سنہ 1953 کا مارشل لاء کس نے لگایا تھا



گزشتہ کالم میں ہم نے یہ جائزہ لیا کہ پاکستان میں پہلا مارشل لاء کس طرح لگایا گیا؟ اور اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ اگر مارشل لاء لگنے سے چند روز قبل بھی ہوشمندی کا مظاہرہ کیا جاتا تو آسانی سے امن عامہ کے حالات بہتر بنائے جا سکتے تھے۔ اس قسط میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ 6 مارچ 1953 کو لاہور میں مارشل لاء لگانے کا حکم کس نے صادر کیا تھا۔ کیا یہ فیصلہ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب کا تھا، کابینہ کا تھا، گورنر جنرل کا تھا یا افواج پاکستان کے سربراہ جنرل ایوب خان صاحب نے یہ فیصلہ کیا تھا؟ کیا تحقیقاتی عدالت نے اس اہم پہلو کا تعین کیا تھا کہ لاہور میں مارشل لاء لگانے کا حکم کس کا تھا؟

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ اس وقت احمدیوں کے خلاف فسادات ہو رہے تھے اور ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب جو احمدی تھے برطرف کیا جائے۔ جس وقت لاہور میں مارشل لاء کا اعلان کیا گیا اس وقت کراچی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہو رہا تھا۔ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اپنی خود نوشت سوانح حیات ”تحدیث نعمت“ میں اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے

”کابینہ کے اجلاس میں لاہور کے حالات پر غور ہو رہا تھا۔ اسی اثناء میں گورنر صاحب پنجاب نے ٹیلیفون پر وزیر اعظم صاحب کو بتایا کہ لاہور میں حالت خطرناک ہو گئی ہے۔ اور ان کا اور چیف منسٹر صاحب کا مشورہ ہے کہ محاذ کے مطالبات قبول کرنے کا فوری اعلان ہونا چاہیے کیونکہ ان کی رائے میں حالات پر قابو پانے کا اور کوئی ذریعہ نہیں رہا۔ لاہور کے کئی اداروں پر عوام کا قبضہ ہو گیا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ ان کی یہ گفتگو بھی سنی جا رہی ہے اور ممکن ہے کہ وہ اب وزیر اعظم کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو بھی نہ کر سکیں۔

گورنر صاحب کی اطلاع سے وزیر اعظم صاحب نہایت پریشان ہوئے اور کچھ سراسیمگی کے لہجہ میں اپنے رفقاء سے فرمایا صاحبان اب فرمائیے آپ کیا چاہتے ہیں؟ مجھے تو اس شورش کے بارے میں کچھ گزارش کرنا ہی نہ تھا مبادا میرا مشورہ کسی رفیق پر گراں ہو یا کسی غلط فہمی کا موجب ہو۔ وزیر اعظم صاحب کے اس استفسار پر ڈاکٹر ایم اے مالک اور سردار بہادر خان صاحب نے کسی قدر جوش سے کہا یہ کیسی حکومت ہے جو ملک میں امن قائم رکھنے کے بھی قابل نہیں۔ چوہدری محمد علی صاحب اور اشتیاق حسین قریشی صاحب نے بھی اس رائے کا اظہار کیا کہ امن عامہ کے لئے مضبوط اقدام کی ضرورت ہے۔ میاں مشتاق احمد خان گورمانی شروع ہی سے راست اقدام کی تحریک کے سخت مخالف تھے انہوں نے بھی یہی مشورہ دیا گورنر صاحب کی طرف سے دوبارہ حالت اضطراب میں کہا گیا کہ مطالبات کو قبول کرنے کا فوراً اعلان ہونا چاہیے ورنہ لاہور کا اکثر حصہ آج شام تک نذر آتش ہو کر راکھ کا ڈھیر ہو جائے گا۔

