ملکی معیشت و جمہوریت کے لئے عمران خان سب سے بڑا خطرہ ہے!


عمران باجوہ ساگا کے عین بیچ تحریک انصاف کے چیئرمین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اسٹبلشمنٹ اپنے ہی اعلان کے مطابق ابھی تک نیوٹرل نہیں ہے اور سیاسی انجینئرنگ کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے خاص طور سے پنجاب اسمبلی کے تین ارکان کو موصول ہونے والی ’خفیہ ٹیلی فون کالز‘ کا حوالہ دیا ہے۔ عمران خان اگرچہ اس وقت ملک میں جمہوریت کے چیمپیئن بننے کے سب سے بڑے دعویدار ہیں لیکن اگر اس وقت ملکی معیشت کے علاوہ جمہوریت کو کوئی حقیقی خطرہ لاحق ہے وہ عمران خان کی ذات اور ان کی شدت پسندانہ یک طرفہ حکمت عملی سے ہی ہے۔

تجزیہ نگاروں اور سیاسی مبصرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ پاکستان کو اس وقت جن گونا گوں مسائل کا سامنا ہے، جن میں معیشت کی بحالی سر فہرست ہے، انہیں حل کرنے کے لئے قومی افہام و تفہیم کی ضروری ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھیں، پارلیمنٹ کو واقعی ملک کا سب سے با اختیار ادارہ تسلیم کر کے اسے وقار دینے کی کوشش کی جائے اور ذاتی اختلافات اور سیاسی دشمنیوں کو بھلا کر سب سیاسی پارٹیاں چند ایسے بنیادی نکات پر اتفاق پیدا کریں جن پر عمل کرنے سے ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ’میثاق معیشت‘ کے نام سے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی تجویز پیش کی ہے لیکن عمران خان کی ہٹ دھرمی اور حکومت کے بعد اب اسٹبلشمنٹ کے خلاف چلائے جانے والی مہم جوئی کی وجہ سے اس قسم کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔

عمران خان قومی افہام و تفہیم کے تصور سے متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے موجودہ حکومت میں شامل سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کے خلاف جو سیاسی نظریہ اپنے حامیوں کو ازبر کروایا ہے، وہ اس سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اگرچہ عمران خان کو سیاسی یوٹرن لینے میں ید طولی حاصل ہے۔ صوبائی اسمبلیاں توڑنے یا پنجاب میں پرویز الہیٰ کے اعتماد کا ووٹ لینے کے حوالے سے ان کے سیاسی موقف اور اس سے انحراف پر ہی غور کر لیا جائے تو جانا جاسکتا ہے کہ عمران خان کی سیاست کسی اصول پر استوار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شریف خاندان اور زرداری خاندان کے ساتھ دشمنی کا رشتہ استوار رکھنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ اگر سیاسی عدم اتفاق کو پالیسی سازی یا مسائل حل کرنے کی ٹھوس تجاویز کی بنیاد پر واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی تو عمران خان کے نام نہاد بیانیہ کا غبارہ پھٹ جائے گا۔

اب یہی عمران خان کی سیاست کا واحد ہتھکنڈا ہے کہ وہ شہباز شریف اور آصف زرداری کو گالیاں دیتے رہیں اور اپنے اندھے عقیدت مندوں کو باور کروانے کی کوشش کرتے رہیں کہ ان کے سوا اس ملک میں کوئی دیانت دار نہیں ہے۔ اور ان کی دیانت و امانت کا معیار یہ ہے کہ وہ کسی صورت میں ’چوروں لٹیروں‘ کے ساتھ ہاتھ ملانے پر تیار نہیں ہوں گے۔ خواہ انہیں اس کی کوئی قیمت ادا کیوں نہ کرنی پڑے۔ ( یہ قیمت عمران خان تو ادا نہیں کریں گے لیکن ملک و قوم روزانہ اس کا نقصان برداشت کر رہے ہیں ) ۔

حالانکہ یہی عمران خان کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ اول تو جن لوگوں کو وہ چور لٹیرے کہتے ہیں اور ان کی بدعنوانی کے قصے ازبر کروانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ وہی کہانیاں ہیں جو بقول عمران خان کے انہیں ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے فراہم کی تھیں۔ گویا نہ تو عمران خان کے پاس کسی کو چور کہنے کا کوئی ٹھوس ثبوت ہے اور نہ ہی ایسا کوئی معاملہ ابھی تک عدالت میں ثابت ہوا ہے۔ بلکہ باجوہ بمقابلہ عمران خان کے افسوسناک دنگل میں جو معلومات عوام تک پہنچائی گئی ہیں، ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عمران خان کے سابق محبوب اور موجودہ رقیب جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے عمران خان اور تحریک انصاف کے لئے پاکستانی سیاست میں جگہ بنانے کے لئے نواز شریف کو عدالتی کارروائی کے ذریعے نا اہل قرار دلوایا۔

