پرندے اور ہجرت
یہ ٹھیک ہے کہ ہم موسموں کی سختی اور خون جما دینے والی سردی سے بچنے کے لیے ہجرت کرتے تھے مگر اس کی ایک اور وجہ بھی تھی یہاں بولتے ہوئے دادا کی آنکھیں چمکنے لگیں یوں لگا جیسے وہ کسی بہت خوبصورت یاد کے سحر میں بول رہے ہوں وہ دوبارہ گہرا سانس لے کر بولنے لگے سورج کی سنہری کرنوں میں دمکتے گندمی رنگ چہروں پر سیاہ کشادہ چمکتی آنکھوں اور لبوں پر رکی مسکراہٹ اور سروں پر رنگ برنگی اورڑھنیوں کو سجائے عورتیں اور کشادہ پیشانی اور گھنیری مونچھوں اور مہربان آنکھوں اور شانوں پر اجرک ڈالے مرد بھی ہمیں بہت خوبصورت لگتے تھے یہ سنہری رنگت اور چمکیلی آنکھوں والے لوگ سرد موسم میں ہمارا انتظار کرتے ہمیں دیکھ کر خوش ہوتے جیسے کوئی اپنے مہمان کا انتظار کرتا ہے۔
محبتوں کی پیاس بجھاتا گنگناتا سندھ دھرتی پر سندھو دریا ایک طرف لعل شہباز کے مزار پر عقیدت مندوں کا دھمال دوسری طرف شاہ لطیف بھٹائی کا ”سرکلیاں“ دور دراز میں سچل سرمست کی الستی آواز ”ماہی یار دی گھڑولی بھر دی۔ ہم موسم کی سختیوں سے بچنے کے لئے ہجرت نہیں کرتے تھے ہم تو ایک شوق ایک سحر ایک سرور میں سفر کرتے تھے مگر اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں مگر میرے بچوں تم چلے جاؤ
سارے پرندوں کا پھر وہی جواب تھا دادا ہم نہیں جائیں گے آپ کو کیا معلوم دادا یہ ہجرت کتنی تکلیف دہ کتنی مشکل ہو چکی ہے پہلے بھی ہمارے کچھ ساتھیوں کو بندوق کی گولی کا نشانہ بننا پڑتا تھا مگر اب آہستہ آہستہ سب کچھ بدل گیا ہے۔
پہلے پہل تو سندھو دریا میں پانی کم ہونے لگا پھر معلوم ہے دادا ان سارے سنہری چہرے والے لوگوں کی آنکھوں میں سختی اور بے حسی نظر آنے لگی وہ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے ایک دوسرے کا خون بہانے لگے دادا آسمان کے ساتھ ساتھ ہمیں تو دریا اور جھیلوں کا پانی بھی سرخ نظر آنے لگا ہر سال ہماری ہجرت ہمیں زیادہ مغموم اور زیادہ اداس کر دیتی۔ دریاؤں میں پانی کم اور آلودہ ہونے لگا لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہونے لگے وہ اپنے شکستہ خوابوں نہ رسا تمناؤں اور خواہشوں کا بدلہ ہم سے لینے لگے۔
پھر نا قلندر کے مزار پر دھمال نا بھلے شاہ کی کافی نا لطیف کی وائی سب کچھ بدلتا چلا گیا۔ ہمارے ساتھیوں کا بے دردی سے شکار کیا جانے لگا ہمارے ساتھی موسم کی سختیوں سے بچنے کے لیے وہاں کا رخ کرتے ہیں تو وہاں بندوقیں اور جال تھامے شکاری انتظار میں گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں جب کہ تمہارے وقتوں میں دادا ہجرت کرنے والے پرندوں کو مہمان سمجھا جاتا تھا مگر اب روایات کو کوئی نہیں جانتا ہم اپنی بقا کے لیے ہجرت کرتے تھے مگر اس ہجرت میں تو ہم اپنوں کو کھونے لگے ہیں داد یہ ہجرت ہمیں بہت تھکا دیتی ہے ہمیں نڈھال کر دیتی ہے۔
باوجود ان باتوں کے ہم پھر بھی اپنی ریت نبھاتے رہے اور جان بچانے کے لئے ہجرت کرتے رہے مگر دادا اب نہیں۔ تمہیں معلوم ہے پچھلے برس ان ظالم شکاریوں نے ہمارے ساتھیوں کے ساتھ ساتھ اس معصوم انسان کو بھی مار دیا جس نے ہمارے شکار کے خلاف آواز اٹھائی تھی دادا ہم نے اپنے ساتھیوں کا قتل برداشت کر لیا لیکن ہمارے شکار کے خلاف اٹھائی جانے والی آواز کا قتل ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ جب موت مقدر ٹھہری تو یہاں نامہربان موسم میں اپنی دھرتی اپنی زمین اپنی جگہ پر مر جانا کیا زیادہ بہتر نہیں بجائے اس کے کہ مسافر کی شکل میں ہجرت کی سختی اور تھکا دینے والی پرواز کے بعد ۔ بولو نا دادا اور اب تو پورا سندھ ہی جھیل بن گیا ہے جہاں پانی میں گھرے بچوں بڑوں اور بوڑھوں کی صرف حنوط شدہ سسکیاں ہی سنائی دیتی ہیں۔ اور دادا کی آنکھوں سے ایک آنسو ضبط کے حصار سے آزاد ہو گیا



ارے جناب یہ کون خاتون ہیں؟ کیا لکھ ڈالا انھوں نے ۔ کیا فسوں ہے تحریر میں ؟ کیا الفاظ ہیں؟ کیا لطیف احساس ہے۔ پڑھتے جائو تحریر کب ختم ہوئی پتا ہی نہیں چلا۔ کیا الفاظ کا چنائو کیا تحیر بھری تحریر ہے ۔ ما شاءاللہ قلم کی مضبوطی کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