نوکری، کاروبار اور ہمارا مستقبل

میں اپنے اطراف میں نظر دوڑاتا ہوں تو اکثر ایسے لوگ سامنے آتے ہیں جنہیں نوکریوں کی تلاش رہتی ہے۔ نوجوان اپنے لئے اور بڑے اپنے بچوں کے لئے نوکریوں کے متلاشی ہوتے ہیں۔ طالب علمی کے دور میں میرے کچھ احباب کامرس اور بزنس ایڈمنسٹریشن کے شعبوں میں ڈگریاں حاصل کرنے کی دوڑ میں مشغول تھے۔ میں جب ان سے کاروبار کرنے کے عملی داؤ پیچ کے بارے میں دریافت کرتا تھا تو وہ ان سے نا آشنا نظر آتے تھے۔ ان کو بھی نوکری چاہیے ہوتی تھی۔
مجھے حیرت تب ہوتی ہے جب میں کامرس اور بزنس پڑھے نوجوانوں کو بھی بے روزگاری کی چکی میں پستا دیکھتا تھا۔ ایسی کامرس و بزنس کی ڈگری کس کام کی جو آپ کو یہ بھی نہ سکھا سکے کہ روزگار کس طرح حاصل کرنا ہے۔ میری نظر میں نوکری کرنے سے افضل ایسی راہ ہے جس پر چل کر آپ تو کامیاب ہوتے ہی ہیں، ساتھ ساتھ، دوسروں کو روزگار فراہم کرنے کا سبب بنتے ہوئے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
روٹر ایکٹ نوجوانوں کی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے۔ یہ روٹری انٹرنیشنل کے بطن سے جنمی ہے اور سماجی سرگرمیوں کا حصہ رہتی ہے۔ میں روٹر ایکٹ کلب آف خیرپور کا بانی صدر تھا۔ میں نے اپنے ہمعصر نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور ہم سماجی بھلائی کے کاموں سے جڑ گئے۔ ان دونوں کچھ انتہائی ذہین طالب علم میرے ساتھ تھے جو اب اچھے عہدوں پر فائز ہیں۔ ان میں سے جو کامرس و بزنس پڑھ رہے تھے، ان کو میں نے مشورہ دیا کہ تھوڑے سرمائے سے ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کرتے ہیں جس میں سب برابر کے حصہ دار ہوں اور وہ جو کچھ کلاس میں پڑھ رہیں ہیں اسے عملی میدان میں کام لایا جائے۔
اس سے کاروبار بھی چل پڑے گا اور ان کو تجربہ بھی حاصل ہو گا۔ افسوس، ان میں سے کوئی بھی آگے نہیں آیا۔ ان کے ادارے ڈگری تو دے پائے لیکن وہ خود اعتمادی نہیں جس سے لوگ بڑی بڑی منازل حاصل کر لیتے ہیں اور پرخطر راستے ان کے لئے مشکل نہیں ہوتے۔ تعلیمی اداروں کا کام کلرک پیدا کرنے کی فیکٹریوں کی جگہ لیڈر تخلیق کرنا ہونا چاہیے۔
میں جب کنگز کالج لندن کے بزنس اسکول میں زیر تعلیم تھا تو ہمیں انٹر پرینیور شپ کا مضمون لازمی پڑھایا گیا تھا جس میں بزنس کرنے کے فن کے عملی پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاتے تھی۔ آئیڈیاز کی باتیں ہوتی اور عملی حل تلاش کیے جاتے۔ جو طالب علم کوئی بہترین بزنس آئیڈیا لے کر آتا اسے پیشہ ورانہ سہولت کاری فراہم کی جاتی۔ اس کے آئیڈیا کو پچ کروایا جاتا۔ لندن کے وینچر کیپیٹلسٹوں کے ساتھ ملاقات کا موقع دیا جاتا تا کہ وہ سرمایہ حاصل کر سکیں اور اپنے خیال کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تعلیمی ادارے کے فارغ التحصیل آج دنیا بھر میں اہم کام کر رہے ہیں اور اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑتے نظر آتے ہیں۔
ہمارا ملک بھی زرخیز ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ کاروباری منظر نامے پہ گہری نظر رکھوں۔ حال ہی میں تمام دنیا کی طرح پاکستان میں بھی انکیوبیٹرز قائم کرنے کا رجحان جڑ پکڑتا نظر آ رہا ہے جو ابھرتے کاروباری ذہنوں کو معاونت فراہم کرتے ہیں۔ کام ہو رہا ہے لیکن مزید کام کی ضرورت ہے۔ اس میدان میں ہم سست روی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ رابطوں کے انقلاب نے دنیا بھر کی کاروباری منڈیوں تک رسائی آسان کر دی ہے۔ اب ہم اپنے کمرے میں بیٹھے بیٹھے دنیا بھر میں کاروبار کر سکتے ہیں۔
اس لئے ہمیں چاہیے کہ گلی محلوں سے لے کر اسکولوں تک، کالجوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک، کاروبار کرنے کے رجحان کی ہمت افزائی کریں۔ ایک مربوط حکمت عملی کے تحت نوکری کی رٹ سے آزاد ہو کر اس سوچ کی آبیاری کرنی چاہیے جس سے نوجوان نوکریاں تخلیق کرنے کی تگ و دو کریں۔ اگر ہم ایسا کر پائے تو ہمارا مستقبل مستحکم ہو گا اور ہمارا ملک ترقی کے مراحل طے کرتا چلا جائے گا۔

