کراچی میں خون سستا اور نائن ایم ایم کی گولی مہنگی؟
تین کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کراچی کے باسی گزشتہ کئی برسوں سے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہیں۔ شہر میں مسلح لٹیرے دندناتے پھرتے ہیں۔ ایک نائن ایم ایم کا پستول۔ موٹر سائیکل۔ اور بس پھر بزرگ اور خواتین سمیت جس کو چاہتے ہیں، جب چاہتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں لوٹ لیتے ہیں اور مزاحمت پر چند سو روپے والی گولی چلا کر کسی کا باپ، کسی کا بھائی، کسی کا شوہر قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ماہرین معاشی صورت حال اور سماجی ناہمواریوں کو بھی شہر میں بڑھتے جرائم کی اہم وجوہات قرار دیتے ہیں مگر کیا یہ دعویٰ درست ہے۔
اور اگر اس دعوے کو درست مان بھی لیا جائے تو کراچی کے برعکس ملک کے دیگر شہروں میں ایسے واقعات آخر کم کیوں ہیں؟ اگر بغور شہر قائد کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہو گا کہ کراچی لاوارث ہو گیا ہے۔ شہریوں کا خون سستا ہو گیا ہے ۔ لوٹ مار کا بازار پہلے سے بھی زیادہ گرم ہو گیا ہے۔ صرف اسٹریٹ کرائم ہی نہیں بلکہ معمولی تنازعوں پر جان لینا معمول بھی بن گیا ہے۔ پولیس کا روایتی تفتیشی طریقہ بھی عام ہو گیا ہے۔
امن وامان کی بدترین صورتحال پر شہریوں کا گھر سے نکلنا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ وی آئی پیز کی حفاظت کے بعد 1200 شہریوں کے لئے صرف ایک پولیس والا رہ گیا ہے۔ ابھی خبر پڑھی تو رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نو عمر لڑکوں نے کوچنگ سینٹر میں گھس کر طالبعلم کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ملزمان جھگڑے کا بدلہ لینے کے لئے کلاشنکوف کے ہمراہ کوچنگ سینٹر جا پہنچے۔ ایک نے نشاندہی کی اور دوسرے نے طلبا اور اساتذہ کے سامنے برسٹ کھول دیا۔
مقتول کے والد کی مدعیت میں مقدمہ تو درج کر لیا گیا مگر آخر لاقانونیت اور پولیس کا خوف کیوں ختم ہوتے چلے جا رہا ہے؟ اسلحے کا آزادانہ استعمال کیسے ممکن ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں بھی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں گلشن اقبال ہی ایک ہوٹل پر چند ڈکیت کلاشنکوف اور آتشیں اسلحے کے ہمراہ بآسانی درجن سے زائد نوجوانوں کو لوٹ کر فرار ہو جاتے ہیں۔ بات اب پستول سے بڑھ کر کلاشنکوف تک جا پہنچی ہے۔ لوگ ڈر کے مارے مزاحمت کرنے کا سوچتے بھی نہیں اور جو مزاحمت کرتا ہے اس کے جسم میں چند سو روپے والی گولی داغ دی جاتی ہے اور زندگی کا چراغ گل کر دیا جاتا ہے۔ آخر یہ سلسلہ کب تک اس طرح جاری رہے گا؟
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کو فیصلہ کن بنانے اور ان کا جڑ سے خاتمہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے مگر یہ پہلی بار نہیں ماضی میں بھی متعدد بار ایسی ہدایتیں جاری کی گئیں۔ نتیجہ آخر کیا نکلا؟ سال 2022 میں اسٹریٹ کرائم کے 85000 کیسز رپورٹ ہوئے جس کا مطلب یہ ہوا کہ شہر میں ہر ماہ 7000 کیسز ہو رہے ہیں۔ اگر 7000 کیسز کو ایک مہینے یا 30.5 دنوں میں تقسیم کیا جائے تو اس کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر 229 کیسز بنتی ہے۔ اسی طرح یومیہ 229 یا 230 کیسز کو شہر کے 108 تھانوں کے ساتھ تقسیم کیا جائے تو فی تھانہ یومیہ جرائم کی شرح 2.1 بنتی ہے۔
سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کے لئے چند سوال بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔
نمبر 1 :جب روزگار کی تلاش میں لوگ بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں تو آبادی پر دباؤ کے ساتھ جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ بدقسمت کراچی کی آبادی تو بڑھتی جاری ہے مگر کیا پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اور اگر ہو رہا ہے تو کراچی میں جرائم کم ہونے کے بجائے کیوں بڑھ رہے ہیں؟
نمبر 2 : ننانوے فیصد وارداتیں اور مزاحمتی قتل کے واقعات موبائل فون چھیننے کے دوران پیش آتے ہیں۔ اتنی قیمتیں جانوں کے ضیاع کے باوجود حکومت استعمال شدہ موبائل فون کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کیوں نہیں کرتی؟
نمبر 3 :حکومت پی ٹی اے سمیت موبائل نیٹ ورک کمپنیز کو کیوں پابند نہیں کرتی کہ کسی بھی شہری کا موبائل فون چھیننے پر جب فوری 15 کو اطلاع دی جائے تو فوری فون کی لوکیشن ٹریک کی جائے۔ آخر اتنے جدید دور جدید ٹیکنالوجی کے باوجود آج تک کیوں وہی پرانے فرسودہ نظام کے تحت تحقیقات کی جاری ہیں؟
نمبر 4 :کیا اس شہر میں پولیس کی رٹ ختم ہو گئی ہے۔ اب رینجرز کو ہی سڑکوں پر آنا ہو گا؟


