بخش جواب تو مل جائیں۔

Latest posts by ایاز علی رند (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments