ایک تعلیم یافتہ پٹھان کی اردو لکھائی
قوم کی پہچان زبان سے ہے اور ’ایک‘ زبان ہی قوم کو یکجا رکھتی ہے۔ ایک قوم میں تفرقے اس قوم میں مختلف زبانیں پائیں جانے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ دنیا میں تقریباً ہر قوم، ملک کی ایک قومی زبان ہوتی ہے جو اس قوم کی لینگوا فرنکا (مخلوط زبان) یعنی اس ملک میں موجود لوگوں کے درمیان مواصلات کا ذریعہ ہوتی ہے۔ قومی زبان کو فروغ دینا ہر قوم کی اولین ترجیح ہوتی ہے لیکن پاکستانی قوم میں یہ خوبی نا پید ہے۔
بھلے اردو پاکستان کی قومی زبان ہی کیوں نہ ہو لیکن توجہ انگریزی زبان پر زیادہ دی جاتی ہے۔ اکثر والدین یہی چاہتے ہیں کہ ان کے بچے فر فر انگریزی زبان بولے۔ اردو زبان جیسے بھی ہو چلے گی لیکن انگریزی زبان آنی چاہیے۔ انگریزی زبان آتی ہے تو آپ تعلیم یافتہ ہیں، لائق ہیں، ذہین ہیں۔ اور اگر انگریزی زبان پر آپ کو مہارت حاصل نہیں تو آپ جاہل ہیں، نالائق ہیں، کند ذہن ہیں۔ پس یہی حال میرا بھی ہے۔ پشتو زبان مادری ہے۔ اردو زبان سرکاری سکول میں ابتدائی تعلیم سے ”سیکھی“ ۔ اور انگریزی سیکھنے کے لئے محنت کی؛ انگریزی سکولوں میں گیا اور اس زبان کے قواعد سیکھنے میں مختلف کتابوں سے استفادہ کیا۔
اب اردو پر توجہ نہ دینے سے کیا ہوا یہ سنیے!
حال ہی میں ایک افسانہ لکھنے کی کوشش کی تھی اور جب بخیر مکمل لکھ چکا تو ایک دوست سے تصحیح کی۔ دوست کی نظر ثانی سے پتہ چلا کہ اردو زبان کے بہت سارے قواعد پیروں تلے روند چکا ہوں۔
افسانے میں جہاں پر دیوار کو ”چونا“ لگانا تھا وہاں میں دیوار کو ”چنا“ لگا چکا تھا۔ جہاں پر مجھے محبوب کی خاطر طوفان سے ”ٹکرانا“ تھا وہاں میں طوفان سے ”ٹھکرا“ چکا تھا۔ اب محبوب کی حفاظت کے لیے مجھے چھت بننا تھا تو جہاں پر میں نے محفوظ ”چھت“ بننا تھا وہاں میں محفوظ ”چت“ بن چکا تھا۔ محبوب کے خد و خال کا تذکرہ کرتے وقت جہاں پر آنکھوں نے شراب سے ”مخمور“ ہونا تھا وہاں آنکھیں شراب سے ”معمور“ ہو چکی تھی اور جہاں محبوب کی ہڈیوں پر ”بھاری“ گوشت کو آنا تھا وہاں ہڈیوں پر ”باری“ گوشت آ چکا تھا۔
یہ تھا میرا حال! لیکن اردو زبان پر توجہ نہ دینے سے مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جن کی مادری زبان اردو ہے وہ بھی میری طرح دیوار کو ”چونا“ کے بجائے ”چنا“ لگا دیں یا پھر مجھے اگلے مضمون کے عنوان میں ایک تعلیم یافتہ پٹھان کی بجائے ایک تعلیم یافتہ پاکستانی لکھنا پڑ جائیں۔


