ایف۔ 16 کے پاک فضائیہ کے ساتھ قابل فخر 40 سال


20 جنوری 1974 کے دن امریکی ایڈورڈ ائر فورس بیس ریاست کیلی فورنیا میں میں پہلی پرواز کرنے والا ایف سولہ، فضائی دور میں ایک نیا انقلاب تھا، فلائی بائی وائر ٹیکنالوجی جس کی وجہ سے جہاز میں بھاری بھرکم کیبلس سے سینسرز کو تبدیل کر دیا گیا، ایف سولہ بنیادی طور پر ہلکے وزن کے پھرتیلے لڑاکا طیارے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، جنرل ڈائینامکس کے ایف سولہ نے نارتھ تھارپ گرومن کے ایف 17 کوبرا سے برتری حاصل کر کے امریکی ائر فورس کے اگلے ممکنہ طیارے کا مقام حاصل کیا۔

1979 ء کے خاتمے تک سویت یونین کی 35 ہزار افواج افغانستان میں داخل ہو گئیں، یقیناً ان کے عزائم کے حوالے سے آج جو کچھ بھی کہا جائے لیکن پاکستان کے بارڈر پر ایک ایسی قوت ضرور آ کر کھڑی ہو گئی تھی جس نے 1971 ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھارت کی کافی مدد ضرور کی تھی، اسی کے دیے ہوئے ہتھیاروں نے ہمارے لئے مسائل بڑھائے تھے، اب وہی قوت ہمارے مغربی بارڈر پر آ چکی تھی، مہاجرین کے آمد کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا یہ سارے معاملات قومی سلامتی کے حوالے سے اہم تھے، پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت تھی، معیشت آج سے یقینا بہتر تھی لیکن نازک دور جو مستقل کلیہ ہے پاکستان کی تاریخ کا وہ جب بھی جاری تھا، امریکہ اور مغرب کی جانب سے پابندیاں بھی لگی ہوئی تھیں، اب افغان مہاجرین بھی پاکستان میں آرہے تھے۔

دیگر شعبوں کی طرح پاک فضائیہ بھی مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہی تھی، 71 ء کی جنگ کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان کوئی بڑی اسلحہ ڈیل نہیں ہوئی تھی، ہمارے پاس ٹینک، لڑاکا طیارے ابھی بھی ستر کی دہائی کے حساب سے موجود تھے، فضائیہ میں سیبر جن سے 65 ء اور 71 ء کی جنگیں لڑی گئی اب اپنی عمر پوری کرچکے تھے، امریکی سیبر کی کنیڈین کاپی (CL۔ 13 ) ایف 86 ای کو اڑانا پڑ رہا تھا اس وقت بہتر میراج تھے جن پر تکیہ تھا اس وقت نسبتاً جدید ضرور تھے پر جدید ترین کہنا مناسب نہ ہو گا اور جن کو ایف 6 کی معاونت حاصل تھی، لیکن بنیادی طیارہ ایف 86 ای ہی تھا، جسے ریڑھ کی ہڈی کہا جاسکتا تھا جو بوڑھے ہوچکے تھے۔

1984 ء میں شائع ہونے والی پاک فضائیہ کی تاریخ (اردو ایڈیشن) جو سرکاری دستاویز ہے صورتحال کا جو احاطہ کرتی ہے اسی سے حوالہ پیش خدمت ہے صفحہ نمبر 352 کے پہلے پیراگراف میں تحریر ہے ”دو ہزار تین سو کلومیٹر لمبی پاک افغان سرحد کو فی الحقیقت پاک روس سرحد بنا کر رکھ دیا ہے جبکہ پاکستان کے لئے روس کی ہمسائیگی بالکل غیر مساویانہ حیثیت رکھتی ہے، پھر آگے پینتیس لاکھ افغان مہاجرین کو پاکستان دھکیل دیا ہے جو پاکستان پر معاشرتی و اقتصادی فشار کا سبب بنے ہیں۔

اگلے صفحے پر بھارت کی دفاعی تیاریوں کا ذکر ملتا ہے بھارتی طاقت میں مجموعی اضافے سے قطع نظر بھارتی فضائیہ بذات خود آٹھ سو لڑاکا طیاروں اور چھ سو دیگر طیاروں پر مشتمل ایک جدید فضائی قوت بن چکی ہے اور قوت میں مزید اضافے کے لئے مگ 23 اور دور مار کرنے والے جیگوار طیارے حاصل کیے ہیں، مگ 27 کی بھارت میں تیاری کا کام شروع ہو چکا ہے، میراج 2000 کی خریداری کا آرڈر بھی دیا جا چکا ہے“ یہ وہ حالات تھے جب پاکستان کو بہتر لڑاکا طیارے کو حصول کا فیصلہ کرنا پڑا۔

فالکن منصوبے کے تحت دسمبر 1981 ء کو پاکستان کا امریکہ کے ساتھ سمجھوتہ طے پا گیا، ایف 16 ڈاٹ نیٹ (F۔ 16۔ Net ) ویب سائیٹ کے مطابق پہلا ایف سولہ 16 پندرہ جنوری 1983 ء کے دن پاکستان کے سرگودھا ائر بیس پر اسکواڈرن لیڈر شاہد جاوید نے لینڈ کیا۔ پیس گیٹ اور بعد میں دیگر معاہدوں کی تفصیلات جدول میں دیکھی جا سکتی ہیں جو F۔ 16۔ Net سے حاصل کی گئی ہیں (لنک 1 ) ۔

تصویر کیپشن ؛ پاکستان کو وصول ہونے والے پہلا ایف سولہ، پاک فضائیہ میں ایف سولہ کی کلر اسکیم، 1974 میں امریکہ میں سب سے پہلے پرواز کرنے والے ایف سولہ کا کلر اسکیچ جو دانش انور نے ہی بنایا، اسی کے ساتھ F۔ 16۔ net کا پاکستانی ایف سولہ طیاروں کے حوالے سے مختصر شیڈول۔

پاک فضائیہ کے ساتھ ایف سولہ طیاروں کی آپریشنل ہسٹری :

سوویت افغان بحران میں واحد فضائی قوت پاک فضائیہ تھی جو افغانستان سے مداخلت کرنے والے سویت اور سویت افغان جہازوں اور مسلح ہیلی کاپٹروں کو روک رہی تھی، سرحد پر کسی وقت بھی جھڑپ کا امکان رہتا تھا جس سے نبرد آزما ہونے کے لئے مستقل فضائی گشت (CAP /کامبیٹ ائر پیٹرول) کا سلسلہ بھی جاری رکھنا پڑتا۔ اس وقت نئے وصول ہونے والے ایف سولہ طیاروں پر کافی آسانی سے یہ مشن مکمل ہوئے کوئی مداخلت کار دن کے کسی بھی گھنٹے آتا تو اس کے لئے فوری کارروائی آسان ہو گئی۔

اس جنگ میں ایک حادثہ پیش آیا جب ایک پاکستانی ایف سولہ فرینڈلی فائر کا شکار ہو گیا، سویت افغان جنگ میں پاکستانی ایف سولہ کو پہلی کامیابی میران شاہ کی فضاؤں میں 17 مئی 1986 ء کی شام کے ملی، فلائٹ لیفٹیننٹ عبد الحمید قادری پاکستانی ایف سولہ اڑا رہے تھے جن کا تعلق فضائیہ کی نویں اسکواڈرن سے تھا، بعد میں میں 30 مارچ 1987 ء نویں اسکواڈرن کے ونگ کمانڈر عبد الرزاق پاراچنار کے قریب ایک فوجی ٹرانسپورٹر جہاز (An۔

