مڈل کلاس اب غریب بن چکی ہے

ورلڈ بنک کی بتائی ہوئی تعریف کے مطابق جس شخص کی ماہانہ آمدن کم از کم 300 اور زیادہ سے زیادہ 1500 ڈالر ہے وہ مڈل کلاس ہے۔ لہذا آئیے دیکھتے ہیں سیاست دانوں کی لاحاصل جنگ لڑنے والے انصافی، جیالے اور نونیے کب اور کیسے مڈل کلاسیے سے غریب ہو چکے ہیں لیکن انہیں معلوم نہیں۔ قوم کا حافظہ چونکہ کمزور ہے اس لئے ہم زیادہ پیچھے نہیں جاتے۔ بات 2018 سے شروع کرتے ہیں۔
2018 میں روپے کے مقابل ڈالر 105 کا تھا، مطلب آج کی نسبت کافی مستحکم۔ 2018 میں پاکستان میں 300 ڈالر کے 31 ہزار روپے بنتے تھے۔ یعنی جو آدمی 31 ہزار ماہانہ لیتا تھا وہ مارکیٹ میں اشیائے صرف اس طرح لے سکتا تھا جیسا ایک مڈل کلاس لیتا تھا۔ بدقسمتی سے 2018 میں فوج نے براہ راست سیاست میں مداخلت کرتے ہوئے اس قوم پر تبدیلی مسلط کر دی۔ اور اگر آپ کی یادداشت ساتھ دے رہی ہے تو ایک ہی دن میں ڈالر 125 سے 155 پہ پہنچا تھا اور خان ساب نے ارشاد فرمایا تھا کہ مجھے ٹی وی دیکھ کے پتا چلا۔ مختصر یہ کہ خان کی کھلنڈری حکومت نے جتنا ممکن تھا معیشت کا ستیاناس کر دیا۔
اب سے ٹھیک ایک سال پہلے یعنی جنوری 2022 میں ڈالر 175 کا تھا۔ سو پچھلے سال کے شروع میں جو پاکستانی ساڑھے 52 ہزار ماہانہ کماتا تھا وہ مڈل کلاس شمار ہوتا تھا۔ 10 اپریل 2022 کو جب عمران خان کی حکومت ختم ہوئی تو ڈالر 191 روپے کا تھا۔ مطلب یہ ہوا کہ خان حکومت کے آخری روز 57 ہزار سے کم تنخواہ لینے والا خط غربت سے نیچے فال کرتا تھا۔
آج جنوری 2023 ہے۔ پی ڈی ایم کی تجربہ کار حکومت بھی بھلا کیسے پیچھے رہتی۔ اپریل 2022 میں 191 کا ملنے والا ڈالر آج 228 کا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جنوری 2023 میں جس شخص کی تنخواہ 68 ہزار 400 ہو گی وہ مڈل کلاس ہے، اس سے نیچے کی آمدن رکھنے والے سارے پاکستانی ورلڈ بنک کے مطابق غریب ہیں۔
لہذا اے مڈل کلاسیو! اے احمق انصافیو! اے بیوقوف جیالو! اے چغد نونیو! غرق کرو ان جاگیر داروں، وڈیروں، خانوں، سرداروں، شاہوں اور مولویوں کو! تمہیں کچھ آئیڈیا ہے کہ خان نے تم سب کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیا ہے اور شہباز شریف نے اس لکیر کو مزید لمبا کر دیا ہے؟ کیوں دوسروں کے لئے خون جلاتے ہو؟ حکومت و اقتدار کے لئے لڑ لڑ کے اس ملک کا کباڑا کرنے والوں سے پوچھو تو سہی؛ کہ انڈیا میں مڈل کلاس لوگوں کی تعداد 51 کروڑ ہو چکی ہے۔
چین نے پچھلے 40 سال میں 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال کر مڈل کلاس بنا دیا ہے۔ جنوبی کوریا کی خوشحال تاریخ بھی نئی نئی ہے، اس نے پچھلے 30 سال میں اپنے آپ کو منوایا ہے اور ورلڈ انڈکس میں دنیا کا نمبر ون گڈ گورننس قرار پایا ہے۔ 25 سال پہلے کا جنگ سے تباہ حال ویت نام جہاں جمہوریت بھی نہیں ہے ترقی کا استعارہ بن چکا ہے۔ بنگلہ دیش سے تو ہمارا کوئی مقابلہ ہی نہیں رہا۔ اور تو اور افریقہ کا چھوٹا سا ملک روانڈا جو ابھی 25 سال پہلے تک بدترین خانہ جنگی کا شکار تھا، ملک کی آبادی کا 15 فیصد نسل کشی میں مارا گیا تھا، صرف گزشتہ 15 سال میں ایک شاندار ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔
آخر پاکستان کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ کہ ہر آنے والی حکومت پچھلی حکومت پہ ملبہ ڈالتے ہوئے مزید گند مچا کے جاتی ہے۔ انصافیو، جیالو اور نونیو ایک دوسرے سے مت لڑو کہ پچھلے 4 سال میں تم سب خط غربت سے نیچے گر چکے ہو۔ سیاسی جماعتوں کو پکڑو! کہ ہمیں روانڈا ہی بننا دو۔