جب ایک مقدمہ کے نتیجہ میں نا اہلی کی وہی تلوار عمران خان کے سر پر لٹکتی دکھائی دی تو یہ کہتے ہوئے عمران خان کی سیاسی پوزیشن محفوظ بنائی گئی کہ ایک کے بعد اب دوسرے ممکنہ وزیر اعظم کو تو نا اہل قرار دینا درست نہیں ہو گا۔ عمران خان کے خلاف نا اہلی کا مقدمہ اس قدر مضبوط تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار جیسے جج نے بھی اس خدمت کے عوض جہانگیر ترین کی قربانی طلب کی تھی۔ اس حوالے سے جو انکشافات قوم کے سامنے رکھے گئے ہیں، ان کے مطابق جنرل باجوہ نے آئی ایس آئی کے ایک افسر کے ذریعے ہی یہ مقصد حاصل کیا۔ شاید اس افسر کی اسی خدمت کی وجہ سے عمران خان فیض حمید سے اس حد تک خوش تھے کہ ان کے تبادلہ کے موقع پر اپنے ہی ’محسن‘ جنرل باجوہ سے بھڑنے پر تیار ہو گئے۔ اس پر بھی عمران خان خود کو دیانت کا دیوتا ثابت کرنے پر مصر رہتے ہیں۔

یہ تفصیلی کہانی مختلف ذرائع سے عوام کے گوش گزار کروائی جا چکی ہے۔ نکتہ صرف یہ ہے کہ ملکی نظام انصاف کا بازو مروڑ کر اپنی سیاسی پوزیشن محفوظ کرنے والا لیڈر کس منہ سے دوسروں کو بے ایمان کہتے ہوئے خود کو عدل و انصاف کا سب سے بڑا داعی ثابت کر سکتا ہے۔ لیکن سیاست کو عوامی خدمت کی بجائے مفاد کے حصول اور اس مقصد کے لئے مسلسل جھوٹ بولنے کا ہنر بنا لیا گیا ہے۔ لہذا عمران خان بھی سیاسی بقا کے لئے ہر جھوٹ بولنے پر آمادہ ہیں اور مخالفین کی کردار کشی کے لئے کوئی بھی حد عبور کرنے پر تیار رہتے ہیں۔ اسی طرز عمل کی وجہ سے پاکستان میں نفرت، تصادم اور عدم اعتماد کا ایسا ماحول پیدا ہوا ہے کہ کوئی ایسا پلیٹ فارم موجود نہیں ہے جہاں پر اختلاف رائے کے لئے مکالمہ کا اہتمام ہو سکے۔

عمران خان مکالمہ اور مخالفین سے ڈائیلاگ پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ درحقیقت جمہوریت پر بھی یقین نہیں رکھتے۔ اب اتفاق سے چونکہ وہ فوج میں شامل ہو کر جرنیل نہیں بن سکے اور براہ راست اقتدار چھیننے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔ بلکہ کرکٹ ٹیم کے کپتان بن کر عوام میں ہیرو کا درجہ ہی حاصل کر سکے۔ یہ پوزیشن انہیں براہ راست ملک کا سربراہ بنانے کے لئے کافی نہیں تھی، اس لئے انہوں نے پرویز مشرف سے لے کر قمر جاوید باجوہ تک ہر اس وردی والے کا ہاتھ تھاما جو انہیں اپنا لے پالک بنا کر وزیر اعظم ہاؤس تک پہنچا سکے۔ وہ بالآخر اس مقصد میں کامیاب بھی ہو گئے۔ البتہ اس عمل میں وہ یہ سمجھنا بھول گئے کہ اسٹبلشمنٹ کی تابعداری سے حاصل ہونے والا عہدہ درحقیقت ایک بوجھ ہوتا ہے اور اسے حاصل کرنے والے کو مسلسل اس بوجھ کو اٹھا کر چلنا پڑتا ہے۔ سہاروں سے وزیر اعظم بننے والا سہارے سے محروم ہونے کے بعد اسی طرح بے چین و بے قرار رہتا ہے جس کا مظاہرہ اس وقت عمران خان کے لب و لہجہ میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

پاکستانی معیشت کی بحالی کے لئے انتشار ختم کرنے اور قومی مفاہمت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان اس منصوبے کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں ہیں۔ وہ اسٹبلشمنٹ کی ’غیر جانبداری‘ کو جن صفات سے تشبیہ دیتے رہے ہیں، وہ بھی عوام کے پیش نظر ہیں۔ انہیں دہرانا مہذب تحریر میں ممکن نہیں ہے لیکن مختصراً یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ عمران خان کے لئے وہی اسٹبلشمنٹ قابل قبول ہے جو انہیں ملک کا سب سے بڑا دیانت دار اور قابل اعتبار لیڈر مان کر کسی بھی طرح دوبارہ اقتدار تک پہنچا دے۔ اس واضح اور دو ٹوک موقف کے پس منظر میں عمران خان کا دعویٰ ہے کہ وہی فوج بہادر، وطن پرست اور قابل اعتبار ہے جو ’امر المعروف‘ کا ساتھ دے۔ البتہ نہایت فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ فوج کو یہ سہولت دینے پر آمادہ رہے ہیں کہ ’حق کی بالادستی‘ (یعنی عمران خان کو اقتدار تک پہنچانے کا عمل) کے لئے وہ کوئی بھی ناجائز اور غیر آئینی طریقہ اختیار کرے تو عمران خان کی دیانت دار آنکھیں اس کی طرف دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کریں گی۔

اسٹبلشمنٹ سے ایسے ’جانبدارانہ‘ کردار کا مطالبہ کرنے والا لیڈر اب دل گرفتہ ہے کہ وہی اسٹبلشمنٹ ملک میں سیاسی انجینئرنگ میں ملوث ہے اور پنجاب میں تحریک انصاف کی اکثریت ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ عمران خان سے بہتر کون اس بات کو جانتا ہو گا کہ اس کام کے لئے ان کی اپنی ’آستین کے سانپ‘ پرویز الہیٰ ہی کافی ہیں۔ البتہ زیر غور نکتہ محض یہ ہے کہ کیا عمران خان نے بالآخر یہ سیاسی سبق سیکھ لیا ہے کہ ملک میں جمہوری عمل کے لئے اسٹبلشمنٹ کا غیر جانبدار اور غیر سیاسی رہنا ضروری ہے؟

اگر وہ یہ ’یو ٹرن‘ لینے پر آمادہ ہوچکے ہیں تو انہیں اس سیاسی انجینئرنگ کا اعتراف بھی کرنا چاہیے جو انہیں اقتدار تک پہنچانے کے لئے روا رکھی گئی تھی۔ ہائبرڈ نظام کے نام پر کیے جانے والے اس گھپلے کی ساری تفصیلات اب عام و خاص کے سامنے ہیں۔ عمران خان حوصلہ کریں اور اس جرم میں شریک ہونے کا اعتراف کریں اور قوم سے اپنے اس سیاسی حرص کی معافی مانگیں۔ اسی صورت میں ان کے اس مطالبے کو کوئی اہمیت دی جا سکے گی کہ اسٹبلشمنٹ کو غیر جانبدار رہنا ہو گا۔ ورنہ اسٹبلشمنٹ کو ہمیشہ ایک ایسے گھوڑے کی حیثیت حاصل رہے گی جس پر سوار ہونے کے لئے ہر سیاسی لیڈر ہر ناجائز ہتھکنڈا اختیار کرنے پر تیار رہتا ہے۔

عمران خان کی جمہوریت پسندی کا ڈھونگ اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے صرف ان ساڑھے تین سال کے دوران ’پارلیمنٹ‘ کو قبول کیا جب وہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز تھے۔ اس سے پہلے اور بعد میں وہ اس ادارے پر تین حرف بھیجتے رہے ہیں۔ اب بھی وہ قومی اسمبلی سے استعفے منظور ہونے پر اصرار کرتے ہیں اور پنجاب و خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں توڑنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کے نزدیک عوامی ووٹ کی بس اتنی ہی اہمیت ہے۔ ان حالات میں ملک میں معاشی انحطاط، سیاسی عدم استحکام اور جمہوری عمل کو اگر کسی ایک لیڈر سے خطرہ لاحق ہے تو اس کا نام بلاشبہ عمران خان ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2380 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments