والدہ صاحبہ پر فالج کا حملہ

یہ کوئی پانچ دن پہلے کی بات ہے کہ ہم والدہ صاحبہ سے باتیں کر رہے تھے۔ کہ اچانک ہی ان کا کہا جملہ عجیب سا ہو گیا جس کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ ہم فوراً چونک گئے اور کہا کہ اپنا جملہ دوبارہ سے دہرائیں۔ ہم سمجھے کہ شاید یوں ہی ان کے منہ سے غلط جملہ نکل گیا ہو۔ لیکن ان کا جواب پھر بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ ہم نے کہا کہ یہ تو خدا نخواستہ فالج کا حملہ لگ رہا ہے، فوراً ہسپتال چلتے ہیں۔ انہوں نے منع کر دیا کہ نہیں ٹھیک ہو جاؤں گی لیکن اگلے پانچ دس منٹ بعد ان کے کہے کسی جملے کی سمجھ نہیں آ رہی تھی، وہ ہاتھ کی انگلی کو گھمانے اور موڑنے کی کوشش کر رہی تھیں تو وہ بھی ان سے نہیں ہو رہی تھی۔
پھر انہوں نے اپنی مٹھی بند کر لی۔ ہاتھ پر تشنج جیسا جھٹکا طاری تھا۔ وہ مسلسل بول بھی رہی تھیں لیکن ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ چھوٹے بھائی نے کہا کہ بس فوراً ہسپتال لے چلتے ہیں۔ ہماری گلی کے نکڑ پر ایک پڑوسی نے ریسکیو ون ون ٹوٹو میں ابھی چند دن پہلے نوکری شروع کی ہے۔ ہم نے بھائی سے کہا کہ اسے بلا لاؤ۔ وہ گیا اور دستک دی۔ اتفاق سے خود اسی نے دروازہ کھولا۔ بھائی نے اسے والدہ کی کیفیت بتائی تو وہ فوراً ایمبولینس فون کرنے بھاگا۔
اس دوران بھائی نے گلی سے گزرنے والے دوسرے پڑوسی کو رکشہ لانے کو کہا۔ اس نے فوراً ایک رکشہ والے کو بلا لیا۔ رکشہ والے اور ہم تینوں نے بہت مشکل سے والدہ صاحبہ کو بستر سے اٹھایا اور رکشہ میں لٹا دیا۔ پڑوسی نے ایمبولینس والوں کو فون پر آنے سے منع دیا اور ہم فوراً ہسپتال روانہ ہو گئے۔ اس دوران والدہ صاحبہ ہم سے بار بار کچھ کہنے اور اٹھنے کی کوشش کر رہی تھیں اور ہم سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہیں۔
بہر حال شکر ہے کہ ہم نے انہیں لٹا کر لے جانے پر اصرار نہیں کیا۔ جس کی وجہ بعد میں بیان کی ہے۔ ہسپتال پہنچے تو انہیں رکشے سے بڑی مشکل سے اسٹریچر پر منتقل کیا۔ والدہ پھر بھی کچھ کہتے ہوئے مسلسل اٹھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ہنگامی حالت کے شعبے میں بھی بہت مشکل سے اسٹریچر سے بستر پر منتقل کیا۔ ڈاکٹروں کو کیفیت بتائی تو انہوں نے کہا کہ لگتا تو فالج کا حملہ ہے لیکن آیا رگ پھٹی ہے یا رکاوٹ آئی ہے، یہ سی ٹی اسکین کے بعد ہی پتا چلے گا اور دوائی اس کی تشخیص کے بعد ہی ہوگی کیونکہ دونوں کی الگ الگ بلکہ متضاد دوائی ہوتی ہے۔
یعنی اگر رگ میں رکاوٹ آئی ہے تو خون پتلا کرنے کی یا اگر پھٹی ہے اور جریان خون ہو رہا ہے تو پھر خون گاڑھا کرنے کی دوا دیں گے۔ پہلے ہم ان کی حالت بہتر کر لیں تاکہ سی ٹی سکین ہو سکے۔ انہوں نے ڈرپ لگائی اور ساتھ ہی کہا کہ انہیں سائیڈ پر لٹا دیں نہیں تو زبان تھوڑی نیچے ہو کر سانس بھی روک سکتی ہے۔ انہوں نے فشار خون کی جانچ کی تو وہ معمول کی یعنی اسی بٹا ایک سو بیس ( 80 / 120 ) کی بجائے اسی بٹا دو سو بیس ( 80 / 220 ) تھا۔
