مری کی برفباری: ’میں چیخ رہی تھی لیکن ہر طرف خاموشی تھی‘


مری، برفباری
جب راولپنڈی کی رہائشی فرح یاسر مری پولیس سے رابطہ کر رہی تھیں، ان کے شوہر چند میٹر کے فاصلے پر چھ دیگر افراد کے ساتھ برف کے تودے تلے دبے ہوئے تھے۔ ان کے مطابق پولیس اہلکار نے انھیں یہ جواب دیا، ’باجی باہر بہت برف ہے، ہم نہیں نکل سکتے۔‘ پھر فون بند کر دیا۔  

یہ فروری 2020 کا واقعہ ہے جب وہ اپنے خاندان کے ہمراہ صوبہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری کے مشک پوری ٹاپ میں دن گزارنے کے بعد واپس آ رہے تھے۔

فرح کہتی ہیں کہ ابھی بیس منٹ ہی ڈرائیو کی تھی کہ سامنے ایک گاڑی برف میں پھنسی نظر آئی۔ ’وہاں چھ لوگ اس گاڑی کو برف سے نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ میرے شوہر گاڑی سے نکلے اور ان لوگوں کی مدد کرنے چلے گئے مگر نجانے کہاں سے برف کا ایک پہاڑ ان پر گر گیا۔‘

برف کا یہ تودہ گرا تو ایک سولہ فٹ کا پہاڑ بن گیا تھا۔ ’میں بھاگتی وہاں پہنچی۔ میں چیخ رہی تھی لیکن وہاں ہر طرف خاموشی تھی۔‘

وہ یاد کرتی ہیں کہ ’میں نے اِدھر اُدھر دیکھا اور آخر کار مجھے برف کی سطح کے قریب ایک ہاتھ نظر آیا۔ میں نے تنہا دو لوگوں کو وہاں سے نکالا۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ باقی لوگوں کو نکالنے میں میری مدد کریں مگر وہ اس قدر گھبرائے ہوئے تھے کہ انھیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ پھر وہ ہماری گاڑی میں بیٹھ گئے۔‘

اس دوران فرح نے مشک پوری ٹاپ پر بنے کیفے میں کام کرنے والے ایک شاہین نامی شخص کو فون کیا جس نے کہا کہ وہ کچھ دیر میں وہاں پہنچ جائیں گے۔ ’میرے بچوں نے شوہر کے فون سے مری میں موجود ان کے فوجی دوستوں اور ایئرفورس کے کالاباغ کیمپ رابطہ کیا، ان کی ٹیمیں کیمپ سے نکلیں مگر راستہ بند ہونے کے باعث وہ بھی ہم تک نہیں پہنچ سکے۔‘ 

تاہم فرح نے ہمت نہیں ہاری اور گاڑی میں پڑی ایک چھتری سے برف کھودنا شروع کر دی۔ ’میں اکیلی چوتھے شخص کو برف کے تودے سے نکال رہی تھی جب یہاں کیفے والے شاہین پہنچے۔

’وہ اپنے ہمراہ قریبی گاؤں کنڈلہ سے بھی لوگوں کو لے آئے تھے۔ اب یہاں بہت لوگ تھے اور تین مزید افراد کو نکال دیا گیا، مگر میرے شوہر کا کچھ پتا نہیں تھا۔‘

اب تین گھنٹے گزر چکے تھے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’یہاں لوگوں نے مجھے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مجھے بُری خبر کے لیے خود کو تیار کر لینا چاہیے۔

مگر وہ مسلسل دعائیں مانگتی رہیں کہ وہ ٹھیک ہوں گے۔ ’آخر کار معجزہ ہوا اور میرے شوہر کو برف سے نکال لیا گیا۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’جب وہ باہر آئے تو ان کی حالت خراب تھی، وہ کانپ رہے تھے اور انھیں سانس لینے میں دِقت ہو رہی تھی۔

’مقامی لوگ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور ہمیں اُبلے ہوئے انڈے اور گرم قہوہ دیا جس کے بعد ہم اگلے دو دن تک پی اے ایف میس کالاباغ میں رہے۔‘

برفباری کے امکان کے باوجود اب بعض سیاح مری جانا نہیں چاہتے

 فرح یاسر کہتی ہیں کہ انھیں مقامی افراد کی مدد نے متاثر کیا اور اس کے ساتھ یہ مشورہ بھی دیتی ہیں کہ مری برفباری کے موسم میں جانے والے سیاح چھوٹی گاڑیوں میں سفر کرتے ہوئے محتاط رہیں۔

اس سوال پر کہ کیا وہ دوبارہ مری گئیں، انھوں نے بتایا کہ وہ صرف ایک بار ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنے گئی تھیں جنھوں نے ان کی مدد کی، مگر اس کے بعد کبھی نہیں گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

مردان کے چار دوستوں کی آخری سیلفی، ’کہتے تھے وہ ٹھیک ہیں کوئی مسئلہ نہیں‘

مری اور گلیات میں برفباری کی پیشگوئی: سفر پر نکلنے سے پہلے سیاحوں کے لیے کیا جاننا ضروری ہے؟

مری میں برفباری میں پھنسے سیاح: ’برف کی قبر میں دھنس گیا تھا، خوش قسمت تھا بچ گیا‘