12 ) اپنے سائڈ ونڈر میزائل سے نشانہ بنایا، 16 اپریل 1987 ء کا ایک سوخوئی Su۔ 22 پاکستان ائر فورس کی چودھویں سکواڈرن کے فلائٹ لفٹیننٹ بدر الاسلام کے ایف سولہ سے فائر کیے جانے والے سائڈ ونڈر کا نشانہ بن گیا۔ 8 اپریل 1988 ء ایک بمبار سخوئی (Su۔ 25 ) فراگ فوٹ پارچنار کی فضاؤں میں ڈھیر ہوا، جس کو روسی فضائیہ کے کرنل الیکزنڈر اڑا رہے تھے، جن کو گرفتار کر لیا گیا وہ بعد میں روس کے نائب صدر کے عہدے تک پہنچے، تین نومبر 1988 ء کو ایک سخوئی لڑاکا طیارہ (Su۔

22 ) پاکستان ائر فورس کے ایف سولہ سے فائر کیے گئے سائڈ ونڈر میزائل کا ہدف بن گیا، جسے سویت افغان ائر فورس کے پائلٹ کیپٹن ہاشم اڑا رہے تھے، جبکہ پاکستانی ایف سولہ کے پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ خالد محمود تھے جن کا تعلق چودھویں اسکواڈرن سے تھا۔ مختلف مسلح اور غیر مسلح فوجی ہیلی کاپٹرز کی تفصیل ان کے علاوہ ہے۔

تصویر کیپشن : ونگ کمانڈر حسینی کی چند پینٹنگز کا عکس جس میں پاکستانی ایف سولہ طیاروں کو سوویت افغان جنگ میں کامیابیاں سمیٹتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، روسی کرنل الایکزینڈر کی تصویر ان کے تباہ شدہ طیارے کے بازو جو آج پاکستانی ائر فورس بیس سرگودھا پر یادگار کے طور پر نسب ہے، پاکستانی فتح مند پائلٹ اپنے ایف سولہ طیاروں کے ہمراہ

جمعہ 7 جون 2002 کی رات لاہور شہر کے قریب بھارتی ڈرون مار گرایا گیا، یہ ایک اسرائیلی ساختہ ڈرون تھا۔

فروری 2019 میں مقبوضہ کشمیر کے اندر پلوامہ بھارتی سنٹرل ریزرو پولیس پر حملہ ہوا، (جو بعد میں بھارتی صحافی ارناب گوسوامی کی لیک واٹس ایپ کال میں اندرونی کارنامہ ثابت ہوا) جس میں متعدد جوان مار گئے، بھارت نے حسب عادت پاکستان پر دھرنے کی کوشش کی، پھر بھارتی میڈیا نے بدلہ بدلہ کا راگ اگلنا شروع کر دیا، 19 فروری کو بھارتی فضائیہ نے آزاد کشمیر کے علاقے سے فضائی خلاف ورزی کی اور بالاکوٹ تک گھس آئے، بھارتی در اندازوں کو جب پتہ چلا کے پاکستان ائر فورس جوابی کارروائی کے لئے اپنے طیارے بھیج رہی ہے تو بھاگتے ہوئے اسرائیلی ساختہ اسمارٹ بم بالاکوٹ کے قریب پہاڑی جنگلوں میں گرا کر فرار ہو گئے، جس کے جواب میں پاکستان ائر فورس نے اپنے میراج اور جے ایف سترہ تھنڈر تیاروں سے جوابی کارروائی 27 فروری 2019 کے دن کی، جس کو روکنے کی کوشش میں بھارت اپنے کم از کم ایک طیارے سے ہاتھ دھو بیٹھا جو ایک مگ 21 تھا جس ونگ کمانڈر ابھی نندن اڑا رہے تھے، جس کو پاکستانی ایف کے فضاء سے فضاء میں فائر کیے جانے والے ایم ریم بیانڈ ویژول رینج میزائل سے نشانہ بنایا گیا پاکستانی ایف سولہ ونگ کمانڈر نعمان علی خان اڑا رہے تھا، ایک سخوئی ایس یو تھرٹی کے گرنے کی اطلاعات بھی ہیں، جو ممکنہ طور پر دوسرے پاکستانی ایف سولہ کے میزائل کا نشانہ بنا، پاکستانی پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ حسن صدیقی دوسرا ایف سولہ اڑا رہے تھے۔

تصویر کیپشن ؛ بھارتی ڈرون کی تباہی کا منظر جوپینٹر عدنان سراج کے برش سے تخلیق پایا، بلاگ رائٹر دانش انور کی پینٹنگ جو ونگ کمانڈر نعمان علی خان کے ہاتھوں بھارتی مگ کی تباہی کا منظر پیش کر رہی ہے، پاک فضائیہ کے ساتھ ایف سولہ کی چالیس سالہ خدمات کے حوالے سے جاری ہونے والا خصوصی پیچ، ونگ کمانڈر نعمان علی خان فلائٹ لیفٹیننٹ حسن صدیقی کے ہمراہ ان دونوں پائلٹس نے حالیہ پاک بھارت فضائی جھڑپ میں پاکستان کا نام روشن کیا۔

ایف سولہ ابھی بھی کافی عرصے پاک فضائیہ کے ساتھ خدمات انجام دے سکتے ہیں یعنی کامیابی کا سفر بھی جاری و ساری رہے گا، اس وقت بھی روسی مگ اکیس کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ائر فورسز میں زیر استعمال رہنے والا طیارہ ہے، بلاشبہ ایک کامیاب لڑاکا طیارہ جو پائلٹس نے ہی ڈیزائن کیا اور پائلٹ فرینڈلی ہے۔

لیکن خیر پھر جیسا پہلے بتایا، ایف 7، اے 5 آ گئے۔

ان کے متبادل درکار تھے، دوسری جانب بھارت ہمارے مشرقی پڑوسی میں صورتحال کچھ الگ تھی۔ 80 اور 90 کی دہائی میں بھارتی فضائیہ امریکی ساختہ طیاروں کے علا وہ وہ سب کچھ دنیا بھر سے حاصل کرچکی تھی جو اس کو آئندہ آنے والے وقت میں پاکستان اور چین سے بہتر فلائنگ مشین فورس بناتا، لیکن پاک فضائیہ کی جو مستحکم بنیاد تربیت کے حوالے سے ائر مارشل اصغر خان اور ائر مارشل نور خان نے رکھی تھی وہ اتنی شاندار تھی کے اس میں آج بھی فرق نہیں پڑا، بعد میں آنے والوں نے اس میں اضافہ ہی کیا، بات مگ 21 طیاروں کی ہو رہی تھی، پاکستان نے بھی مگ اکیس 80 کی دہائی میں حاصل کیے ، جو چائنیز ایف سیون پی کے نام سے جانے جاتے ہیں، لیکن پاکستان نے ان سے اپنی فضائیہ بھر نہیں دی، اس دوران میراج بھی حاصل کیے گئے، اے فائیو بھی آئے، اور ایف سول کا جادو بھی چلتا رہا، اسی طرح اسی کی دہائی میں بھارت نے فرانس سے میراج 2000، برطانیہ سے سی ہیرئر (جو بھارتی نیوی کے لئے تھے، طیارہ بردار جہاز آئی این ایس وکرنت سے اڑانے کے لئے ) برطانیہ اور فرانس کا مشترکہ جیگوار، پھر سوویت یونین سے مگ 21 کے ساتھ ساتھ مگ، 23، 25 اور پھر مگ 29 کا حصول عمل میں آیا، پاکستان کو ایف سولہ بھی سوویت افغان جنگ کی وجہ سے ملے تھے، ورنہ ہمیں سن اسی تک

حوالہ جات اور لنکس۔
لنک نمبر1 https://www.f-16.net/f-16_users_article14.html

Facebook Comments HS