احیائے استعمال خط کیوں ضروری ہے؟
کہا جاتا ہے تحریر کی ایجاد سے لفظ اور علم کی عمر میں اضافہ ہوا۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے الفاظ کو تحریر میں ڈھال کر عقلی پیرائے میں استعمال کیا جائے تو زندگی کے مختلف پہلؤں سے متعلق دیرپا علم سامنے آتا ہے۔ صاحب علم افراد خاص طور مصنفین نے دنیا سے متعلق اپنی ایجادات، تجربات یا ذاتی خیالات کی ترجمانی کے لیے تحریر کو کتابوں، یا مضامین میں ڈھالا، جس سے مادے سے متعلق علم کو لمبی زندگی ملی۔
مادی علم سے پرے احساسات اور جذبات کی دنیا ہے، جنہیں الفاظ عطا کر کے تحریری شکل دی گئی تو شعر، ناول یا کہانیوں کی صورت میں ادبی علم سامنے آیا۔
اس درمیان ایک عام آدمی موجود ہے۔ اس عام آدمی کو بھی اپنی ذاتی اور روز مرہ کی زندگی کے تجربات، اور جذبات کسی دوسرے تک پہنچانا ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اس نے تحریر کو خط کے طور پر استعمال کیا۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ اس نے احساسات کی صحیح طور پر مخاطب تک پہنچنے میں بھی مدد فراہم کی ہے۔ کیونکہ خط کے لکھے جانے اور ارسال کرنے کے درمیان ایک وقت ہے، یہ وقت خیالات کی چھانٹ اور احساسات کو سمجھنے پر صرف ہوتا ہے۔
آج خط وجود تو رکھتا ہے لیکن اب اس کا استعمال محض ملک کے داخلی اور خارجی دفتری معاملات کو چلانے تک محدود ہے۔ تاہم، عام آدمی کی زندگی میں خط کا اصل وجود اور استعمال ختم ہو چکا ہے۔ اس کی جگہ برقی پیغامات یعنی میسجز نے لے لی ہے۔
میسنجر ایپس ہمیں فوری پیغام دوسرے تک پہنچانے یا وصول کرنے کی سہولت تو بہترین طریقے سے فراہم کرتی ہیں۔ لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کسی اہم مسئلے، کسی اہم رشتے سے متعلق دل کی بات کرنی ہو، اور دماغ میں چلنے والی نیورل فائرنگ کے درمیان سے دل کی بات نکال کر لانی ہو، پھر تحریر کرنی ہو۔ یہاں پیغامات کی برق رفتاری اکثر ہمارا نقصان کر جاتی ہے۔ کیونکہ ان میسنجرز کی تیز رفتاری نے ہمیں سوچ سمجھ، اور پڑتال کر کے میسج بھیجنے یا موصول ہوئے میسج کا جواب دینے سے تقریباً محروم کر دیا ہے۔
ایسے میں میسج موصول ہوتا ہے، اور بلیو ٹک دوسرے کو موصول ہو چکا ہے، لہذا جواب فوری دینا ہے۔ لہذا جواب دے دیا جاتا، جواب کتنا غلط تھا کتنا صحیح، اس بات کا اندازہ بعد میں ہوتا ہے۔ اور اکثر اوقات ہمیں اپنے کی میسج کا مطلب سمجھانا پڑتا ہے۔
گو کہ کچھ ایپس نے ہمیں ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے میسج ڈیلیٹ کرنے جیسی سہولت فراہم کی ہے لیکن کم ہے، اور نئے مسائل کی موجب ہے۔
لہذا خط کے استعمال کو اصل حالت میں نا سہی الیکٹرانک لیٹر کی صورت میں عام آدمی کی زندگی میں واپس لانا ضروری ہے۔ خاص طور جب کسی رشتے کو بچانا، کسی مسئلے کو سلجھانا ہو۔ کیونکہ جب ہم کورا کاغذ سامنے رکھ کے لکھنے بیٹھتے ہیں تو ہمیں خبر ہوتی ہے کہ کہنے کچھ بھی نہیں یا بہت کچھ ہے، لیکن ہمیں یہ سمجھنے میں مشکل درپیش ہوتی ہے کہ وہ کون سی بات ہے جو ہم واقعی کہنا چاہتے ہیں۔
جب خط لکھنے بیٹھیں گے تو غور فکر کرنے کا وقت میسر ہو گا۔ آپ کے پاس وقت ہو گا اپنے پی جذبات اور خیالات کو صحیح طور پر سمجھنے اور مناسب الفاظ کے ساتھ کاغذ یا الیکٹرانک نوٹ پیڈ پر اتارنے کا۔ اور خط آپ کو قطع و برید کی سہولت فراہم کرتا ہے۔