انہوں نے ڈرپ لگایا تو والدہ صاحبہ ہاتھ بار بار جھٹکنے لگیں جس سے ڈرپ اور کینولہ دونوں نکل گئے۔ انہوں نے دوسرے ہاتھ پر کینولہ لگا دیا۔ کچھ دیر بعد والدہ کی حالت سنبھلی تو انہوں نے ہمیں سی ٹی اسکین کروانے کو کہا۔ بڑی مشکل سے پھر بستر سے دوبارہ اسٹریچر پر منتقل کیا اور پھر سی ٹی اسکین کے لیے لے گئے۔ اس وقت تک پڑوسی ہماری بھرپور مدد کرتے رہے، پھر انہیں دفتر جانا تھا، سو انہوں نے ہم سے اجازت چاہی۔ اسکین میں سر کے دونوں حصوں کے عین درمیان میں کوئی رکاوٹ سی دکھائی دے رہی تھی۔
وہاں سے ہنگامی حالت والوں نے ہمیں میڈیکل آئی سی یو لے جانے کی ہدایت کی۔ وہاں پہلے تو چند منٹ داخلے کی کارروائی ہوتی رہی پھر ڈاکٹر آ گئے۔ اس دوران والدہ یک دم صحیح بولنے کے قابل ہو گئیں۔ انہوں نے ہمیں کہا کہ مجھے بہت نقاہت ہو رہی ہے، کچھ کھانے کو لاؤ۔ ہم نے چھوٹے بھائی کو کچھ کھانے کو لانے بھیجا۔ پھر ڈاکٹروں نے ہم سے تفصیلات لیں، سی ٹی اسکین دیکھا اور بتایا کہ یہ رگ میں رکاوٹ گئی ہے۔ آپ ان کے کچھ مزید ٹیسٹ کروائیں۔
ساتھ ہی دوا بھی لکھ دی اور کہا کہ آپ چاہیں تو کچھ گھنٹوں بعد گھر بھی لے جا سکتے ہیں۔ والدہ صاحبہ کو پہلے ہی تھوڑا گردے کا مسئلہ تھا، ہم نے وہ بھی ہنگامی حالت اور یہاں کے ڈاکٹروں کو بتایا تاکہ وہ کوئی ایسی دوا نہ دے دیں جو گردے کے لیے نقصان دہ ہو۔ پھر باقی ٹیسٹ کروانے کے کچھ گھنٹوں بعد ہم والدہ صاحبہ کو گھر لے آئے۔ اب اس وقت ان کی حالت کافی بہتر ہے۔ بول بھی سکتی ہیں لیکن کبھی کبھار ہلکی سی لکنت سی ہو جاتی ہے۔
ہاتھ کو ہلا جلا سکتی ہیں اور اس سے گلاس وغیرہ تھامنے میں بھی کوئی مشکل پیش نہیں آتی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ شاید وہ رکاوٹ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد خود ہی گھل کر ختم ہو گئی تھی۔ جس کی وجہ سے اب وہ تقریباً پہلے جیسی ہی ہیں۔ تاہم حتمی تصدیق کچھ دنوں بعد ہی ہو سکے گی۔ البتہ نقاہت و کمزوری زیادہ طاری رہتی ہے۔ ہاں! والدہ صاحبہ نے بتایا کہ جب میں بار بار اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ میرا سانس رک رہا تھا۔ بیٹھنے سے سانس کچھ بہتر آنے لگی تھی۔ اچھا ہی ہوا کہ ان کے بار بار ہاتھ جھٹکنے کے باوجود ڈاکٹروں نے کوئی نیند والی دوا نہیں دی ورنہ ہمیں اور ڈاکٹروں کو کیسے ان کے اٹھنے کی اصل وجہ پتا چلتی۔
ہم سب کے محترم قارئین سے والدہ صاحبہ کی مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی التماس ہے۔ اگر آپ بھی ایسے سانحے سے گزرے ہیں اور ہمیں والدہ صاحبہ کے علاج معالجے کے حوالے سے کوئی مشورہ یا رہنمائی دینا چاہتے ہیں تو ہمارا پتا ہے۔
danish84ali@outlook.com

