استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر! (5)


ایوب خان نے اقتدار سنبھالا تو نہرو حکومت کے ساتھ ان کا ’ورکنگ ریلیشن شپ‘ بن گیا۔ سندھ طاس معاہدہ ہوا۔ کشمیر پر بات چیت کسی نہ کسی شکل میں جاری رہی۔ بھارت اور چین کی جنگ کے دوران اگرچہ امریکی دباؤ کے زیر اثر ہی سہی، پاکستان نے موقع سے کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی۔ مشرقی پاکستان کے باب میں ایوب خان کا خیال تھا کہ اگر بنگالی اپنا راستہ چننا چاہتے ہیں تو انہیں اس کا اختیار ہے۔ دوسری طرف ایوب خان کشمیر کے معاملے پر بھی پاک بھارت جنگ چھیڑے جانے کے حق میں نہیں تھے۔

اس امر میں اب کوئی دو آراء نہیں کہ کشمیر میں ’انفلٹریشن‘ اور بعد ازاں مقبوضہ کشمیر میں کلیدی شاہراہ کو کاٹنے کے لئے کیے جانے والے آپریشنز اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے محکمے کے سیکرٹری کے ذہنوں کی اختراع تھے۔ بھٹو کا خیال تھا کہ بھارت بہت جلد ایک بڑی اقتصادی اور عسکری قوت بن جائے گا۔ چنانچہ کچھ برسوں بعد بھارت پر کشمیر کے حل کے لئے دباؤ ڈالنا ممکن نہیں رہے گا۔ فوج کے اندر بھی کچھ ایسے لوگ موجود تھے جو چند ماہ پہلے ہونے والی سرحدی لڑائی کے بعد بہت پر اعتماد نظر آرہے تھے۔

اس سب کے باوجود صدر ایوب کسی ’ایڈوینچر‘ کے حق میں نہیں تھے۔ چنانچہ بتایا جاتا ہے کہ جب آپریشن جبرالٹر کے آرڈرز لکھے جا رہے تھے تو ایوب خان سوات روانہ ہو گئے تھے۔ بھارت نے جنگ پھیلائی تو بین الاقوامی دارالحکومتوں کو جانے والی رپورٹوں کے مطابق پاک فوج کو پہلے ہفتے میں بھارت پر برتری حاصل تھی۔ تاہم ایک طویل جنگ لڑنے کی پاکستانی صلاحیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا۔ سیز فائر ہوا تو دونوں ملکوں نے سوویت یونین کی ’چھڑی‘ کے نیچے مذاکرات کیے ۔

فریقین میں اتفاق ہوا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر سمیت جنگ بندی سے پہلے والی سرحدی صورت حال بحال کر دی جائے۔ یہ بھی اتفاق ہوا کہ دونوں ملک مستقبل میں ایک دوسرے کے خلاف جارحیت کا ارتکاب نہیں کریں۔ بھٹو صاحب دوسرے نقطے کو تحریری معاہدے کا حصہ نہیں بنانا چاہتے تھے۔ ایوب خان بے ثمر جنگ کے نتیجے میں آنے والی معاشی تباہی کا عالم دیکھ کے آزردہ خاطر تھے۔ جنگ کے نتیجے میں ’سبز انقلابی عشرے‘ کا ہی نہیں، ’سنہرے ایوبی دور‘ کا بھی خاتمہ شروع ہو چکا تھا۔

وزیر خارجہ بھٹو فوجی آمر کے زوال کے آثار بھانپ چکے تھے۔ چنانچہ ’قومی مفادات‘ پر اختلافات کو عذر بناتے ہوئے صدر ایوب کے چہیتے وزیر خارجہ ہی سب سے پہلے کابینہ سے مستعفی ہوئے۔ جنگ کے ہی نتیجے میں پیدا ہونے والی کساد بازاری، مہنگائی، صدر ایوب کی گرتی ہوئی صحت اور سیاسی بے یقینی جیسے عوامل کے باعث ملک کے طول و عرض، بالخصوص مشرقی پاکستان کے اندر جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ سال 65 کی پاک بھارت جنگ کو بڑے کینوس پر دیکھا جائے تو بقول ممتاز امریکی سکالر شجاع نواز، ’اس جنگ کی نوعیت دو امیچور باکسرز کے درمیان ہونے والی slug festسے زیادہ کچھ نہیں‘ ۔

پاکستان آرمی کی تاریخ لکھنے والے اکثر ملکی و غیر ملکی سکالرز متفق ہیں کہ جہاں جنگ کے مختلف محاذوں پر پاک افواج کے افسروں اور جوانوں نے جرآت اور بے مثال بہادری کی ان گنت انفرادی مثالیں رقم کیں، وہیں وجوہات جو بھی ہوں، سینئر قیادت نا صرف آپریشن جبرالٹر اور آپریشن گرینڈ سلیم کے نتائج کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہی بلکہ جنگ کے اہداف مقرر کرنے اور انہی کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگ کی سمت متعین کرنے کی اہلیت سے محروم نظر آئی۔

