"گل نوخیز کا "نسخہ ہائے مزاح


میرے ہاتھ میں ”نسخہ ہائے مزاح“ ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ اس کتاب کا میرے ہاتھوں میں آنا ہی میری خوش نصیبی ہے۔ دوسری اور تیسری بات بھی یہی ہے۔ یہ معروف کالم نگار کا بھیجا ہوا تحفہ ہے۔ میں نے سب سے پہلے تو اس کتاب کی خوشبو اپنے اندر اتاری کہ مجھے نئی کتابوں کی خوشبو بہت پسند ہے۔ پھر عقیدت سے اس کو پڑھا۔ گل نوخیز صاحب نے جس کھلکھلاتے انداز میں معاشرے کے مختلف پہلوؤں پہ لکھا ہے یہ ان ہی کا کمال ہے۔ یہ کتاب قاری کو پڑھنے، قہقہہ لگانے اور سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ ایسی جادوئی نثر لکھنا گل نوخیز صاحب کا ہی خاصہ ہے۔ یہ کتاب صحیح معنوں میں بے ساختہ قہقہے نکلوانے والی مشین ہے۔

کتاب میں موجود کالم ”لائی لگ“ ہے حد پسند آیا۔ اس میں انسانی نفسیات کو جس طرح بیان کیا گیا ہے یہ گل نوخیز کے سوا کوئی دوسرا نہیں کر سکتا تھا۔ ”i love u“ کی پسندیدگی کے پیچھے ایک وجہ تو ہرگز نہیں، یہ کالم کمال کالم ہے۔ اس میں انھوں نے حقیقت میں i love u کا حق ادا کیا ہے۔ گل نوخیز مزاح ہی مزاح میں سنجیدہ بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور ”مخبوط الحواس کالم“ لکھ ڈالتے ہیں۔ مردانہ خواہشیں بیان کرنی ہوں یا زنانہ شاپنگ، یا پھر دوسری شادی کی اجازت مانگنی ہو گل نوخیز یہ سب آسانی سے کر لیتے ہیں۔

”اقوال نوخیز“ بہت ہی زرخیز ہیں۔ ”رن مریدوں کی 28 نشانیاں“ پڑھتے ہوئے دل زار زار ہنسنے پہ مجبور ہو گیا۔ ”گرل فرینڈ“ ہو یا ”بوائے فرینڈ“ ان کو مشورہ ہے جس نے بھی ”لو میرج“ کرنی ہے وہ ایک بار اس کتاب کو ضرور پڑھے۔ نسخہ ہائے مزاح ہر لحاظ سے ایک بہترین کتاب ہے۔ گل نوخیز صاحب نے اپنے کالموں کے ذریعے ہنسی ہنسی میں وہ سب کہہ دیا ہے جس کو سنجیدہ انداز میں کہنے کے لیے بڑی ہمت چاہیے۔ اور اگر کسی کے پاس ہمت آ بھی جائے تب بھی ایسا لکھنے سے لوگ گریز کریں کہ کڑوا سچ کوئی نہیں سنتا۔ لیکن موصوف نہ صرف سچ سناتے ہیں بلکہ سنا کر لوگوں کے قہقہے بھی نکلواتے ہیں۔ ایسے رائٹر نہ ہونے کے برابر ہیں جو چہروں پہ مسکراہٹ لانے کا فن جانتے ہیں۔

اس کتاب میں جگہ جگہ قہقہے بکھرے نظر آتے ہیں۔ لیکن ان قہقہوں کے پیچھے صاحب کتاب نے کتنی سنجیدگی سے اس کو لکھا ہے اس طرف شاید ہی کسی کا دھیان جائے۔ کہ مزاح نگار کے بارے عموماً یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ کوئی بہت ہی چلبلا، شرارتی ہر وقت مزاح کرنے والا انسان ہو گا۔ دوسرے لفظوں میں بہت ہی مخولیا ہو گا۔ لیکن یقین کریں مزاح لکھنے والا مزاح نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انسان بھی ہوتا ہے جو ہر وقت ہنس نہیں سکتا۔ جس کی زندگی دوسرے انسانوں جیسی ہی ہوتی ہے۔ اور بات ہو اگر گل نوخیز اختر صاحب کی تو گل نوخیز اپنے کام کے حوالے سے بہت زیادہ سنجیدہ ہیں۔ مزاح کے ساتھ مذاق کرنا انھیں پسند نہیں، بلکہ ایسا کرنے والے پر یہ اہانت مزاح کا مقدمہ چلانا چاہتے ہیں۔

پتہ نہیں کیوں لوگ سمجھتے کہ مزاح نگاری بہت آسان ہے۔ یہ حقیقت میں ادب کی سب سے مشکل صنف ہے۔ آپ کوئی بھی دکھ بھری داستان سنا کر دوسروں کی آنکھ میں آسانی سے آنسو لا سکتے ہیں۔ لیکن قاری کو بوریت سے بچا کر سنجیدہ موضوع کو ہنسی ہنسی میں کہہ جانا ہی اصل فن کی معراج ہے۔ مزاح لکھنے کے لیے لکھاری کو خود تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور گل نوخیز صاحب نے اپنے لیے اس مشکل راہ کا انتخاب کیا ہے۔

موصوف کالم نگار، سکرپٹ رائٹر۔ اینکر، ایک معروف ٹی وی چینل کے پروگرام ڈائریکٹر ہیں، کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور دیکھیے کہ اس سب کے ساتھ ساتھ ایک عدد ”شوہر“ بھی ہیں۔ دیگر لوازمات کو پورا کرنے والے اکثر رائٹر زندگی میں ”شوہر“ کی بازی ہار جاتے ہیں۔ لیکن یہ ان کا کمال ہی ہے کہ صاحب اس مقام پر بھی باکمال سروس دیتے ہیں۔ یہ ایک آئیڈیل شخصیت کے مالک ہیں۔ میں ان سے سیکھتی ہوں اور یقین کریں اتنی ناموری کے بعد ان کی شخصیت میں جو انکساری دیکھی، اس نے مجھے پریشان کر دیا۔ کہ کوئی دو لفظ لکھ لے تو خود کو کوئی توپ چیز سمجھنے لگتا ہے لیکن حیرت ہے کہ اتنی کامیابیوں کے بعد بھی ان میں تکبر نام کو نہیں۔ ان کی فزیکلی اپیئرنس دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ یہ انسان ہی ہیں۔ ورنہ ان کے کام کی وجہ سے تو گمان تھا کہ یہ جن ہیں۔ کہ کوئی بھی انسان لگاتار 22، 22 گھنٹے کام نہیں کر سکتا۔ یہ اپنے کام کے ساتھ اتنا انصاف کرتے ہیں کہ کام کی وجہ سے اکثر اپنے ساتھ زیادتی کر جاتے ہیں۔ جب تک اپنے کام کو بہتر سے بہترین نہ کر لیں انھیں چین نہیں آتا۔

یہ ایک اعترافی کالم بھی ہے۔ جس میں میں اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ گل نوخیز اختر صاحب کا بہت بڑا احسان ہے مجھ پہ۔ جس کا بدلہ ان چند لفظوں میں ادا تو نہیں کر سکتی لیکن اعتراف تو کر سکتی ہوں۔ یہ اگر میرا حوصلہ نہیں بڑھاتے مجھے راہ نہیں دکھاتے تو میں زندگی کے مسائل میں الجھ کر ختم ہو چکی ہوتی۔ مجھے لکھنے پڑھنے کی طرف لگانے والے گل نوخیز صاحب ہی ہیں۔ یہ اگر میری حوصلہ افزائی نہ کرتے تو میں اس طرح لگاتار نہیں لکھ رہی ہوتی۔

تو مجھے اعتراف کرنا ہے کہ میں آج جو کچھ بھی لکھنے کے قابل ہوں اس کی وجہ جناب گل نوخیز صاحب ہی ہیں۔ یہ میرے لیے روشنی کی کرن نہیں پورا سورج بنے ہیں۔ اور ایسا صرف میرے ساتھ نہیں یہ ہر لکھنے والے یا والی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ داد بھی دیتے ہیں اور رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ یہ میرے محسن بھی ہیں اور استاد بھی۔ لیکن اس سے بھی پہلے یہ بہت اچھا دل رکھنے والے، خوبصورت اور آئیڈیل شخصیت کے مالک ہیں۔ تھینک یو سر۔

Facebook Comments HS