کابینہ کی رائے ہوئی جب گورنر صاحب اور ان کی کابینہ اس قدر بے بس ہو چکے ہیں تو معلوم کرنا چاہیے کہ کیا فوج ان حالات کو ضبط میں لا سکتی ہے؟ اسکندر مرزا صاحب کو جو اس وقت وزارت دفاع کے سیکریٹری تھے اور اجلاس میں موجود تھے ہدایت دی گئی کہ فوجی لاسلکی پیغام کے ذریعہ جنرل اعظم خان صاحب سے معلوم کریں کہ صحیح صورت حالات کیا ہے اور دریافت کریں کہ کیا انہیں امن قائم کرنے میں کسی دقت کے پیش آنے کا اندیشہ ہے۔ جب سکندر مرزا صاحب کابینہ کی ہدایت کے مطابق جنرل اعظم خان صاحب سے بات کرنے کے لئے تشریف لے گئے تو وزیر اعظم صاحب بھی اجلاس سے چند منٹ کے لئے تشریف لے گئے۔ باقی وزراء اسکندر مرزا صاحب کی واپسی کے انتظار میں آپس میں بات چیت میں مصروف رہے۔

پندرہ بیس منٹ کے بعد اسکندر مرزا صاحب نے واپس آ کر اطلاع دی کہ جنرل اعظم خان صاحب کہتے ہیں کہ حالات تو ویسے ہی ہیں جیسے گورنر صاحب کی اطلاع سے ظاہر ہے لیکن اگر انہیں ہدایت دی جائے تو فوج ایک گھنٹے کے اندر امن قائم کر سکتی ہے۔ اسکندر مرزا صاحب نے فرمایا کہ میں نے جنرل اعظم سے کہہ دیا کہ وہ مناسب اقدام کریں۔ وزراء اسکندر مرزا صاحب کی اطلاع سے مطمئن ہو گئے۔ اتنے میں وزیر اعظم صاحب کابینہ کے اجلاس میں واپس آ گئے۔ اور اسکندر مرزا صاحب نے ان کی خدمت میں بھی گزارش کر دی کہ انہوں نے جنرل اعظم کو ہدایت دے دی ہے کہ امن قائم کرنے کے لئے مناسب اقدام کریں ”
[تحدیث نعمت ص 585 ]

اس سے واضح ہے کہ اسکندر مرزا صاحب نے جو ہدایت دی تھی وہ اپنی طرف سے دی تھی۔ اور اس ہدایت کے لئے انہوں نے وزیر اعظم یا کابینہ سے کوئی اجازت نہیں لی تھی۔ حالانکہ وہ ایک دو منٹ میں یہ اجازت لے سکتے تھے۔ اس وقت انہوں نے وزیر اعظم صاحب اور کابینہ کو صرف یہ بتایا تھا کہ انہوں نے مناسب اقدام کے لئے ہدایت دی ہے۔ اس سے اولین خیال یہی آ سکتا تھا کہ فوج قانون کے مطابق سول انتظامیہ کی مدد کو آئے گی اور لاہور میں امن کو قائم کرے گی جیسا کہ دو روز پہلے اس طریق پر فوج کامیابی سے امن قائم کر چکی تھی۔ ایسا قدم اٹھانے اور مارشل لاء لگانے میں بہت فرق ہے۔ جیسا کہ جنرل اعظم صاحب کی گواہی درج کی جا چکی ہے یہ کارروائی مجسٹریٹ کی موجودگی میں کی گئی تھی اور یہ کارروائی سول انتظامیہ کی ہدایت کے ماتحت کی جاتی ہے اور مارشل لاء میں فوج مکمل نظم و نسق سنبھال لیتی ہے اور سول انتظامیہ کے ماتحت نہیں رہتی۔

یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ لاہور میں مارشل کا اعلان جنرل اعظم خان صاحب نے کیا تھا لیکن جنرل اعظم کو مارشل لاء لگانے کا حکم کس نے دیا تھا۔ جنرل اعظم خان صاحب نے تحقیقاتی عدالت کے ایک سوال کا جواب میں کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ کے علاوہ علیحدہ گورنر پنجاب چندریگر صاحب کو بھی کہا کہ اب بلوائیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے تو انہوں نے بھی جواب دیا کہ میرے پاس اختیار نہیں ہے۔ اس کے بعد میں نے جی ایچ کیو فون کر کے چیف آف سٹاف جنرل ناصر علی خان کو کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم مداخلت کر کے امن قائم کریں۔ اور سول انتظامیہ حالات ہمارے حوالے نہیں کر رہی ہے۔ جنرل ناصر علی خان نے سیکریٹری دفاع کو فون کیا اور سکریٹری دفاع نے مجھے دو مرتبہ فون کیا اور دوسرے فون پر
I was instructed to take over
یعنی انہوں نے مجھے ہدایت دی کہ میں کنٹرول سنبھال لوں۔ اور اسی روز کی کارروائی کے دوران انہوں نے ایک وکیل کے سوال کے جواب میں دوسرے فون میں سیکریٹری دفاع کے پیغام کو ان الفاظ میں بیان کیا۔