فرح یاسر کا مشورہ اور اس روز پولیس اور ریسکیو ٹیموں کی عدم موجودگی کا شکوہ اپنی جگہ۔۔۔ ہم نے مری کے ڈپٹی کمشنر سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ گذشتہ برس پیش آنے والے واقعے کے بعد اس بار مری آنے والوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔

پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں برفباری کی پیشگوئی ہے اور اس وقت وہاں بارش کا سلسلہ جاری ہے، سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور ویک اینڈ ہونے کی وجہ سے سیاحوں کا رش بھی ہے۔

مگر کچھ سیاح ایسے بھی ہیں جو اب مری سیاحت کے لیے آنے سے کترا رہے ہیں۔ ان میں بہت سے وہ لوگ ہیں جو گذشتہ برس اس وقت مری میں موجود تھے جب شدید برفباری اور رش کی باعث یہاں گاڑیاں پھنس گئیں اور درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

ان میں سے کچھ تو گاڑیوں میں زہریلی گیس بھرنے سے ہلاک ہوئے تھے جبکہ کئی ایسے تھے جو خون منجمد کر دینے والی سردی کے باعث جان سے چلے گئے۔

لیکن برفباری کے موسم میں برف اور لینڈ سلائیڈنگ صرف گذشتہ برس ہی نہیں ہوئی، ایسے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور انتظامیہ ان مواقع پر کبھی پہنچتی ہی نہیں تھی اور کبھی خاصی دیر کے بعد۔

مری میں سیاحوں کے لیے انتظامات

گذشتہ برس پیش آنے والے حادثے کے بعد مری کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہاں سیاحوں سے رابطوں اور ان کی مدد کے لیے متعدد انتظامات کیے گئے ہیں۔

مری کے ڈپٹی کمشنراحمد حسن رانجھا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بار مری کے سٹی ایریا اور مرکزی ٹوورسٹ پوائنٹس پر گاڑیوں کی گنتی کے لیے کمیرے نصب کیے گئے ہیں تاکہ یہ پتا چل سکے کہ کتنی گاڑیاں یہاں داخل ہو رہی ہیں۔ گنجائش سے زائد گاڑیوں کو شہر میں داخلے کی اجازت نہیں جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ مری میں تیرہ فیسیلیٹیشن مراکز قائم کیے گئے ہیں جو ضلع کے تمام چوکنگ پوائنٹس پر ہیں۔ ’یہاں سے کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری ایکشن لیا جائے گا، یہاں تمام محکموں کی ٹیمیں اور مشینری موجود ہو گی جو بروقت کاروائی کرے گی۔ اس کے علاوہ ان مراکز میں تربیت یافتہ سپروائزری افسران بیٹھے ہیں، یہان کنٹرول رومز بنائے گئے ہیں۔ یہاں اور گراونڈ پر موجود عملے کے درمیان رابطہ کاری کا نظام بھی تشکیل دیا گیا ہے۔‘

مری میں ہونے والے دیگر انتظامات میں ہائی ویز پولیس کی جانب سے ڈیلی ویجز پر بھرتی کیے گئے سو سے زائد اہلکار جبکہ تین سو زائد فٹ سولجرز شامل ہیں جو برفباری کے دوران مختلف چوکنگ پوائنٹس کے قریب رہیں گے اور سڑکوں پر ٹریفک پھنسنے کی صورت میں لوگوں کی مدد کریں گے۔

ضلع میں سولہ مشینیں ہیں جو مختلف مقامات سے برف ہٹانے کے لیے استعمال کی جائیں گی، بیس مقامات پر نمک رکھا گیا ہے جو برف پگھلانے کے لیے استعمال ہوگا۔ اس کے علاوہ ان درختوں کو ہٹا دیا گیا ہے جو جڑوں سے اکھڑ چکے تھے اور بجلی کا نظام متاثر ہونے سے بچانے کے لیے کھمبوں اور ٹرانسفارمرز کے قریب درختوں کی شاخیں بھی کاٹی گئی ہیں۔

ڈپٹی کمشنر مری کے مطابق ضلع میں دیگر سٹیک ہولڈرز جن میں گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور فوج شامل ہے کے ساتھ مل کر ایک مربوط نظام بنایا گیا ہے۔ ’ٹریفک کا رش کنٹرول کرنے کے لیے علیحدہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی بھی ڈپٹی کمشنر مری کریں گے۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ضلع میں ہوٹل انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کے بعد اس معاملے پر اتفاق ہوا ہے کہ زیادہ چارج نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ریسٹورنٹس میں کھانے پینے کی اشیا مہنگے داموں بیچی جائیں گی۔ ’ہوٹلز میں لسٹیں آویزاں کی جائیں گی اور انھی کے مطابق گاہکوں سے کرایہ یا رقم وصول کی جائے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ان ہوٹلز کی محکمہ سیاحت کے رجسٹریشن کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔ ’اس بار اوورچارجنگ کی صورت میں ان ہوٹلز کی رجسٹریشن منسوخ یا ان کی کیٹیگری ڈاون کی جا سکتی ہے۔‘

مری کی ضلعی انتظامیہ نے حال ہی میں آزمائشی مشقیں کرائی ہیں تاکہ عملے کو ایمرجنسی صروتحال سے نمٹنے کئے لیے تیار کیا جا سکے۔

لیکن یہ تمام انتظامات کس قدر موثر ہیں اور سیاحوں کی حفاظت کے لیے کتنے پریکٹیکل ہیں، یہ برفباری کے بعد ہی واضح ہو گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 27653 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments