سارے جہاں کا درد (حصہ دوم)۔


کتاب کی اشاعت کوئی آسان کام نہیں تھا کیونکہ تمام شعراء کے کلام کو دیکھ کر پرکھنا اور پھر قابل اشاعت کلام کو علیحدہ کرنا، منتخب کلام میں پائی جانے والی زبان و بیان کی معمولی کمزوریوں کو دور کرنا، سرورق کا انتخاب کرنا، کتاب پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ لگا کر متعلقین سے رقوم اکٹھی کرنا، پبلشر کے ساتھ معاملات طے کرنے کے بعد موزوں مواد اسے ارسال کرنا اور ٹائپ ہو جانے کے بعد اس کی پروف ریڈنگ کرنا، پبلشر کے ساتھ مستقل رابطے میں رہنا تاکہ کتاب بروقت چھپ کر ٹریننگ کالج پہنچ جائے۔

مگر ان تمام کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا بیڑہ امجد صابری نے اٹھالیا تھا اور اس نے تمام امور بڑے احسن طریقے سے نبھانا شروع کر دیے تھے۔ نہیں معلوم کہ امجد صابری نے اس کٹھن کام سے عہدہ برا ہونے کے لیے کیا کیا جتن کیے، کتنے ویکنڈز قربان کیے اور اپنی ذاتی گرہ سے کتنی رقم خرچ کی مگر یہ حقیقت ہے کہ اس نے جو ذمہ داری اٹھائی اسے پوری کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ اٹھا رکھا۔ کتاب کی پہلی 500 کاپیاں چھپ کر پاسنگ آؤٹ پریڈ سے پندرہ دن قبل پولیس کالج میں پہنچ گئیں۔

کتاب کا چمکدار سرورق دیکھ کر ہمارے چہرے بھی خوشی سے تمتمانے لگے۔ مسرت کا ایک عجیب عالم ہم سب پہ طاری تھا۔ شادمانی کے ان لمحوں میں ہم نے اپنی اپنی کاپیاں وصول کیں اور انھیں اپنے پیارے دوستوں میں تحفتاً تقسیم کرنا شروع کر دیں۔ مجھے تو اپنے جاننے والوں میں پانچ یا سات لوگ ہی ایسے نظر آئے جنھیں کتاب دی جاتی تو وہ اسے نا صرف بخوشی قبول کرتے بلکہ اس کا مطالعہ بھی کرتے اور ایک یادگار کے طور پر اپنے پاس محفوظ بھی رکھتے۔ سو میں نے دوستوں تک کتابیں پہنچا دیں جو انھوں نے شکریے کے ساتھ وصول کر لیں۔

کتابیں موصول ہونے والا یہ دن ایک ایسے خواب کی طرح تھا جس کی ابتدا تو نہایت دل آویز ہو مگر اس کا اختتام انتہائی کربناک۔ ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ہم ایک نامور شاعر بننے کے مسحورکن خیالات میں کھوئے نیند کی آغوش میں جانے ہی والے تھے کہ ہاسٹل کے کمروں کے باہر کچھ ہلچل سی محسوس ہوئی، کوئی زوردار آواز میں پوچھ رہا تھا ”شاعر کون سے کمرے میں رہتے ہیں؟“ بڑا عجیب منظر تھا کہ ڈرل سٹاف کے دسیوں جوان شاعروں کو دیوانہ وار تلاش کر رہے تھے اور کچھ ہی دیر میں چشم فلک نے یہ دل سوز منظر دیکھا کہ سات شاعر بے یار و مددگار ڈرل سٹاف کے نرغے میں سراپا سوال بنے کھڑے تھے اور زبان حال سے یہ دریافت کر رہے تھے کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے کہ ہماری گرفتاری ایسی چابک دستی اور ہوشیاری سے عمل میں لائی گئی کہ جیسے ہم بہت ہائی پروفائل مجرم ہیں۔

ہمیں پکڑنے کے بعد ڈرل سٹاف کے چہروں پہ ایک ایسی فاتحانہ مسکراہٹ تھی کہ گویا وہ ہماری تلاش میں نجانے کب سے سرگرداں تھے، جس میں آخر کار انھیں کامیابی نصیب ہوئی۔ ہم شاعر حیرانی کے عالم میں ہونقوں کی طرح ایک دوسرے کو تک رہے تھے۔ کوئی ہمیں کچھ بتانے کو تیار نہ تھا کہ آخر ہمارے ساتھ یہ ”حسن سلوک“ کیوں روا رکھا جا رہا ہے۔ اس کود پھاند اور ہا ہا کار میں سوئے ہوئے جاگ گئے، جو جاگ رہے تھے وہ بالکونیوں میں آ کر کھڑے ہو گئے اور تماشا دیکھنے لگے۔

