والدین کی لڑائیوں کے درمیان پسنے والے ننھے بچے!


یہ ایک بہت حساس موضوع ہے۔ والدین کی آپس میں یا والدین میں سے کسی ایک کی اہل خانہ میں سے کسی فرد کے ساتھ کشیدگی یا برا رویہ باقی افراد خانہ کے واسطے اذیت کا باعث بنتا ہے حتیٰ کہ وہ اس سے بے خبر ہوتے ہیں۔ اسی طرح والدین کی آپس کی بحث سے اولاد بہت متاثر ہوتی ہے، ان ننھے پھولوں کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بچے ہر چیز میں دلچسپی لینا چھوڑ دیتے ہیں، ان بچوں کو ہر چیز سے کوفت ہونے لگتی ہے۔

آج کی جنریشن نفسیاتی امراض کا شکار ہو رہی ہے۔ وہ بچے جو ورلڈ ریکارڈ بناتے تھے آج گھریلو جھگڑے میں قربان ہو چکے ہیں۔ ورلڈ ریکارڈ تو دور کی بات ان بچوں کے لیے اپنے اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز کے امتحانات میں پاس ہونا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ بچے تعلیم کے میدان میں قابل ذکر کارنامے انجام دینے سے قاصر ہو چکے ہیں کیونکہ یہ بچے جب پڑھنے کے لیے بیٹھتے ہیں تو ان کے دماغ میں ایک فلم چلنا شروع ہو جاتی ہے، ان کے کانوں میں بہت سی آوازیں گونجتی ہیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے ایک پٹی چل رہی ہوتی ہے۔

ان کی آنکھوں کے سامنے چلنے والی اسکرین وہ روداد سنا رہی ہوتی ہے، جو ان بچوں نے پورے دن کے دوران اپنے گھر میں لڑائی اور تنازع کی صورت میں دیکھی ہوتی ہے۔ معصوم بچے ان خیالات کو اپنے ذہنوں سے جھٹکنا چاہتے ہیں، کوشش کرتے ہیں مگر ناکام ہو جاتے ہیں۔ والدین کی لڑائی کی وجہ سے یہ بچے اپنی خواہشات کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ جب وہ اس خواہش کا ذکر گھر والوں سے کریں گے تو دوبارہ ایک طوفان برپا ہو جائے گا۔

وہ بچے جن کی کھیلنے کی عمر تھی وہ سہمے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ہر چیز سے کتراتے ہیں، وہ ننھی سی عمر میں بہت کچھ اپنے اندر سمائے ہوئے ہیں، ان ننھی کلیوں سے ان کا بچپن جیسے چھن ہی گیا ہو۔ اس جدید تعلیم یافتہ معاشرے میں گھریلو لڑائیاں اولاد کی موت کا باعث بنتی ہیں اور والدین اس سے بے پروا ہو کر گھریلو جھگڑوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ والدین کا فرض صرف تین وقت کی روٹی کھلانا نہیں ہے بلکہ ان کی ذہنی اور جسمانی تربیت بھی ان کے ذمہ ہے۔

روزانہ کتنے ہی نوجوان ان جھگڑوں کی وجہ سے خودکشی کر لیتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ وہ سکون چاہتے ہیں۔ گھریلو نا چاقیوں کے باوجود والدین چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد امتحانات میں بہترین کارکردگی دکھائے، وہ اولاد جس کے لیے اس ماحول میں زندگی گزارنا دشوار ہو گیا ہے۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد بڑھاپے میں ان کا سہارا بنے، وہ اولاد جو ان حالات سے تنگ اپنی جان لینے کے بارے میں سوچ رہی ہوتی ہے۔ بچے کی تلخ ترین یادیں اس کے والدین کی لڑائی اور تنازعات ہیں، جو اس بچے سے اس کا چین چھین لیتے ہیں۔

ایسے لمحات ان ننھی کلیوں کو پھول کی صورت میں ڈھلنے سے پہلے ہی مرجھانے کا باعث بنتے ہیں۔ میری گزارش ہے والدین سے کہ وہ اپنی اولاد کا بہترین دوست بننے کی کوشش کریں چونکہ یہ آج کے دور کی اک اہم ضرورت ہے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ المختصر والدین کے باہمی اختلافات، اولاد کی شخصیت کے لیے زہر قاتل کی مانند ہیں۔

Facebook Comments HS