خیبر پختونخوا: ایک دیا ہے بہت روشنی کے لئے
ملک کے دور دراز علاقوں کی اگر بات کی جائے تو ہم اکثر یہ کہتے اور سنتے رہتے ہیں کہ وہاں مختلف قسم کی سہولیات کی کمی ہے یا سرے سے موجود ہی نہیں ہیں مگر آج میں ملک کے ایک بہت پسماندہ اور نہایت دور دراز علاقے کی بات کرتے ہوئے مسرت محسوس کر رہی ہوں کہ جہاں یقیناً بہت سی بنیادی ضروریات کی کمی ہوگی لیکن ایک انتہائی اہم بنیادی ضرورت جسے ذاتی طور پر میں زندگی کے لئے تیسری لازمی ضرورت محسوس کرتی ہوں بہت اعلی معیار کے ساتھ موجود ہے اور ہم سب کے لئے باعث فخر بھی ہے میں بات کر رہی ہوں خیبر پختون خوا کے صوبے کی اور وہ بنیادی سہولت ہے لڑکیوں کے لئے معیاری تعلیم کی مسلسل فراہمی کی۔
اپنے بچپن سے صوبہ خیبر پختون خوا کے بارے ایک خاص تاثر ذہن میں ہمیشہ موجود پایا کہ وہ ہم سے مختلف روایات، سوچ، اور خاص طور پر لڑکیوں یا خواتین کے لئے الگ قسم کی تحاریک رکھتا ہے پھر وہ قدامت پسند بھی نظر آئیں اور دل و دماغ سے متصادم بھی، پھر تاریخ کے مختلف واقعات سے یہ بھی دیکھا کہ جدید دنیا کی کسی بھی مثبت اور منفی تبدیلی کو قبول کرنا تو درکنار اپنے قریب آنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی تھی یہی خاص ذہنیت لیے میں نے اپنا پہلا خیبر پختونخوا کا سفر شروع کیا راستے بھر وہی خاص خیالات کے ساتھ اپنی منصوبہ بندی پر عمل درآمد ناممکن کو ممکن بنانے کی سعی میں سوچ کے زاویے کبھی مثبت اور کبھی منفی ہو کر وہیں کہیں راستے میں موجود پہاڑوں میں تحلیل ہو رہے تھے۔
راستے کی جغرافیائی حیثیت و اہمیت ہی ارادوں کی ناکامی پر مہر ثبت کر رہی تھی ہزاروں میلوں پر مشتمل پر خطر راستہ جہاں حد نظر صرف پہاڑ اور کھائیاں ہی تھیں کچھ خوف اور کچھ اندیشے اور کچھ نیا کرنے کا عزم بار بار زندہ کر کہ کچھ حاصل کرنے اور کچھ اپنا محدود علم اور مہارتیں بانٹنے کا حوصلہ زندہ رکھتے رکھتے آخر کار ہم اپنی منزل مقصود پہنچ گئے جو کہ خیبر پختونخوا کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جو کہ سوات سے بھی آگے شمالی علاقہ جات کا حصہ بھی تھا اور ایک پہاڑی مقام بھی تھا۔
ایک معروف این جی او کی طرف سے بھیجی گئی میں ایک تدریسی مہارتوں کی حامل ادنی سی کارکن نے تو جب اس عظیم الشان ادارے کو دیکھ کر حیرت انگیز خوشی کی لہر میرے اندر سرایت کر گئی اپنی خدمات دوردراز علاقوں تک پہنچانے کی خواہش میرے لیے خوشگوار تجربہ ثابت ہونے کی طرف یہ پہلا قدم تھا اس تعلیمی ادارے کی بچیوں اور اساتذہ سے مل کر ان کا بلند حوصلہ اور تعلیم حاصل کرنے اور پھیلانے کی جستجو کو محسوس کیا جو کہ ناقابل بیان حد تک خوشگوار تھا ایک مختلف ثقافت، معاشرت اور ہزار ہا جائز و ناجائز پابندیوں کے باوجود ان اساتذہ اور بچیوں کی لگن، کاوش انتہائی بہترین تھی اپنے قیام اور فرائض کی ادائیگی کے دوران میں نے محسوس کیا وہاں کی بچیاں اور اساتذہ کرام دونوں ہی کسی بھی طرح کسی بھی علاقے کی بچیوں اور اساتذہ سے کم نہیں تھے۔
وہاں کے والدین کا اس خاص ماحول میں اپنی بچیوں کو تعلیم دلوانا اور دور دراز علاقوں تک بھیجنا قابل ستائش ہے اس ادارے کی نصابی سر گرمیاں کسی بھی اچھے شہری علاقے کے اچھے ادارے سے موازنہ کی جا سکتی ہیں نہ صرف تعلیمی معیار بلکہ دی گئی سہولیات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتیں اور اگر بات کی جائے ہم نصابی سر گرمیوں کی تو کئی اچھے شہری اداروں سے بڑھ کر دی جا رہی ہیں جو کہ ایک اور غیر معمولی بات ہے۔