It was to the effect that the Prime Minister of Pakistan has authorized me to declare matial law and restore law and order

یعنی اس پیغام کا مطلب یہ تھا کہ وزیر اعظم پاکستان نے مجھے اختیار دیا ہے کہ میں مارشل لاء لگا کر امن قائم کروں۔

جنرل صاحب کہ دونوں بیانات میں کچھ فرق ہیں۔ پہلے بیان میں سیکریٹری دفاع نے یہ کہا تھا کہ وہ ٹیک اوور کریں۔ اور دوسرے دوسرے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے انہیں اختیار دیا ہے کہ وہ مارشل لاء لگا دیں۔ کن شرائط کے ساتھ لگائیں؟ صرف لاہور میں لگائیں یا پورے صوبے میں لگائیں۔ ان اہم امور کا کوئی ذکر ہی نہیں۔ اور ہم پہلے جائزہ لے چکے ہیں کہ وزیر خارجہ کے مطابق سیکریٹری دفاع سندر مرزا صاحب نے جنرل اعظم صاحب کو جو بھی ہدایات دی تھیں وہ وزیر اعظم سے دریافت کیے بغیر دی تھیں۔

وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب نے اس بارے میں کیا کہا؟ وہ گواہ نمبر 120 کی حیثیت سے پیش ہوئے تھے۔ جب عدالت نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ نے  اسکندر مرزا صاحب کو ہدایت دی تھی کہ وہ جنرل محمد اعظم صاحب کو ٹیک اوور کرنے کا کہیں تو اس کے جواب میں خواجہ ناظم الدین صاحب نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ میں نے انہیں کہا تھا کہ وہ جنرل اعظم کو کہیں کہ وہ ٹیک اوور کرنے کے لئے تیار رہیں۔ اور یہ فرض کیا گیا تھا کہ اگر حالات تقاضا کریں تو وہ ہم سے مشورہ کیے بغیر ٹیک اوور کر لیں گے۔ مجھے یہ یاد نہیں کہ میں نے اسکندر مرزا کو یہ کہا ہو کہ وہ جنرل اعظم صاحب سے درخواست کریں کہ وہ ٹیک اوور کر لیں۔ البتہ میں جنرل اعظم کے قدم کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں کیونکہ ملٹری کا ٹیک اوور کرنا ہی وہ واحد راستہ تھا جس سے حالات پر قابو پایا جا سکتا تھا۔ اسی گواہی میں انہوں نے یہ اظہار بھی کیا کہ جب گورنر جنرل غلام محمد صاحب نے ان کو وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کیا تو یہ قدم سیکریٹری ڈیفنس اور کمانڈر انچیف [ایوب خان صاحب ] کی مدد سے اٹھایا گیا تھا۔

تحقیقاتی عدالت میں دی گئی گواہیوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نے لاہور میں مارشل لاء لگانے کا حکم نہیں دیا تھا۔ کابینہ کا اجلاس اس وقت جاری تھا لیکن کابینہ نے بھی ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ جنرل اعظم خان صاحب نے اپنی گواہی کے دوران اپنے الفاظ تبدیل کیے۔ عدالت نے اس وقت کے کمانڈر انچیف ایوب خان صاحب یا جی ایچ کیو کے کسی افسر سے یہ دریافت نہیں کیا کہ کیا انہوں نے لاہور میں مارشل لاء لگانے کی ہدایت جنرل اعظم کو دی تھی؟ اور پولیس اور فوج دونوں اس بات پر متفق تھے کہ آخری دنوں میں بھی اگر مضبوط اقدامات اٹھائے جاتے تو بغیر مارشل لاء کے آسانی سے حالات قابو کیے جا سکتے تھے۔

ان فسادات سے یہی سبق حاصل کیا جا سکتا ہے کہ بار بار ملک میں سیاسی، لسانی، قومی اور مذہبی اختلافات کو ہوا دی جاتی ہے اور اس آڑ میں فسادات اور خون خرابے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اور پھر اس بہانے کی آڑ میں کسی نہ کسی گروہ کو پاکستان پر مسلط کر دیا جاتا ہے۔

پہلا مارشل لاء کیوں لگا؟ کس نے لگایا؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments