ماسٹر جی کا چھکڑا

سرکاری ملازم یعنی تنخواہ دار طبقہ بھی خدا کی عجیب مخلوق ہے جو ایک ماہ کے قلیل دورانیے میں باغ بہشت بریں کے مزے بھی لوٹ لیتا ہے اور نار نمرود میں جھلس کر سوختہ بھی ہو لیتا ہے۔ مہینے کے پہلے دس دنوں میں اس کی چال ڈھال میں ایک عجیب سا نشہ ہوتا ہے، ٹنکی میں پیٹرول فل بھرا ہو تو گاڑی شان بے نیازی کے ساتھ اٹھلاتی ہوئی آگے بڑھتی ہے، چھوٹے موٹے گڑھے سبک رفتاری سے عبور کر جاتی ہے مگر جب پیٹرول آخری حدوں کو چھو رہا ہوں تو گاڑی کا چلنا بڑا دلچسپ ہو جاتا ہے۔
کچھ میٹر تک زور لگاتی ہے مگر جب پیٹرول کی رسد انجن تک نہیں پہنچ پاتی تو وہ جھٹکے لگانا شروع کر دیتی ہے۔ ٹنکی پائپوں میں بچے کھچے پیٹرول کے قطرے جان کی بازی لگا دیتے ہیں۔ یہ معرکہ حق و باطل کبھی تو یوں ختم ہوتا ہے کہ کوئی ہمدرد آن کر ذرا سی کمک فراہم کر دیتا ہے اور یوں گاڑی پمپ تک پہنچ جاتی ہے۔ ایسے عالم میں پمپ کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم معلوم نہیں ہوتا، اس کے ایڈورٹائزنگ بورڈ بھلے بھلے سے معلوم ہوتے ہیں۔
مگر کبھی کبھار یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی قسم کی کوئی کمک یا رسد نہیں پہنچتی بلکہ گھسٹ گھسٹ کر پمپ تک پہنچنا پڑتا ہے۔ سرکاری ملازم کی گاڑی بھی بالکل اسی طرح پہلے دس دنوں میں بڑی سبک رفتاری سے چلتی ہے، اس کا ہارن بھی خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے، گیئر بریک سب سے اے ون۔ دوسرے عشرے میں داخل ہوتے ہی اس کی آواز میں انکساری و بیچارگی سی عود آتی ہے۔ اس کی چمک دمک پہ گرد غالب آنے لگ جاتی ہے، سڑک کے بیچوں بیچ اٹھلا کے چلنے والی اب سڑک کے کنارے کنارے چلتی دکھائی دیتی ہے۔
آئینہ پوش عمارتیں جو ابھی کچھ دن قبل تک بھلی معلوم ہوتی تھی، اب ان کو دیکھنا خدا کی ناراضی کو آواز دینے کے مترادف لگنے لگتا ہے۔ ہیڈ لائٹس جن کا ابھی کچھ سمے پہلے تک آئی کونٹیکٹ بڑا زبردست تھا، مائل بہ انکسار ہو کر زمین میں گڑی رہتی ہیں۔ غرض یہ کہ سرکاری ملازم کی چال ڈھال رنگ ڈھنگ سب پر مسکنت کی چادر سی تن جاتی ہے۔
یہ حالت تو تقریباً تمام سرکاری ملازموں کی اکثر رہتی ہے مگر یہاں سے ان کی کلاسیفیکیشن شروع ہو جاتی ہے۔ کچھ تو اس کو مقدر کا لکھا سمجھ کر اسی چکی میں پستے رہتے ہیں اور اپنی جان کو سوختہ کرتے رہتے ہیں۔ مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس مشکل سے نکلنے کی سبیل تلاشتے رہتے ہیں اور چلتے پھرتے سوتے جاگتے کسی بغلی کاروبار کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں۔ ان میں سے کثیر تعداد ان لوگوں کی ہے جو صرف سوچتے رہتے ہیں کرتے کچھ بھی نہیں۔ آسانی چاہتے ہیں مگر آسانی سے چاہتے ہیں، جو کبھی کسی کو ملی ہے نہ ملے گی۔ خیر ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو کچھ کر گزرتے ہیں، کچھ نیا، کچھ انوکھا، کچھ حیران کن، جو دیکھنے والے کی آنکھ کو خیرہ کر دے، جس کی طرف لوگ دیوانہ وار دوڑنے لگ جائیں، جس کی حسرت میں عشاق اپنی انگلیاں کاٹ ڈالیں۔
