پوٹھوہار کے ”دادا امیر حیدر“ کی وفات پر ”نوحہ“
آہ! عظیم مزدور دوست اور سوشل ریفارمر راجہ جہانگیر اختر بھی ہم میں نہیں رہے سب نے اپنی اپنی باری پر چلے جانا ہے راجہ جہانگیر اختر کا تعلق خطہ پوٹھوہار کے قصبہ بالیمہ (کلر سیداں ) سے تھا لیکن اپنی پوری زندگی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گزار دی تاہم انہوں نے اپنی جنم بھومی کو فراموش نہیں کیا وہ پوٹھوہار کے عوام کے حقوق کے لئے لڑتے لڑتے بالآخر گردوں کی جان لیوا بیماری کے ہاتھوں زندگی ہار بیٹھے ان کی پیدائش 1942 ہے اور 80 سال کی عمر میں وفات پائی و میرا ان سے کم و بیش 42، 43 سال سے دوستانہ تعلق تھا ایک تو میں بھی پوٹھوہاری ہوں لہذا پوٹھوہاری ہونے کی قدر مشترک نے ہم دونوں کی قربت میں اضافہ کر دیا تھا ان کا صحافتی برادری سے بھی گہرا تعلق تھا کبھی اپنی خبر شائع کرانے کے لئے اخبارات کے دفاتر کے چکر نہیں لگاتے بلکہ وہ خود ایک چلتی پھرتی خبر تھے 80 ء کے عشرے کی بات ہے رمضان عادل مرحوم راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر اور میں جنرل سیکریٹری تھا آر آئی یو جے جرنلسٹس فاؤنڈیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا تو انہوں اس دور میں کار خیر کے لئے 20 ہزار روپے کا عطیہ دینے کا اعلان کیا ہمارے باہمی جھگڑوں کی وجہ سے جرنلسٹس فاؤنڈیشن قائم ہوئی اور نہ ہی یہ عطیہ وصول کرنے کی نوبت آئی وہ ”صحافی دوست“ سیاسی کارکن تھے وہ مہاتما گاندھی کے پیروکار تو نہ تھے لیکن اپنے مطالبات منوانے کے لئے انہوں نے متعدد بار سپر مارکیٹ اور آب پارہ چوک میں بھوک ہڑتال کی۔ شاید ہی دار الحکومت کے کسی اور سیاسی کارکن نے اتنی بھوک ہڑتالیں کی ہوں جتنی انہوں نے کیں اس بات کی پروا کیے بغیر کہ انہیں گردوں کا عارضہ لاحق ہے، آئے روز بھوک ہڑتالیں کر کے انہوں نے اپنی صحت تباہ کر دی۔
راجہ جہانگیر اختر صاف کردار کا مالک سیاسی کارکن تھا اس کا دامن کسی قسم کی کرپشن سے آلودہ نہیں ہوا گو کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ پیپلز پارٹی اپنے منشور سے پیچھے ہٹ گئی ہے تو انہوں نے پیپلز پارٹی سے طویل وابستگی ختم کر کے مسلم لیگ (ن) جوائن کر لی لیکن انہیں مسلم لیگ نون نے بھی مایوس کیا تو پی ٹی آئی کا پرچم اٹھا لیا وہ سٹیٹس کو کا آدمی نہیں تھا وہ ہر وقت عام آدمی کی خوشحالی کے خواب دیکھتا رہتا تھا جب اس کے خواب پورے نہ ہوئے تو انہوں نے عمران خان کو اپنا قائد بنا لیا انہوں نے سیاست کچھ کمانے کے لئے نہیں عوام کو کچھ دینے کے لئے شروع کی وہ اس قدر صاف ستھرے کر دار کا مالک تھا جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا ان کا شمار اسلام آباد کے متمول تاجروں میں ہوتا تھا پورا ٹیکس دینا کوئی ان سے سیکھے وہ عمر بھر ٹیکس ریفارمز کے لئے جد و جہد کرتے رہے ایف بی آر کے سے ان کا جھگڑا رہتا وہ ان کو پورا ٹیکس لینے پر مجبور کرتے ان کا نکتہ نظر تھا کہ اگر ایف بی آر دیانت داری سے ٹیکس وصول کرے تو پورا پاکستان خوشحال ہو