پاکستان ترقی کیوں نہیں کرتا؟
مگر پاکستان کے قیام کے بعد کچھ عرصہ تو ہم اپنی اقدار پر عمل پیرا ہوئے مگر جلد ہی ہم نے ان اقدار کو چھوڑ دیا۔ ہم غیروں کی اقدار سے متاثر ہونا شروع ہو گئے اور ان پر عمل کرنا شروع کر دیا جس کے بعد ہماری تنزلی کا آغاز ہو گیا۔ ہم نے اپنے مسائل کا حل قرآن سے نکالنا چھوڑ دیا۔ ہم نے اسلام کے بتائے ہوئے طرز زندگی کو چھوڑ دیا۔ جبکہ اسلام نے ہر شعبہ زندگی میں ہمارے لئے عملی نمونہ پیش کیا چاہے وہ ملکی معاملات ہوں یا نجی زندگی قانونی معاملات ہوں یا معاشی کوئی چیز ایسی نہیں تھی جس کے بارے میں اسلام نے بتایا ہو مگر ہم نے اسلامی اقدار کو چھوڑ دیا اور غیر مسلموں کا طریقہ اپنا لیا جبکہ غیر مسلم جنہوں نے ترقی کی انہوں نے قرآن اور سیرت طیبہ سے اپنے مسائل کا حل ڈھونڈنا شروع کیا بلکہ اب تو آہستہ آہستہ سائنس نے بھی یہ بات ماننا شروع کردی ہے کہ قرآن اور سیرت طیبہ ٹھیک کہتی ہے۔
دنیا میں ان قوموں نے کبھی بھی ترقی نہیں کی جو احساس کمتری کا شکار ہوں۔ ہمیشہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنی اقدار کو فروغ دیتی ہیں۔ اپنی اقدار کو فروغ دے کر پاکستان کے بعد بننے والے ملک چائنہ نے بھی ہم سے پہلے اور ہم سے بہت زیادہ ترقی حاصل کر لی اور انتہائی قلیل عرصے میں دنیا کے بہترین اور ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں آ گیا ہمیں بھی اگر ترقی کرنی ہے تو اپنی اقدار کو فروغ دینا ہو گا
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
دوسرے نمبر پر ترقی کرنے کے لئے اپنی زبان کو فروغ دینا بہت ضروری ہے جتنی بھی قوموں نے ترقی کی ہے انہوں نے اپنی زبانوں کو فروغ دیا ہے۔ عرب ممالک نے ترقی انہوں نے اپنی قومی زبان عربی کو فروغ دیا۔ انگریز ممالک نے ترقی کی انہوں نے اپنی قومی زبان انگریزی کو فروغ دیا مگر ہم سمجھتے ہیں کہ ہم انگریزوں کی زبان انگریزی بول کر ترقی کر لیں گے جبکہ یہ ناممکن ہے کبھی بھی کسی قوم نے اپنی قومی زبان کے بغیر ترقی نہیں کی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی قومی زبان اردو کو سرکاری زبان بھی بنائیں تبھی ہم بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں آسکتے ہیں۔