ایسا ہی ایک انوکھا، نرالا اور تعجب خیز کاروبار ہمارے ایک دوست نے شروع کیا تو محلے کے لوگوں کا بلکہ خود اپنے گھر والوں کا استعجاب دیدنی تھا۔ قریبی دوستوں میں سراسیمگی پھیل گئی، دور دراز سے رشتے داروں کے تحیر آمیز فون آنا شروع ہو گئے۔ بھائی اچھے بھلے استاد کے پیشے سے وابستہ ہو بغلی کاروبار کرنا ہی تھا تو کوئی اپنے کام سے مماثلت رکھنے والا کاروبار کر لیتے۔ اس کام میں تو کوئی سابقہ واقفیت ہے نہ تجربہ۔ بیگم صاحبہ الگ سے پریشان کہ پہلے سکول سے گھر لوٹتے تھے تو طبیعت میں تھکاوٹ کے باوجود اطمینان ہوتا تھا مگر اب تو ہر وقت ایک رنجیدگی، ایک تکدر میں گھرے رہتے ہیں۔
پہلے سکون سے ہاتھ منہ دھو کر کھانا کھا کر آرام کرتے تھے مگر اب اول تو وقت پر گھر آتے ہی نہیں، آ جائیں تو عجلت میں کھانا کھا کر گھر سے نکلنے کی کرتے ہیں۔ پوچھیں کہ کہاں جا رہے ہیں تو کوئی جواب دینا بھی گوارا نہیں کرتے۔ موصوف کے والد گرامی جہاندیدہ انسان تھے انہوں نے بھی ہزار ٹوکا کہ میاں تم ابھی کاروبار مت کرو اور ایسا کاروبار تو بالکل مت کرو جس کے بنیادی رموز و اوقاف سے آگاہ نہیں ہو۔ مگر ان کے سر پر جو بھوت سوار تھا وہ کیونکر اترتا وہ بھوت گاہے گاہے انھیں یہ یاددہانی کراتا رہتا تھا کہ تم لکشمی متل یا مکیش امبانی سے چنداں کم نہیں ہو۔ ان ناصحوں کی ہرگز پرواہ نہ کرو، جو کرنا ہے کر گزرو، یہ وقت عمل ہے پھر ہاتھ ملتے اور پچھتاتے رہ جاؤ گے۔
ادھر یہ پاکستانی قوم بھی عجیب و غریب قوم ہے کہ مغرب کی ایجادات کی ترتیب نو کچھ ایسے انداز میں کر ڈالتی ہے کہ دیکھنے والوں کا سر پھر جاتا ہے۔ لوہے کا ایک ڈھانچہ بنا کر اس میں لکڑی کے پھٹے جوڑنا اور پھر اس کے تلے دو ٹائر والا ایکسل لگا کر اس کو پیٹر انجن کے ساتھ جوڑنا اور کسی سائنسی تکنیک کے بغیر سٹیرنگ لگا کر ایک گاڑی کی شکل دے دینا ہمارے انجینئروں کا خاصہ ہے۔ استاد بھولا، استاد اچھا، استاد کالا جیسے ناموں کی ورکشاپس میں تیار ہونے والے ان پیٹر چھکڑوں پر لوگ اینٹیں، چارہ، لکڑیاں اور نہ جانے کیا کچھ ڈھوتے ہیں۔ رجسٹریشن، فٹنس اور دیگر سرکاری تکلفات سے آزاد یہ چھکڑے سرکاری کارندوں کو نذرانے دیتے دلاتے اپنی منزل مقصود پر پہنچ ہی جاتے ہیں۔
ہمارے دوست نے پیٹر چھکڑے کی ان جملہ خوبیوں کا تذکرہ جب کئی بار سنا اور خود بھی اس کی اٹھلاتی ہوئی چال کا نظارہ کیا تو دل میں ایسے ہی کسی حسین و جمیل پیٹر چھکڑے کو اپنا بنانے کی خواہش انگڑائی لینے لگی۔ نجانے کتنی راتیں انہوں نے اس کے خواب راحت میں گزاریں، یہ آتش فرقت آخرکار رنگ لے آئی اور انہیں ایک سہولت کار میسر آ گیا جو انہیں ان کے محبوب ارجمند سے ملوا سکے۔ عشاق کا یہ قافلہ بڑے طمطراق سے دیپالپور (اوکاڑہ) کی جانب روانہ ہوا اور بقول فیض،
خاک برسر چلو خوں بداماں چلو
دیکھتا ہے سبھی شہر جاناں چلو