سکتا ہے انہوں سپر مارکیٹ میں 1978 میں ”سمکو“ کے نام سے فوٹو گرافی کی شاپ کھولی جو 44 سال بعد بھی پوری آب و تاب سے قائم ہے اس شاپ کا شمار اسلام آباد کی ٹاپ کلاس کی فوٹو گرافی کی دکانوں شمار ہوتا ہے انٹر نیٹ کے آ جانے کے بعد یہ کاروبار انحطاط پذیر ہوا ہے فوٹو گرافی کی دکانیں بند ہو رہی ہیں لیکن یہ ادارہ بھی پورے طمطراق سے قائم ہے وہ میرے ساتھ اس حد تک شفقت کرتے کہ چھوٹے موٹے کام کے پیسے ہی نہیں لیتے تھے وہ پچھلے کئی ماہ سے بستر مرگ پر تھے ان کے سٹاف نے مجھ سے کچھ تصاویر کے بنوانے کے ”اسلام آباد کے بھاؤ“ کے مطابق پیسے لے لئے تو انہوں نے بستر مرگ سے حکم جاری کر دیا کہ نواز رضا سے کاسٹ سے ایک پائی زیادہ نہیں لینی اور کہا کہ مجھے اس بارے میں دوبارہ شکایت نہیں ملنی چاہیے۔ میں راجہ جہانگیر اختر کا پوٹھوہار کے مسائل پر انٹرویو لینا چاہتا تھا اس کے لئے انہوں اپنے موبائل میں ”اسکائپ“ بھی انسٹال کرا لی لیکن ان کی بیماری آڑے آ گئی اور پھر ان کا انٹرویو رہ ہی گیا۔
پچھلے دنوں وہ اپنی زندگی کی آخری جنگ لڑ رہے تھے ان سے ٹیلی فون پر خیریت دریافت کی تو انہوں بتایا کہ ان صحت اچھی نہیں ہے انہیں ہفتہ میں چار پانچ روز ڈائئلاسز کے لئے جانا پڑتا تھا ان کو گردوں کا چار عشروں سے زائد عارضہ تھا وہ جرات اور حوصلے سے بیماری کے خلاف لڑ رہے تھے لیکن آئے دن کی بھوک ہڑتالوں نے ان کی صحت کو بری طرح متاثر کر دیا تھا۔ راجہ جہانگیر اختر سوشلسٹ انقلاب کے حامی تھے وہ عام آدمی کی حالت بدلنا چاہتے تھے وہ معاشی مسائل کے حل کے لئے نئی نئی تجاویز پیش کرتے تھے جن میں سے کچھ تجاویز پر زمینی حقائق کے پیش نظر عمل درآمد ممکن نہ تھا وہ خطہ پوٹھوہار کے واحد سپوت تھے جو منگلا ڈیم سے خطہ پوٹھوہار کی متاثر ہونے والی زمینوں کے عوض رائلٹی دینے کا مطالبہ کرتے نہیں تھے لیکن دادا امیر حیدر کی روایات پر عمل پیرا رہے میں ان کو خطہ پوٹھوہار کا دوسرا دادا امیر حیدر کہوں تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گی میری دادا امیر حیدر سے ملاقاتیں رہی ہیں انہوں نے ہوچی منہ کے ساتھ ویت نام کی جنگ آزادی تو نہیں لڑی لیکن راجہ جہانگیر اختر عمر بھر خداداد پاکستان کے نام نہاد خداؤں سے عوام کے حقوق کے لئے لڑتے رہے وہ پوٹھوہاریوں کو ان کا حق دلانے کے لئے آواز بلند کرتے رہے وہ پڑھا لکھا پوٹھوہار دیکھنے کی خواہش لئے اس دنیا سے چلے گئے ایف بی آر کی چیرہ دستیوں کے خلاف تنہا راجہ جہانگیر جب آواز بلند کرتا تو اس کی گونج اقتدار کے ایوانوں میں سنی جاتی۔
راجہ جہانگیر اختر ایک رول ماڈل سیاسی کارکن تھا جو سیاسی کارکن کی تعریف پر پورا اترتا تھا جب کبھی وہ محسوس کرتا کہ عام جد و جہد سے مطالبات منوانے مشکل ہیں تو وہ بھوک ہڑتال کا ہتھیار استعمال کرتا تھا تو وہ ذوالفقار علی بھٹو کا شیدائی لیکن مہاتما گاندھی اور آغا شورش کاشمیری کی بھوک ہڑتال کی انداز سیاست اختیار کیے رکھی اخلاص اور مشن سے کمٹمنٹ سے انہیں اسلام آباد کے تاجروں میں بابائے ”تاجر برادری“ کا مقام حاصل ہو گیا تھا وہ اسلام آباد کی تاجر برادری کے ساتھ ساتھ سیاسی حلقوں میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے راجہ جہانگیر اختر منوں مٹی تلے ابدی نیند سو گیا ہے لیکن اس کا انداز سیاست سالہاسال سیاسی کارکنوں کی رہنمائی کرتا رہے گا اور ان کی یاد دلاتا رہے گا۔
راجہ جہانگیر اختر کے 16 سال پرانے ساتھی نے بتایا کہ انہوں سپر مارکیٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی اور اس کے بانی صدر تھے بعد ازاں اسلام آباد چیمبر آف کامرس کی مناپلی کے خلاف چھوٹے تاجروں کی تنظیم اسلام چیمبر آف کامرس قائم کی انہوں نے ”عوام دوست محاذ بھی قائم کیا جس میں مختلف جماعتوں کے لوگ شامل تھے وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ لیڈر تھے۔ انہوں نے ایک بار فوج میں کمی کے خلاف تحریک چلائی اور بوٹ بنا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا لیکن ان کی اس تحریک کو پذیرائی حاصل نہیں ہوئی وہ جنرل ضیاالحق کے دور میں جیل بھی رہے انہیں سو کوڑوں کی سزا دی گئی لیکن ان کی صحت کے پیش نظر کوڑوں کی سزا معاف کر دی گئی انہوں نے بارہا ملک میں کرپشن کے خلاف بھوک ہڑتال کی راجہ جہانگیر اختر کے صاحبزادیراجہ جواد جہانگیر نے بتایا کہ وہ جو فیصلہ کر لیتے اس پر قائم رہتے اپنی مرضی کی زندگی بسر کی ان کی قبر پر بھی یہ شعر کندہ ہے۔ ان کی پوری زندگی جدوجہد میں گزاری 11 سال کی عمر میں فیکٹری میں کام شروع کرے محنت مزدوری سے اس مقام تک پہنچے اور اپنے پورے خاندان کو اسلام آباد میں سیٹل کیا لیکن اپنا آبائی گاؤں نہیں بھولے۔ دیانت داری ان کا شیوہ تھا تاجر برادری کی کمیٹی جو لاکھوں روپے پر مشتمل تھی راجہ جہانگیر اختر کی دیانت داری کی وجہ سے ان کو پیسے دینے کو ترجیح دیتے تھی انہوں بارہا جیل یاترا کی ہمارے لئے ان کا جیل جانا معمول بن گیا تھا سینئر صحافی اکرام الحق قریشی جن کا کلر سیداں سے تعلق ہے نے بتایا کہ راجہ جہانگیر اختر کا شمار ان لوگوں میں جو پوری زندگی اپنے لئے نہیں دوسروں کے لئے زندہ رہے کئی دہائی قبل اسلام آباد کی سڑکوں پر اکیلے کتبے اٹھا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے 2009 ء میں منگلا ڈیم اپ رائز ہوا تو اس سے کلر سیداں، گوجر خان اور جہلم کی ہزاروں ایکٹر ارضی مکانات اور مساجد زیر آب آ گئیں ان کو ایک پائی کا معاوضہ نہیں دیا گیا ان کے معاوضے کی ادائیگی کے لیے آواز اٹھاتے رہے اور متعدد بار کلر سیداں، گوجر خان اور جہلم میں بھوک ہڑتال کی کلر سیداں میں شدید سردی کے دوران بھوک ہڑتال میں ان کی حالت بگڑ گئی انہیں ہسپتال جانے کا مشورہ دیا تو انہوں ہسپتال جانے سے ان کا کر دیا بعد ازاں انہیں بے ہوشی کے عالم ہسپتال منتقل کیا گیا ان کی مسلسل جدوجہد کے نتیجہ میں نواز شریف دور میں شاہد خاقان عباسی کو مداخلت کرنا پڑی جن کی ذاتی دلچسپی کے باعث متاثرین کو معاوضہ ملا وہ منگلا ڈیم کی رائلٹی کے آزاد جموں و کشمیر اور پوٹھوہار میں مساوی تقسیم کے حامی تھے

