’کراچی ایٹ فیسٹیول‘ ہنگامہ آرائی:’اس ملک میں خواتین کب ہراسانی کے خوف کے بغیر لطف اٹھا سکیں گی‘


’کراچی ایٹ فیسٹیول‘ کے منتظم کا کہنا ہے کہ اتوار کو ایک گروہ منصوبہ بندی کے تحت میلے میں گھس آیا تھا جس کی وجہ سے انھیں اسے ختم کرنا پڑا لیکن انھوں نے ان لوگوں کی نشاندہی کر لی ہے اور ان کے خلاف اقدامات کریں گے۔

’کراچی ایٹ فیسٹیول‘ کے آخری روز نوجوان گلوکار کیفی خلیل گانا گا رہے تھے کہ منتظمین سٹیج پر آئے اور ساؤنڈ بند ہوگیا۔ ان سے گٹار اور مائیک واپس لے لیا گیا، اس کے بعد ایک شخص مائیک پر آیا اور کہا کہ جن لڑکیوں کو میں نے ابھی ریسکیو کیا ہے انہیں وہاں سے جلدی نکالو اسی دوران وہ محافظ باؤنسرز کو طلب کرلیتے ہیں۔

کراچی میں کھانے پینے کی اشیا کی میلے ’کراچی ایٹ‘ میں اتوار کی شب ہنگامہ آرائی کی وجہ سے اسے ختم کرنا پڑا تھا۔

یہ ہنگامہ آرائی اس وقت شروع ہوئی خواتین اور فیملے کے لیے جاری اس میلے میں بہت سارے مرد گھس آئے۔

ہنگامہ آرائی اور بد انتظامی کی ویڈیوز وائرل

ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی نوجوان لڑکے دیوار اور گیٹ سے کود کر اندر داخل ہو رہے ہیں اور ایک ویڈیو میں ایک شخص سٹیج کے جنگلے پر بیٹھا سگریٹ کے ٹوٹے نیچے پھینک رہا ہے۔

ایک دوسری ویڈیو میں لڑکیاں آپس میں لڑ رہی ہیں اور جہاں بعض خواتین انہیں چھڑانے کی کوشش میں مصروف ہیں وہیں کئی موبائیلوں پر ریکارڈنگ کی جارہی ہے۔

اقصیٰ نامی صارف نے ٹوئٹر پرلکھا کہ ’یہ انتہائی ناگوار ہے کہ کس طرح ایک فیملی تقریب مردوں کے ایونٹ میں بدل گئی۔ یہ لوگ شیطانوں سے بھی بدتر ہیں اور اب اکثر لوگ یقینی طور پر یہ کہیں گے کہ چونکہ یہ خواتین باہر گئیں، اگر انہیں ہراساں کیا گیا تو یہ ان کی غلطی ہے۔‘

ایک صارف نے کہا کہ ’جب بھی بڑی تعداد میں لوگ کسی ایک مقام پر جمع ہوتے ہیں تو سکیورٹی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ بدقسمتی سے, کسی بھی بدانتظامی کی صورت میں خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ منتظمین سے اپیل ہے کہ وہ کراچی ایٹ جیسے بڑے ایونٹس کا انعقاد کرتے وقت سکیورٹی کو اولین ترجیح دیں۔‘

نارائن لکھتے ہیں کہ ’بدقسمتی سے ہم اسی معاشرے کا حصہ ہیں، کب ہم ذمہ دار اور احساس رکھنے والے لوگ بنیں گے۔ نظم و ضبط اور احترام ہمیشہ ہمارے دلوں سے آنا چاہیے۔‘

 کوکونٹ نامی اکاؤنٹ سے لکھا گیا ہے کہ ’بیمار لوگ، اس ملک میں خواتین کب ہراساں کیے جانے کے خوف کے بغیر لطف اٹھا سکیں گی۔‘

کیفی خلیل سے متعلق فیک نیوز

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بعض ایسی پوسٹس بھی آئیں جن میں کہا گیا تھا کہ کیفی خلیل سر میں بوتل لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں لیکن انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں اس کی تردید کی ہے اور کہا کہ وہ بلکل ٹھیک ہیں۔

’میں کہوں گا کہ کل جو کچھ ہوا اس کی وجہ سے میں انتہائی مایوس اور پریشان ہوں۔ وہ خواتین جو اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ شام کا لطف اٹھانے کے لیے باہر نکلی تھیں، انہیں ایک گروپ نے ہراساں کیا اور ان کے ساتھ نامناسب سلوک کیا، جن میں شائستگی اور عقل کی کمی تھی۔‘

کیفی خلیل نے مزید کہا ہے کہ ’پرفارمنس کے دوران ہی ایونٹ کو منسوخ  کر دیا گیا کیونکہ جو کچھ ہو رہا تھا ایسے میں اسے جاری نہیں رکھا سکتا تھا اور اس وجہ سے کہ یہ سامعین میں موجود لوگوں کے لیے بھی تحفظ کا مسئلہ بن گیا تھا۔ میں منتظمین سے درخواست کرتا ہوں کہ براہ کرم ایسے ایونٹ کے لیے جگہ کا انتخاب کرتے وقت شرکت کرنے والے ہر فرد کی حفاظت کو مدنظر رکھیں، خاص طور پر خواتین کی، تاکہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔‘

https://twitter.com/kaifi_khalil/status/1612333318057467907

’ایٹ فیسٹول نہ ہو اڈیالہ جیل ہو‘

’کراچی ایٹ‘ کو اس سال دس سال مکمل ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال کووڈ کی وجہ سے اس تقریب کو محدود رکھا گیا جبکہ اس سے قبل لاک ڈان کی وجہ سے اس کا انعقاد نہیں ہوا تھا۔

گذشتہ ہفتے 6 جنوری سے 8 جنوری تک یہ میلہ منعقد کیا گیا جس میں کھانے پینے کے درجنوں سٹال لگائے گئے اور موسیقی کا پروگرام منعقد کیا گیا۔

فیسٹیول کے آرگنائزر عمر اوماری نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی کے لیے پولیس، رینجرز اور نجی سیکیورٹی کمپنی کے علاوہ 80 باونسرز مقرر کیے گئے تھے، ایک گیٹ کو ویلڈنگ سے بند کیا گیا تھا، جو چاردیواری ٹوٹی ہوئی تھی وہاں کانٹے دار تاریں لگائیں گئیں جیسے یہ کوئی ’ایٹ فیسٹول نہ ہو اڈیالہ جیل ہو‘ ۔

انھوں نے کہا ’دو روز پر امن طریقے سے گزر گئے، ہفتے کے روز تو اس سے بھی زیادہ لوگ آئے تھے۔ ہم نے پالیسی رکھی ہے کہ کسی سِنگل شخص کو داخلہ نہیں دیا جائے گا۔ سنیچر کو ہم نے کئی لوگوں کو واپس بھی کیا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ سو دو سو لوگوں کی ٹیم ہے جس نے ایک منصوبہ بندی کے تحت یہ کیا ہے۔ ان کی نشاندہی ہوچکی ہے اور ان کے خلاف کارروایاں کریں گے۔‘

 عمر اوماری  کے مطابق جب ایسی صورتحال پیدا ہوجائے، لوگوں کو باہر نکانا ہو تو کنسٹرٹ بند کرنا پڑتا ہے اور اسی وجہ سے اس کو بند کیا گیا۔ انہیں افسوس ہے کہ خواتین  کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی لیکن وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ لوگ سسٹم پر الزامات کے علاوہ خود کو بھی اس رویے کا ذمہ دار ٹھہرائیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 27681 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments