کیا اب عوام کش ٹیکنوکریٹ حکومت لائی جائے گی؟


رک رک کر چلنے والی حکومت کے سامنے دو اہم مسائل ہیں، جن کی جڑیں باقی سارے مسائل میں پیوست ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ حکومت ان مسائل سے بے خبر ہے، لیکن لگتا ہے مختلف پارٹیوں پر مشتمل اس اتحادی حکومت کی ترجیحات، عوامی مسائل کے حل کی بجائے، اپنی اپنی پارٹی، ذاتی اور سیاسی سہولیات و مراعات کے حصول کی تابع ہیں۔ اس لیے وہ ’مہنگائی مارچ‘ کے بدلے میں ملنے والی حکومت میں عوام کے لئے کوئی ریلیف، قانون کی حکمرانی اور آئینی بالادستی کی بجائے آنے والے انتخابات میں زیادہ فوائد، خود پر بنے ہوئے مقدمات سے گلو خلاصی اور اسٹیبلشمنٹ کی گڈ بکس میں اپنے اندراج کے لئے کوشاں ہے۔

دونوں مسائل جس کی میں نے ذکر کیا یہ ہیں کہ ملک کی موجودہ حالت کی ذمہ داری کس پر ہے اس کا تعین کرنا اور ان متعین ذمہ داران کو کیا سزا دی جائے؟ تاکہ آئندہ کوئی طالع آزما سائنسدان اور ڈاکٹرین دینے والا بقراط سیاسی ڈومین میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے سو دفعہ سوچنے پر مجبور ہو۔ دوسرا مسئلہ جس کا حکومت کو سامنا ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ حالت سے ملک کو کیسے نکالا جاسکتا ہے؟ لیکن موجودہ حکومت مذکورہ دونوں مسائل کو حل کرنے کی قابل اور اہل ہے نہ تیار ہے۔ اس کی ساری کوششیں اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اس کے چنگل سے خود کو بچانے کے لئے ہے تاکہ مستقبل میں ان کو ’جائز‘ حصہ مل سکے۔

اسٹیبلشمنٹ نے اپنے چلے ہوئے کارتوس الگ کر کے نئی منصوبہ بندی کردی ہے، جبکہ اس کی اپنی حالت بالکل ویسی ہے جو مشرقی پاکستان میں شکست یا ایبٹ آباد میں امریکی میرین آپریشن کے بعد بنی تھی۔ مناسب موقع تھا کہ سیاسی جماعتیں اپنی واضح ترجیحات کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے متحدہ مورچہ قائم کر کے طاقت، اختیارات، بجٹ اور استعمال، آڈٹ، قانون سازی، اندرون ملک اور خارجہ کے لئے پالیسی سازی، تجارت اور اس کی ترجیحات، نظریاتی اور حقیقی دنیا کے مسائل اور ضروریات، ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقبل کے تعلقات اور معاہدات پر کھلم کھلا بحث کے بعد غیر مبہم حکمت عملی طے کر کے طرفین کے درمیان گرین، بلیو اور ریڈ لائنیں کھینچتیں۔ ججوں جاسوسوں اور جرنیلوں کے لئے مخصوص اور محدود احاطہ گیری کرتے ہوئے ان کے لامحدود اختیارات پر قابل تعزیر قدغنیں لگاتیں۔

حکومت پھنس گئی ہے یا اس کو پھنسایا گیا ہے یہ پتہ تب چلے گا جب وہ عمران خان کی طرح دھوکا دینے والے کا نام لینے کے قابل ہو جائے گی۔ کسی اتحادی حکومت کو ہانک کر شکار گاہ تک لے آنا اسٹیبلشمنٹ کے لئے بڑا آسان ہوتا ہے۔ وہ اتحادیوں میں جس کو چاہے اپنی بات کہلوانے اور شرائط منوانے کے لئے استعمال کرتی اور اپنے مقاصد حاصل کرتی ہے۔ عمران حکومت کو گرانے کے بعد واضح تھا کہ نون لیگ جلد از جلد انتخابات کرائے گی اور عمران کے خلاف بننے والے ماحول سے سیاسی فائدہ حاصل کرتے ہوئے الیکشن جیت لے گی۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ اور پی ڈی ایم اتحاد میں شامل کچھ جماعتیں جلد انتخابات کی بجائے نون لیگ کے لئے اٹھنے والی شہرت کی لہر کو ختم ہونے کے بعد انتخابات کے لئے کوشاں تھیں۔

اب حالت یہ ہے کہ حکومت پی ڈی ایم سے ہوتی نظر نہیں آتی اور الیکشن وہ کرنا نہیں چاہتی کیونکہ الیکشن کر کے اسے معلوم ہے کہ آٹا لینے کی قطاروں اور گیس سٹیشنوں پر کھڑی اور مہنگائی کی ماری ہوئی عوام اب تو اسے گالیاں دیتی ہیں لیکن الیکشن کرا کر گالیوں کے ساتھ ساتھ خالی بکسے بھی دیں گی، اس لیے اس کے پاس نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔

حکومت کی تبدیلی کے بعد نئی حکومت کو فوری الیکشن کا اعلان نہیں کرنے دیا گیا کیونکہ اس پر بنے ہوئے کیسز اور باجوہ کی عدالتی سیٹ اپ پہلے کی طرح برقرار تھی جو عدولی حکم کی صورت میں اسے سیدھا کرنا جانتی تھی لیکن انتخابات کا بروقت فیصلہ نہ کرنے کی وجہ سے آج حکومت اس قابل ہی نہیں کہ الیکشن کا اعلان کرسکے۔

جب مفتاح اسماعیل کے دور میں ’ملک بچانے‘ اور ’سخت فیصلے‘ کرنے کا بیانیہ عام کرنا شروع کیا گیا تو میں نے اسی وقت بھی اس بیانیے کی مخالفت میں لکھا تھا کہ ملک بچانا آرمی کا کام ہے اور ملک چلانا حکومت کا ، اور سخت فیصلوں کا مقصد پارلیمنٹیرینز، جرنیلوں، بیوروکریسی اور ان کے مفادات کے نگہبانوں کی تنخواہیں مراعات اور ٹی اے ڈی پر کٹ لگانا مقصود نہیں بلکہ عوام کے منہ سے سوکھی روٹی چھیننا ہے، جو عوام کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی ڈبو دے گی۔

اربوں کھربوں کے قرضے عوام نے لیے ہیں نہ ان کے لئے لیے گئے ہیں جن کی واپسی کی ذمہ داری ان پر پڑتی ہے۔ یہ قرضے کس نے کھائے ہیں اور کس نے استعمال کیے ہیں، روز روز کے مالی سکینڈلز اس کی گواہی دے رہی ہیں، اس لیے یہ قرضے ان مجرموں سے وصول کیے جائیں، عوام سے نہیں۔ لیکن حکومت کے پاس حکومت کرنے کے علاوہ کتنا اختیار ہے، بعض اوقات تنگ آ کر خود بولنے لگتی ہے، جس طرح آج عمران خان اعتراف کر رہا ہے کہ وہ کتنا با اختیار وزیر اعظم تھا۔ جس کی بھی حکومت ہو، جب اس کے ہر چھوٹے بڑے کو کنٹرول اور بلیک میل کرنے پر مبنی مواد کی لائبریریاں کہیں موجود ہوں تو پھر ان کی حکومتیں کتنی خود مختار ہو سکتی ہیں؟

اسٹیبلشمنٹ مسئلہ نہیں، اس نے تو ہمیشہ حکومت کو چند اختیارات کے ساتھ مناسب پارٹی کو آؤٹ سورس کیا ہے، مسئلہ غیر فقاریہ سیاستدانوں کا ہے کہ انہوں نے ملنے والے موقع سے فائدہ اٹھانے کی بجائے، ’ملک بچانے‘ اور ’سخت فیصلے‘ کرنے کی قوالی گا کر خود کو بدترین اخلاقی اور سیاسی بداعتمادی کے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ پہلے یہ خود چور تھے جس کی جگالی ہر میڈیا ہاؤس کے رنگ برنگے اینکرز برسوں کرتے رہے اور اب عمران چور ہے، پہلے ہر برائی ان میں تھی اور اب ہر برائی عمران میں ہے۔ نہ ان میں اخلاقی جرات ہے کہ کھل کر بول سکے کہ اینف از اینف! سیاست سیاستدانوں کے لئے چھوڑ دیں اور نہ عمران میں تھی، جب وہ ایک صفحے کی راگ درباری گایا کرتا تھا۔

جو انکشافات آج کل سننے میں آ رہے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں، مختلف کردار، انکشافات پر مبنی اپنے جرائم کے ایسے اعترافات، انجنئیرنگ کمپنی کی ہر ناکامی کے بعد کرتے ہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں، پہلا مارشل لاء، دوسرا مارشل لاء، بنگالیوں کے لئے بنگلہ دیش کا تحفہ، نظام مصطفی اور نتیجے میں تیسرا مارشل لاء، کارگل اور چوتھا مارشل لاء اور آج پراجیکٹ عمران، یہ سب کوئی اتفاقی اور تنہا اعمال نہیں ہیں، ایک مربوط سلسلہ وار کھلواڑ ہے، جو ہو رہا ہے، اور یہ ختم ہوا ہے نہ ختم ہونے والا ہے۔ عمران خان سے پرویز الٰہی کو اور نواز شریف سے شہباز شریف کو ملنے والی صرف آؤٹ سورس حکومت ہے، آئینی اختیارات اور جمہوریت نہیں۔

آج ساری برائیوں کی ذمہ داری عمران خان پر ڈالی جاتی ہے لیکن صحافت کو گلے سے پکڑنے، خود سر صحافیوں کو سیدھا کرنے، میڈیا کو کنٹرول کرنے، پریس کانفرنسوں میں سرکاری طور پر بار بار مثبت رپورٹنگ کی ہدایات جاری کرنے اور نام لے کر چند صحافیوں کی نشاندہی کرنے، فارورڈ گروپس بنانے اور الیکٹیبلز اکٹھے کرنے، مخالفین کو نا اہل کرنے کے لئے ججوں کو ضمیر سمیت خریدنے، پولنگ سٹیشنوں کے اندر اور بوتھوں کے ساتھ باوردی افراد کھڑا کرنے اور آر ٹی ایس بٹھانے کے لئے عمران خان ذمہ دار نہیں ہے۔ اس کی ذمہ داری ان پر ہے جن کی وجہ سے آج کی حکومت ان دو مسائل سمیت ہر قسم کے مسائل سے دوچار ہے۔

الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہوتے نظر نہیں آتے۔ عمران خان کی شہرت اور مشکل فیصلے کرنے کی حکومتی ڈفلی منہ کھول کر حکومت کو ڈرا رہی ہے، جس کی وجہ سے حکومت بظاہر ہزار دفعہ انکار کردے کہ وہ نہیں چاہتی لیکن سال دو سال کے لئے ٹیکنوکریٹ حکومت لائی جائے گی۔ جو اصل میں قصائیوں کی حکومت ہوگی، وہ عوام کے ساتھ شائیلاک والا سلوک کرے گی اور یہ لوگ دور سے تماشا دیکھیں گے۔

عمران خان کی غیر مقبول حکومت چلی جانے کے بعد جس طرح موجودہ حکومت سے لوگوں نے آسانی کی توقعات لگائی تھیں اور اب انہیں بد دعائیں دے رہے ہیں اور عمران خان دوبارہ مقبول ہوا وہی فارمولا استعمال کرتے ہوئے جب ٹیکنوکریٹ عوام کی چمڑی ادھیڑ دے گی تو موجودہ لوگ فرشتے لگنے لگیں گے۔ تب یہ آ کر الیکشن میں مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

ملکی خزانے کی طرح عوام کے صبر کا خزانہ بھی خالی ہونے کو ہے۔ روٹی دینا وفاق اور صوبوں میں کس کی ذمہ داری ہے، بھوک کی خوف سے دوچار لوگ نہیں سوچیں گے۔ جس طرح آٹے کے ٹرک کے اردگرد بھوکے اور بے بس اکٹھے ہوتے ہیں آپ کے گرد اکٹھے ہوئے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تاریخ میں ایسا کئی بار ہوا ہے وہ بھی خود کو بہت مضبوط اور محفوظ سمجھتے تھے لیکن بھوک کا خوف نظام پر عدم اعتماد، مایوسی، انتشار اور اپنا اخلاق پیدا کرتا ہے اور بھوک کے زمانے میں بہترین اخلاق روٹی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 111 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments