خیبر پختونخوا میں آٹے کا مصنوعی بحران اور تحریک انصاف
صوبہ خیبر پختونخوا میں دیگر اشیاء خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ساتھ آٹے کی عدم دستیابی بے روزگار اور خالی جیب عوام کو ایک بڑا چیلنج بنتے بنتے تھم گئے۔ آٹے کی مصنوعی قلت اور زیادہ نرخ کے ذمہ دار صرف اور صرف پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ہی کو ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 9 سالوں سے پاکستان تحریک انصاف کی مکمل اور مضبوط حکومت ہے صوبے کے عوام کے مسائل میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہوا اور مسلسل ہو رہا ہے۔
ویسے صوبہ کے پاس اپنے لئے سالانہ گندم خریدنے کا پورا پورا اختیار بھی ہے اور کمی کو دور کرنے کے لئے کسی بھی وقت کہیں سے بھی گندم کی خرید بلا روک ٹھوک کر سکتی ہے لیکن اس کی نوبت ہی نہیں ہے کیونکہ اس وقت بھی سرکاری گوداموں میں گندم کی وافر مقدار موجود ہے لیکن صوبائی حکومت، ملز مالکان اور محکمہ خوراک کے متعلقہ افسران کی ملی بھگت سے پیسہ بنانے کے چکر میں اربوں روپے سبسڈائزڈ آٹے پر خرچ کر کے عوام کے آنکھوں میں دھول ڈال رہی ہے جبکہ وہی آٹا درپردہ مبینہ طور پر بعض ملز مالکان کے باہمی شراکت سے اوپن مارکیٹ میں پورے مارکیٹ ریٹ پر فروخت کیا جا رہا ہے جس میں مبینہ طور پر پاکستان تحریک انصاف کی مقامی قیادتیں پوری طرح ملوث ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف ایک طرف لوٹ کھسوٹ اور دوسری طرف عوام کو گمراہ کرنے کی غرض سے مہنگائی کے خلاف مظاہرے بھی کر رہی ہے۔ جب سرکاری گودام گندم سے بھرے پڑے ہیں، تو بجائے ڈیمانڈ کے مطابق سپلائی کرنے ہر ضلع کا کوٹہ کیونکر کم کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلی کے آرڈر پر ہی ڈائریکٹر فوڈ اور سیکریٹری فوڈ کسی بھی ضلع کا کوٹہ کم یا زیادہ کرتا ہے۔ حکومت پاکستان نے ماہ نومبر 2022 سے 3 لاکھ ٹن جو کہ 112 ملین ڈالرز کے مالیت کا گندم ہے روس سے امپورٹ کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے، جس کا ثبوت گزشتہ روز ہی روس سے سمندری جہاز کراچی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوچکے ہیں اور گندم کی ترسیل صوبے کو شروع ہو چکی ہے۔
ایک چھوٹی سی مثال ایک ضلع ہی کی لیجیے ضلع مردان کے کوٹہ کو 3140 بیگ /فی بیگ 100 کلو گرام سے بڑھا کر 4160 بیگ/ فی بیگ 100 کلوگرام روزانہ کر دیا گیا ہے، یہ بات یاد رکھی جائے کہ کوٹہ کم کرنے یا بڑھانے کے فیصلہ کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہوتا ہے جو کہ کابینہ سے منظوری کے بعد کرتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع مردان کی آبادی 27 لاکھ افراد پر مشتمل ہے، جس کی یومیہ گندم کی ضرورت اندازہ ”923 میٹرک ٹن ہے، ضلع مردان فوڈ اتھارٹی کے پاس 20 ہزار میٹرک ٹن گندم اپنے گوداموں میں ذخیرہ کرنے کی سہولت جبکہ 15 ہزار میٹرک ٹن گندم کا ذخیرہ پہلے سے موجود ہے جو اندازہً ضلع مردان کے عوام کے لئے 16 دنوں کے لئے کافی ہے۔
صوبائی حکومت کے احکامات کے مطابق ضلع مردان کے 923 میٹرک ٹن ضرورت میں سے ضلعی فوڈ اتھارٹی 416 میٹرک ٹن گندم روزانہ اپنے ضلع کے 22 فلور ملز کو سپلائی کرتی ہے جبکہ باقی ماندہ 507 میٹرک ٹن گندم روزانہ کی ضرورت پرائیویٹ مارکیٹ سے پوری ہوتی ہے۔ پرائیویٹ آٹا ڈیلرز پنجاب سے آٹا لے کر یہ ضرورت پوری کرتے ہیں اور اگر ضرورت پوری نہ کردی جائے تو آٹے کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ آٹے کی قیمتیں تین وجوہات کی بناء پر بڑھتی ہیں نمبر ایک اگر حکومت ہر ضلع کو اس کے آبادی کے لحاظ سے کوٹہ کم کرے، دوئم اگر پنجاب سے گندم یا آٹے کی اپنی ضروریات پوری نہ کی جائے، سوئم اگر صوبائی حکومت ملی بھگت سے گندم کی ترسیل میں رکاوٹ ڈال دے یا پرائیویٹ ڈیلرز ذخیرہ اندوزی کریں تب ہی گندم آٹے کا بحران پیدا ہو گا اور قیمتیں بڑھیں گے۔
لیکن صوبہ پنجاب میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی ناقص حکومتی پالیسی کے بدولت وہاں بھی آٹے کا بحران پیدا ہو گیا اور بدقسمتی سے صوبہ پنجاب میں ضلع سے باہر گندم لے جانے پر بھی پابندی لگائی گئی جس سے پرائیویٹ مارکیٹ میں گندم کی کمی کو پورا کرنے اور پیسے بنانے کے چکر میں آٹا ڈیلرز حضرات پنجاب چیک پوسٹوں پر بھاری بھر رشوت دے کر آٹا صوبہ پختونخوا سمگل کرنے لگے جس کی وجہ سے آٹے کی قیمتیں ریکارڈ حد تک اوپر پہنچ گئیں جو کہ غریب عوام کی برداشت سے باہر ہو گیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے اپنے ہی صوبائی و قومی پارلیمنٹ ممبران کی آٹے بحران کو ختم کرنے کے جلوسوں، اور جے یو آئی اور صوبے کے مختلف اضلاع سے عوام کے دباؤ میں آ کر سینئیر وزیر محمد عاطف نے فی الفور پریس کانفرنس کر کے آٹے کی بحران ختم کرنے اور روس سے گندم کے سپلائی کی خبریں دے کر عوام میں کریڈٹ لینے کی کوشش کی۔ عوام کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ روس سے گندم کی خریداری بر وقت ہوئی ہے اور گندم کے بحری جہاز کراچی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوچکے ہیں جس کی ترسیل صوبے کو جاری ہے اور امید ہے کہ آئندہ ہفتے آٹے کی قیمت 2200 روپے فی 20 کلو تھیلے تک پہنچنے کا امکان ہے۔