بالآخر صدر ایوب خان اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ اس کے بعد کے برسوں کی افسردہ کر دینے والی تاریخ کا دہرایا جانا جان جوکھوں کا کام ہے۔ صرف ایک دو برس کی بات نہیں، لگ بھگ تین عشروں پر محیط داستان تھی جو 6 1 دسمبر 1971 ء والے دن اپنے المناک انجام کو پہنچی۔ افسوس کہ پانچ عشروں بعد بھی وہی خود غرضی، مفاد پرستی اور رعونت پر مبنی رویے عام ہیں۔ آج بھی اقلیت کو اکثریت پر مسلط رکھے جانے کی کوششیں جاری ہیں۔

افسوس کہ ہر کوئی ایک دوسرے کو سقوط ڈھاکہ سے سبق سیکھنے کا درس دیتا ہے لیکن خود کوئی اس سانحے سے عبرت پکڑنے کو تیا ر نہیں۔ آدھا ملک ہم سے جدا ہو گیا۔ ماؤں کے سینکڑوں لخت جگر تاریک راہوں میں مارے گئے۔ افواج پاکستان کے پینتیس ہزار افسر اور سجیلے جوان بے سرو سامانی کے عالم میں ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوئے۔ سانحہ مشرقی پاکستان مگر ایک عسکری ناکامی ہر گز نہیں۔ ایک سیاسی گانٹھ بھی نہیں کہ جو کھولی نہ جا سکتی ہو۔

خود قائد اعظم نے سہروردی کو آزاد متحدہ بنگال کا وزیر اعظم بننے کے لئے کانگرس اور ماؤنٹ بیٹن سے براہ راست بات چیت کی اجازت دی تھی۔ قائد کا خیال تھا کہ متحدہ بنگال اگر پاکستان میں شامل نہ بھی ہوا تو خطے میں پاکستان کو ایک قریبی اتحادی دستیاب رہے گا۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد شیخ مجیب بھی جنرل یحییٰ کو مسلسل یقین دلاتے رہے کہ ان کا ملک توڑنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ تاہم اقتدار اکثریتی پارٹی کے حوالے کیے جانے میں بھٹو صاحب کلیدی رکاوٹ اور اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے فوجی صدر پر پوری طرح حاوی رہے۔

آپریشن ’سرچ لائٹ‘ کا فیصلہ فوجی جنتا نے کیا تھا۔ تاہم اس آپریشن کو بھٹو صاحب کی مکمل تائید حاصل تھی۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان توڑنا ایک بھارتی منصوبہ تھا۔ بھارت سے خیر خواہی کی امید رکھنا عبث ہے۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ مارچ 1971 ء تک اندرا گاندھی پاکستان توڑنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھیں۔ درحقیقت، شیخ مجیب کے اکثریتی لیڈر بن کر سامنے آنے پر وہ مطمئن تھیں کہ جس کی بنیادی وجہ ایک بنگالی کے اقتدار میں آنے سے ’پنجابی اسٹیبلشمنٹ‘ کے اثر و رسوخ کم ہونے کی توقع تھی کہ جس کا پہلا نتیجہ کشمیر کا مسئلہ پس پشت چلے جانا ہوتا۔

حقیقت تو یہ ہے پاکستان کسی اور نے نہیں، خود ہم نے اپنے ہاتھوں سے دو لخت کیا۔ جنرل کمال متین الدین اپنی کتاب ٹریجڈی آف ایررز ’مرتب کرنے کے سلسلے میں بنگلہ دیش گئے تو وہاں صدر مملکت سے بھی ان کا انٹرویو طے تھا۔ میزبان نے اپنے مہمان اور سابقہ ہم وطن سے پوچھا،‘ کس زبان میں بات کرو گے؟ ’جنرل صاحب بولے، ‘ چونکہ آپ کو اردو نہیں آتی اور میں بنگالی نہیں بول سکتا، تو چلیں انگریزی میں بات کرتے ہیں ’۔ بزرگ سٹیٹسمین نے انگریزی میں جواب دیا،‘ یو سی، یہی وہ ایک بنیادی وجہ ہے کہ ہم ایک ساتھ نہیں رہ سکے۔

’سقوط ڈھاکہ ہماری مختصر ملکی تاریخ میں ایک المناک حادثہ ہے۔ پاکستانی میڈیا پابندیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ سوشل میڈیا کا وجود نہیں تھا۔ آزاد ذرائع سے حقائق جب پہنچنا شروع ہوئے تو پاکستانی عوام پھوٹ پھوٹ کر روئے۔ یحییٰ خاں سمیت ان کا ٹولہ مگر کمال ڈھٹائی سے اب بھی بچے کچھے ملک پر حکمرانی کا خواب دیکھ رہا تھا۔ بھٹو صاحب نے‘ ادھر والے پاکستان ’کا اقتدار سنبھالا تو جسم و جان پر گہرے گھاؤ لئے ہمارے پینتیس ہزار افسر اور جوان بھارت کی قید میں جا چکے تھے۔ افواج پاکستان دل شکستہ اور اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی تھیں۔ (جاری ہے )


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments