پرویز الہی بازی لے گیا


مسلم لیگ قائداعظم کے رہنما پرویزالہی نے چیئرمین تحریک انصاف سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری گورنر کو ارسال کردی ہے، پنجاب کو اپنا قلعہ سمجھنے والی مسلم لیگ نون منہ تکتی رہ گئی ہے، مارچ 2022 ءسے شروع ہونے والا کھیل اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے، مسلم لیگ نون کے رہنما و وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاءاللہ تارڑ نے لاہور میں ڈیرے ڈال رکھے تھے، عطاءاللہ تارڑ نے تو یہاں تک دعوی کر دیا تھا کہ اگر یہ پنجاب اسمبلی توڑ دیں تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے، اب عطاءاللہ تارڑ بتائیں وہ کب سیاست چھوڑ کر اپنی وکالت کا پھٹہ کچہری میں لگا رہے ہیں

چودھری پرویزالہی کا خاندان چودھری خاندان کے نام سے سیاست میں معروف ہے، آمر ضیاءالحق کی پیپلز پارٹی دشمنی میں بھی چودھری خاندان اس کا ہراول دستہ رہا، بھٹو کی پھانسی کے بعد ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو کا سیاست میں راستہ روکنے کے لئے ضیاء آمر نے اپنی زندگی میں ہی شریف خاندان کو گود لے لیا تھا، ضیاءالحق کی عبرتناک موت کے بعد 1988 ءمیں الیکشن ہوئے تو پنجاب سے نواز شریف نے جارحانہ اور بد تمیزانہ سیاست کی اور بے نظیر بھٹو کے خلاف وہ سیاست کی جو اب عمران خان نواز شریف کے خلاف کر رہے ہیں

نواز شریف پنجاب کے وزیراعلی بن گئے جبکہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم پاکستان بن گئیں پھر جو کچھ ہوا وہ تاریخ میں سب رقم ہے، پرویز الہی نواز شریف کی پنجاب کابینہ میں بلدیات کے وزیر بنے، 1985 ءنواز شریف کا مربی آمر ضیاءالحق زندہ تھا، پرویزالہی نے اختلافات کی بناء پر نواز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاریاں شروع کر دیں، ضیاءالحق کو علم ہوا تو وہ فوری طور پر لاہور آیا اور بیان دیا کہ نواز شریف کا کلہ مضبوط ہے جس کے بعد تحریک ٹھنڈی پڑ گئی اور نواز شریف چودھری خاندان کو منانے گجرات پہنچ گئے مگر پرویزالہی کے دل میں شریف خاندان سے تعلقات میں دراڑ پڑ چکی تھی۔

پھر نواز شریف وزیراعظم بن گئے تو پرویزالہی کو امید تھی وہ اب ہر صورت پنجاب کے وزیراعلی بنیں گے مگر نواز شریف نے پرویزالہی کو اگنور کرتے ہوئے اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو پنجاب کا وزیراعلی بنا دیا جس سے یہ دراڑ مزید گہری ہو گئی اور یہ بات پرویزالہی کو ناگوار گزری، منظور وٹو نے شریف خاندان کو فارغ کر کے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر پنجاب میں مخلوط حکومت بنا لی، اس حکومت میں رحیم یار خان سے مخدوم الطاف احمد پنجاب کے سینئر وزیر تھے، مخدوم الطاف پرویزالہی کے کلاس فیلو اور بہت گہرے دوست تھے، ظہور الہی خاندان کی پیپلز پارٹی دشمنی کے باوجود پرویزالہی اپنے دوست مخدوم الطاف کے کہنے پر پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو گئے جس پر ظہور الہی اور شریف خاندان میں تھرتھلی مچ گئی اور چودھری شجاعت حسین نے اپنے بڑے ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پرویزالہی کو روک دیا مگر پرویزالہی کا شریف خاندان کے بارے میں دل صاف نہ ہوسکا

1997 ءمیں نواز شریف نے پرویزالہی کو پنجاب کی سپیکر شپ دے کر ٹرخا دیا گیا جس کے بعد 12 اکتوبر 1999 ءمیں جنرل مشرف نے اقتدار حاصل کر لیا اور نواز شریف کو گرفتار کر لیا گیا، بعد ازاں شریف خاندان جنرل مشرف سے معاہدہ کر کے دس سال کے لئے ملک چھوڑ کر سعودی عرب چلے گئے، اب چودھری پرویز الہی کے لئے میدان کھلا تھا، چودھری خاندان نے مشرف سے ہاتھ ملا لیا اور پنجاب کی وزارت اعلی پرویز الہی کو مل گئی، پرویز الہی نے 2002 ءسے لے کر 2007 ءتک پنجاب کو بہت اعلی انداز میں چلایا جس کی مثالیں اب تک دی جا رہی ہیں، پھر حالات بدلے بینظیر شہید ہو گئیں، 2008 ءکے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی طویل عرصہ بعد مرکز میں حکومت بنانے میں تو کامیاب ہو گئی مگر پنجاب پھر نواز شریف کے ہاتھ آ گیا اور شہباز شریف ایک بار پھر پنجاب کے وزیراعلی بن گئے

پرویزالہی زیرک سیاستدان ہیں وہ 2008 کے انتخابات کا ماحول سمجھ کر قومی اسمبلی کے رکن بن گئے اور پنجاب چھوڑ دیا، وفاق میں پرویزالہی نے ایک بار پھر ہاتھ بڑھایا اور زرداری سے ڈیل کر کے ڈپٹی وزیراعظم بن گئے، اس سارے عرصے میں چودھری خاندان کے شریف خاندان سے تعلقات ٹھیک نہ ہو سکے اور نہ ہی شریف خاندان نے شاید تعلقات ٹھیک کرنے کی ضرورت محسوس کی جس کی وجہ سے خلیج بہت وسیع ہو گئی 2018 ءکے انتخابات میں مسلم لگ ق دس سیٹیں جیت گئی اور تحریک انصاف سے الحاق کر کے پرویزالہی سپیکر بن گئے، عثمان بزدار کے مستعفی ہونے کے بعد پرویزالہی وزیراعلی کی دوڑ میں آ گئے

تیرہ جماعتی اتحاد پی ڈی ایم نے چودھری شجاعت حسین جو مسلم لیگ ق کے سربراہ ہیں رام کر لیا اور عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں پی ڈی ایم سے مل کر کپتان کو حکومت سے باہر کر دیا، اس کے بعد پنجاب فتح کرنے کا مشن آصف علی زرداری کو سونپا گیا جس پر آصف زرداری نے پنجاب میں کھیل کھیلنے کے لئے پرویزالہی سے نہ صرف وعدہ کر لیا بلکہ مٹھائی بھی کھلا دی جس کے فوراً بعد پرویز الہی بنی گالہ پہنچ گئے اور عمران خان کی حمایت کا اعلان کر دیا یوں پنجاب اسمبلی میں صرف دس نشستوں والے پرویزالہی تحریک انصاف کی مدد سے پنجاب کے وزیراعلی بن گئے

پرویزالہی کے اس اقدام سے سب سے بھاری کا دعوی کرنے والے آصف زرداری سٹپٹا گئے اور چودھری شجاعت سے گلہ کرنے پہنچ گئے، اس ایشو پر چودھری خاندان میں اختلافات بھی پیدا ہو گئے، چودھری وہ خاندان ہے جس کے اتفاق اور پیار محبت کی مثالیں دی جاتی تھیں وہ تقسیم ہو گیا حتی کہ حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کے معاملے پر پرویزالہی نے چودھری شجاعت کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا اور مسلم لیگ نون کو پنجاب میں دھول چٹا دی اور بازی جیت لی

پرویزالہی نے اپنے پتے اتنے خوبصورت انداز میں کھیلے کہ مسلم لیگ نون کو لاہور اس کے گھر میں گھس کر مارا اور شکست دی، عمران خان کی سیاست اپنی جگہ، موجودہ حالات میں تو لگتا ہے کہ عمران خان کو پس پردہ سیاسی مشورے پرویز الہی ہی دیتے تھے، تحریر پوسٹ ہونے تک شاید پنجاب اسمبلی تحلیل ہو چکی ہو مگر پرویزالہی اکیلے نے ہی ملک بھر کے سیاستدانوں کو چت کر دیا ہے، پنجاب میں اب تک جتنا کھیل کھیلا گیا اس کے ہیرو چودھری پرویزالہی ہیں، پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد پرویزالہی کی سیاست کیا ہوگی اس کا اندازہ ان کی حالیہ اور ماضی سیاست دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے کہ پرویزالہی کو ایک صوبے کا نہیں ملک بڑا سیاستدان مانا جائے

Facebook Comments HS