عجیب بات ہے کہ جب عشق کی بازی ہو تو نرخ و حساب کون کم ذات دیکھتا ہے، جتنے بھی مانگے گئے دام دے دیے گئے اور پیٹر چھکڑے کو ایک بڑے ڈالے پر دلہن کی طرح سوار کر کے وطن مالوف کی طرف روانہ کیا گیا۔
بہت توقع تھی کے نئے مہمان کے آتے ہی یعنی نئے کاروبار کے شروع ہوتے ہی خوشحالی کا دور دورہ ہو جائے گا، خزاں رسیدہ گلشن میں بہار آ جائے گی، امنگوں اور آرزوؤں پہ چھائی ہوئی گھٹا چھٹ جائے گی، خوشیاں ابر بن کر برسیں گی اور ہر طرف سبزہ ہی سبزہ ہو گا۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ عزیز از جان پیٹر چھکڑے کو جس ڈرائیور کو سونپا گیا وہ ناہنجار بددیانت نکلا، جو کماتا خود کھا جاتا اور ماسٹر جی کو شام کے وقت سرخ جھنڈی دکھا کر اپنے گھر کی راہ لیتا۔
ابتداء میں تو تکلیف یہاں تک محدود تھی کہ چھکڑا روز چل چل کر ہلکان ہوتا تھا اور کمائی ندارد مگر بعد میں ایک اور مصیبت نے آن گھیرا کہ چھکڑا اکثر بیشتر خراب رہنے لگا، کبھی چھکڑا پنکچر ہو جاتا تو کبھی اس کا ایکسل ٹوٹ جاتا اور کبھی اس کا بیرنگ ٹوٹ جاتا۔ موصوف سکول سے سیدھے مکینک لے کر 1122 کی طرح وہاں پہنچتے جہاں پہ چھکڑا حالت اضمحلال میں کھڑا ہوتا تھا۔ جب اپنی جیب سے میکینک کو مرمت کا بل دیتے تو ان کی آنکھیں مائل بہ گریہ ہوجاتی تھیں مگر کبھی بھی ضبط کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیا۔
درجنوں بار ایکسل ٹوٹے، ٹائر پھٹے مگر ان کے پایہ ثبات میں لغزش نہ آئی۔ ایک نئے جوش ایک نئے ولولے کے ساتھ چھکڑے کو شاہراہوں پر رواں دواں کر دیا گیا۔ مگر نصف سال کے مسلسل نقصانات نے موصوف کے قلب و ذہن کو ایک خلجان سے بھر دیا تھا۔ وہ اس نئے کاروبار کی کٹھنائیوں اور ظالم سماج کے طعنوں سے لڑتے لڑتے تھک گئے تھے۔ چہرے کی باریک لکیروں کو کرب مسلسل نے مزید گہرا کر دیا تھا۔ آخر ایک دن عجیب فیصلہ کیا گیا ڈرائیور سے چھکڑا منگوا کر گھر کے عین سامنے سڑک پر کھڑا کروا دیا گیا۔ اس کڑے وقت میں اکثر اقبال کا یہ شعر دوستوں کو سنایا کرتے تھے۔
اے طائر لاہوتی رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
سڑک سے گزرتے ہوئے جاننے والے لوگ اس عجوبے کو ماسٹر جی کے گھر کے سامنے کھڑا دیکھتے تو ان کے قلوب و اذہان میں کئی سوالات جنم لیتے۔ کچھ صحافیانہ قسم کے جذبات رکھنے والوں سے جب رہا نہ گیا تو وہ ماسٹر جی سے اس کے بارے میں پوچھ بیٹھے تو انھوں نے وہ آتشیں جواب دیے کہ خدا کی پناہ، ان نام نہاد خودساختہ صحافیوں کو جان چھڑانا دوبھر ہو گیا۔ دن میں کئی کئی بار چھکڑے پر سے کھیلتے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر ہٹاتے کہ مبادا کوئی توڑ پھوڑ کر دیں۔
خیر ایک دن موصوف کے والد گرامی نے بلا کر ان کی مشکل آسان کرنے کا وسیلہ فراہم کیا اور کہا
”میاں اگر تم سے یہ کاروبار نہیں ہوتا تو اس جان کے جلاوے کو بیچ کیوں نہیں دیتے“
لو بھئی قصہ عشق لاحاصل تمام ہوا
جیسے خریدتے ہوئے بھاؤ تاؤ کا کوئی خاص خیال نہ رکھا گیا تھا بیچتے ہوئے بھی نہ رکھا گیا۔