اب منظر کچھ یوں تھا کہ ہم ڈرل سٹاف کے چنگل میں مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑے تھے اور ہمارے ساتھی چہار اطراف ہجوم کی صورت کھڑے ہمیں دیکھ رہے تھے۔ کچھ نا عاقبت اندیش قسم کے ہمارے ساتھی قہقہے لگاتے ہوئے لفنگے قسم کے جملے کس رہے تھے اور کچھ خود ساختہ قسم کے بھونڈے الزامات عائد کر رہے تھے۔ جب پولیس کالج کی سڑک پر برقی قمقموں کی تیز پیلی روشنی میں سے گزارتے ہوئے ہمیں لے جایا جا رہا تھا تو ہمیں خود پر گوانتانامو بے جیل کے قیدیوں کا گمان ہو رہا تھا۔

رات کے تقریباً دس کا وقت ہو گا جب ہمیں غیض و غضب سے بھرے ایک ایس پی صاحب کے سامنے پیش کیا گیا۔ جو ہمیں دیکھتے ہی شعلہ بار ہو گیا، ادھر اس اچانک صورتحال کی وجہ سے ہماری یہ حالت تھی کہ ہم سیدھی سادی بات کا بھی ٹھیک طرح سے جواب نہیں دے پا رہے تھے، گلے سوکھ گئے تھے اور زبانیں تھتھلانے لگی تھیں، پوچھا کچھ جاتا تھا، جواب کچھ دیتے تھے اور اس پر ستم یہ کہ ایس پی صاحب گرجدار آواز میں سوالات کی بوچھاڑ کر رہے تھے۔

”او وڈے شاعرو! تم نے کس کی اجازت سے کتاب چھپوائی؟ کتاب میں پولیس کالج کا حوالہ کس کی اجازت سے دیا؟ بغیر اجازت افسران بالا کے نام کیوں لکھے؟ کتاب کے صفحہ اول پہ پولیس کالج کا مونوگرام کیوں چھاپا؟ کتاب کس کی اجازت سے پولیس کالج میں منگوائی؟ کس کی اجازت سے یہ کتاب کالج کے ٹرینیز کو بیچی گئی؟ دوران ٹریننگ کس اتھارٹی نے تمہیں اس طرح کا کاروبار کرنے کی اجازت دی؟ اب نا صرف سال بھر کی ٹریننگ ضائع ہوگی بلکہ تم لوگ نوکری سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے۔ تم بالکل معافی کے لائق نہیں ہو۔ میں اپنی انکوائری میں تمہارے لیے سخت سے سخت سزا تجویز کروں گا“ ۔ کتابیں فروخت کرنے کے سوال پہ ہم نے تھوڑی سی ہمت پکڑی اور سہمے ہوئے انداز میں جواب دیا کہ جناب والا! ہم نے تو کچھ کتابیں اپنے قریبی دوستوں کو تحفتاً دی ہیں، فروخت کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

صاحب موصوف نے ہمارے اس جواب کو غیر تسلی بخش پاتے ہوئے ہمیں اپنے کمرے سے باہر جانے کا حکم صادر فرما دیا اور اس کے ساتھ ہی تمام بیچ کے کلاس مانیٹرز کو طلب کر لیا۔ تھوڑی ہی دیر میں کلاس مانیٹرز اکٹھے ہو گئے تو میں بھی ایک کلاس کا مانیٹر ہو نے کے ناتے مذموم شاعروں کی قطار سے نکل کر مانیٹرز کی صف میں جا کھڑا ہوا۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا، گھور اندھیرے میں کالج کی در و دیوار پہ خوف پوری طرح اپنے پنجے گاڑ چکا تھا۔

ایسے میں ردیف، قافیے اور لفظوں سے کھیلنے والے سات شاعروں کی سٹی گم ہو چکی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ہم کلاس مانیٹرز ایس پی صاحب کے سامنے پیش ہوئے تو انھوں نے ہمیں ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ”دیکھو یہ باہر جو کمینے شاعر کھڑے ہیں انھوں نے کتاب چھپوا کر زیر تربیت افسران کو فروخت کی ہیں، تمہارے پاس کلاس وائز لسٹیں موجود ہیں، فی الفور جاؤ اپنی اپنی کلاس کے ٹرینیز سے پوچھ کر آؤ کہ کس کس نے ان سے کتابیں کتنی رقم کے عوض خریدی ہیں“ ۔ اس ساری گفتگو میں مذکورہ ایس پی صاحب یہ نہ پہچان سکے کہ ان مانیٹرز میں ایک شاعر بھی موجود ہے۔