خوش آئند بات یہ کہ اس خاص مزاج و ثقافت کے حامل علاقے میں اس ادارے میں خواتین اساتذہ کرام کے ساتھ مرد اساتذہ کرام بھی تعلیم کی فراہمی اور فروغ میں پیش پیش ہیں جو کہ بچیوں کے اس تعلیمی ادارے کے لئے باعث فخر ہے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران خواتین اور مرد اساتذہ کرام سے بات چیت کا موقع ملا ان خیالات اور تصورات سن کر ان جذبات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ ان کی جدوجہد انشاءاللہ ضرور رنگ لائے گی اور اس پسماندہ علاقے سے بھی کئی مستقبل کے سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر، فنکار، آرٹسٹ، اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین اپنی اور ملک کی ترقی میں اپنا اور اپنے علاقے کا افتخار بن سکیں گے۔
اس پہاڑی مقام میں موسم کی سختیاں بھی الگ ہی روش لئے ہوئے ہوتی ہیں پھر اس سخت سردی کے موسم میں میلوں دور دراز سفر کرنا بھی ایک دشوار عمل ہے جس کی انجام دہی اس سے بھی بڑھ کر ناممکنات میں سے ایک اس کمی کو دور کرنے کے لئے نہ صرف بچیوں اور ان کے والدین کو رضامند کرنا بلکہ ان کے لئے ٹرانسپورٹ کا انتظام اور سہولت دینا بھی صدقہ جاریہ کی ہی حصہ ہے پھر یہ سب سہولیات بغیر کسی معاوضے کے مفت فراہم کرنا نہایت مثبت و عمل خیر ہے جس کا اجر ناقابل بیان ہے۔
اپنے کئی برس پر محیط پروفیشنل کیریئر میں ان خاص حالات اور خصوصی ماحول میں کام کرنے کا میرا پہلا تجربہ تھا نومبر، دسمبر کی شمالی علاقہ جات کی سخت سردی میں بچیوں اور اساتذہ کی گرم جوشی، ان کا اتنا متحرک ہونا بہت خوشگوار تجربہ تھا اپنی ذاتی کیفیات اور موسم کے اثرات پس پشت ڈال کر نئی امنگ، جوش و جذبے سے اساتذہ کو تدریسی فنی مہارتیں سکھانے اور سیکھنے کے عمل نئی تحقیق و طریقوں سے آگاہی کے عمل میں خود کو اتنا محو پا کر مجھے خود خوشگوار حیرت ہو رہی تھی اور خوشی بھی۔
نت نئی مہارتوں کے اضافے کے لئے جدید طریقے اختیار کروانا مختلف سرگرمیاں اور لائحہ عمل بتانا ایک دلچسپ مشغلے میں تبدیل ہو گیا ایک طرف یہ سب کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی تھی تو اپنے خالق کائنات کی اس کرم نوازی اس عنایت پر اس رب عظیم کی انتہائی شکر گزار بھی تھی کہ اس نے اس عظیم ذمہ داری کے قابل بنایا اور منتخب کیا۔
بلاشبہ ان اساتذہ کرام اور بچیوں کے مسکراتے چہرے ان کی آنکھوں میں نیا کچھ سیکھنے کی امنگ مجھے بہت کچھ کر نے پر مجبور کر رہی تھی اور حتی المقدور کیا بھی۔ اسی کاوش نے مجھے ان لوگوں سے ایک مضبوط بندھن میں باندھ دیا جو یقیناً ہمیشہ قائم رہے گا۔
ایک طویل عرصے سے تدریس اور اس سے منسلک شعبوں سے وابستہ ہونے کی وجہ سے کئی قومی اور ملی تہوار تعلیمی اداروں میں منانے اور دیکھنے کا اتفاق ہوتا رہا ہے لیکن ایک ناقابل بیان خوشگوار حیرت یوم اقبال کا پروگرام اس شان اور مختلف انداز سے کبھی اور کہیں نہیں دیکھا جو وہاں ان شمالی علاقہ جات کے اس اسکول میں دیکھا بچیوں نے اپنے قومی شاعر کا کلام کا انتخاب اس طرح کیا کہ ان موضوعات کو تلاش کیا کہ جن پر پشتو کے نامور شاعر خوش حال خان خٹک اور علامہ اقبال دونوں نے شاعری کی پھر ان کے شعروں کا موازنہ کیا اور ان میں موجود پیغام کو عام فہم الفاظ میں سامعین تک پہنچایا جو کہ ایک اہم کام ہے۔
اپنے اس پیشے سے وابستہ ہونے پر ہمیشہ ہی اللہ تبارک تعالی کی شکر گزار رہتی ہوں اور اب تک کئی ٹریننگ سیشنز کرا چکی ہوں لیکن جو اطمینان اور قلبی راحت اس ادارے کے اساتذہ تک اپنا تھوڑا سا علم بانٹ کر محسوس ہوئی وہ اس سے پہلے کبھی محسوس نہیں کی گئی ان کے مشاہدات سے لے کر ان کی سہولت کار بننے تک کا عمل نہایت سکوں بخش رہا اس لامتناہی جہالت کے اندھیروں میں وہ ایک اسکول، وہ ادارہ ایک روشن دیے کا کام انتہائی کامیابی سے کر رہا ہے ضرورت ہے کہ ہم اس طرح کے اداروں کو مکمل سپورٹ کریں کیونکہ
زندگی کے اندھیروں میں جل جائے تو
اک دیا ہے بہت روشنی کے لئے