خیر سب مانیٹرز اپنی اپنی کلاس کی لسٹیں تھامے ہاسٹل کے کمروں کے دروازے کھٹکھٹا کر یہ پوچھنے لگے کہ بھائیو! بتاؤ ان شاعروں سے تم نے کوئی کتاب خریدی ہے یا نہیں، اگر خریدی ہے تو کس بھاؤ میں؟ ڈیڑھ دو گھنٹے کی پوچھ پڑتال کا یہ نتیجہ نکلا کہ کسی بھی ٹرینی نے یہ بیان نہیں دیا کہ اس نے کوئی کتاب خریدی ہے، جس کسی کو بھی کتاب ملی تھی اس نے یہی موقف اپنایا کہ کتاب اسے تحفتاً دی گئی تھی۔ ڈیڑھ دو گھنٹے کی اس دریافت کے دوران شاعر ایس پی صاحب کے کمرے کے باہر ڈرل سٹاف کے کڑے پہرے میں موجود رہے۔ رات کے تقریباً بارہ بجے شاعروں کو ان کے کمروں میں جانے کی اجازت دے دی گئی۔

اگلا دن ایک اور مصیبت کا سامان ساتھ لایا کہ ساتھی ٹرینی جوق در جوق افسوس کے لیے آنا شروع ہو گئے، یہ عجیب تعزیت تھی جو مخول سے شروع ہوتی تھی اور قہقہوں پہ ختم ہوتی تھی۔ جو بھی آتا ہمارے زخموں کو کرید کرید کر اور گہرا کر جاتا اور ہمارا یہ عالم تھا کہ ہم ہنس سکتے تھے نہ رو سکتے تھے۔ پھر اس کے بعد کچھ ایسا سلسلہ چل نکلا کہ کلاس میں بیٹھے ہوتے تھے کہ کسی ہرکارے کی سنسناتی ہوئی آواز قلب و روح میں پیوست ہو جاتی ”شاعروں کو ایس پی صاحب بلا رہے ہیں۔“

”شاعر جلد از جلد اپنے شوکاز نوٹس وصول کر کے جواب دیں۔“
”جن شاعروں نے اپنے شوکاز نوٹس کے جواب نہیں دیے وہ باہر آئیں۔“

مطلب کہ اگلے آٹھ دس دنوں میں وہ مٹی پلید ہوئی کہ الحفیظ و الامان۔ ایک افسر کی پیشی بھگت کے آتے تو دوسرا بلا لیتا اور پھر ہم افسروں کے کمروں کے باہر کھڑے ہو کر اپنے اپنے جوابات ٹیلی کر رہے ہوتے۔ جس افسر کے پیش ہوتے وہ ہمیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا اور جو صلواتیں اسے یاد ہوتیں وہ ساری ہمیں سنا کے دم لیتا۔ بعض دفعہ تو ہمیں ایسے نا معقول اور بے تکے سوالات کا سامنا کرنا پڑا کہ ہم نے اپنا سر پیٹ لیا۔

اذیت بھرے ان لمحات میں ایک دو رقیق القلب قسم کے شاعروں نے اس تذلیل اور تضحیک کے رد عمل کے طور پر تا دم مرگ شاعری سے توبہ تائب ہونے کی ٹھان لی تھی۔ افسروں کی پیشی کے بعد شاعر کچھ دیر کے لیے افسردہ و غمگین ضرور ہوتے تھے مگر پھر اختر زیدی کا ایک زوردار قہقہہ فضا میں بلند ہوتا اور ہم چند ثانیوں کے لیے سب کچھ بھول کر مسکرانے لگتے۔

پاسنگ آؤٹ سے دو دن پہلے تک ہم اپرادھیوں کی طرح پیشیاں بھگتتے رہے اور جان بخشی کی التجائیں کرتے رہے کہ عالی جاہ! ہمیں معاف کر دیا جائے کہ ہم نے پڑھنے، سوچنے اور لکھنے کی جسارت کی۔ آخر کار کافی سب و وشتم اور طعن و تشنیع کے بعد آئندہ اس طرح کے فعل قبیح سے باز رہنے کی شرط پر ہمیں معافی دی گئی اور ہماری کتابوں کو ضبط کر کے سٹور روم میں پھینک دیا گیا۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS