اردو بولنے والے اس اتحاد کو خدا کی ناراضگی سمجھ کر قبول کریں
عوام کا خیال ہے کہ ایم کیو ایم نے پی پی پی اور پی ڈی ایم کے لیے میدان کھلا چھوڑا ہے، کیونکہ وہ پی ڈی ایم کی اتحادی ہے اور وہ ان کی حکومت سے نکلنا نہیں چاہتے تھے اس لیے الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔ غور کیا جائے تو یہ بات کسی حد تک درست لگتی ہے۔ ایم کیو ایم یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ اردو بولنے والوں کی سندھ میں واحد نمائندہ جماعت ہے۔ اسی دعویٰ کو سامنے رکھ کر ایم کیو ایم کراچی کے معاملات طے کرتی ہیں چاہے کراچی والوں کو یہ فیصلے پسند آئے یا نہ آئے۔
کراچی میں وڈیرا سسٹم ایم کیو ایم کی دوہری پالیسی ہی کی وجہ سے آیا ہے۔ ان کو جہاں، جس کے ساتھ موقع ملتا ہے حکومت بنا لیتے ہے چاہے وہ وفاق ہو یا صوبہ۔ آج کراچی کے چپے چپے پر آپ کو پیپلز پارٹی کے کارکن دکھائی دیتے ہیں۔ اندرون سندھ میں کوئی تصور نہیں کر سکتا کہ کوئی غیر سندھی یا کسی دوسری جماعت کا کارکن ایک جھنڈا بھی لگا لے۔ پیپلز پارٹی چین کے ایک پارٹی نظام سے بہت متاثر ہے اس لیے صرف حکومت ہی نہیں روزگار میں بھی صرف اپنی جماعت کے افراد کو ہی بھرتی کرتی ہے لیکن کچھ آسانی اتحادیوں کو بھی دے دیتی ہیں۔
اس کرپٹ پریکٹس کی وجہ سے سندھ ہائی کورٹ نے 8 سال سے ایس پی ایس سی پر پابندی لگائی ہوئی ہے لیکن آج بھی پیپلز پارٹی اپنے حکومتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے سندھ میں بھرتیاں کرتی ہے۔ ہر چار ماہ کے بعد نئی بھرتیوں کا مقدمہ عدالت میں پیش ہوتا ہے۔ کچھ سال تک مقدمہ چلتا ہے، اتنے میں ان ملازمین کا آزمائشی عرصہ مکمل ہوجاتا ہے اور وہ کیس ختم ہوجاتا ہے۔ پھر بھرتیاں ہوتی ہیں پھر وہی پہیہ گھومتا ہے۔ یہ کھیل سالوں سے جاری ہے اور حکومت کے وفادار اتحادیوں کی وجہ سے آگے بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔
ان بھرتیوں میں اتحادیوں کو بھی حصہ دیا جاتا ہے ان کو صرف وعدوں پر نہیں ٹرخایا جاتا، وعدے صرف عوام سے ہوتے ہیں۔ اس کھیل میں صرف پیسہ کام نہیں کرتا بلکہ سیاسی طاقت، خاندانی پس منظر، زبان سب کچھ دیکھا جاتا ہے۔ یہی معاملہ سندھ میں پینشن کا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سندھ میں پینشن کے اخراجات پنجاب سے زیادہ ہیں جبکہ سندھ میں سرکاری ملازمین کی تعداد پنجاب سے کم ہے۔ اس بات پر حکومت کو بھی تشویش ہوئی ہے کہ ملازمین کی تعداد کم ہونے کے باوجود پینشن کیوں زیادہ جا رہی ہے۔
معاملہ وہی ہے کرپشن اور مخصوص لوگوں سے تعلق رکھنا جس کی بنیاد پر نسل در نسل پینشن کا چلنا ہے۔ ایم کیو ایم نے اپنے ذاتی مفاد کو عوام کے مفاد پر ترجیح دی اور مفاہمت کے نام پر جو کھیل کھیلا ہے، اس کا خمیازہ کراچی سمیت تمام شہری علاقوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ آج بلدیاتی انتخابات تک میں کراچی کی نمائندگی کرنے والی کوئی جماعت نہیں جیت رہی ہے۔ اردو بولنے والوں کا کوئی نمائندہ آپ کو فرنٹ پر نظر نہیں آئے گا پورے صوبے پر ایک جماعت کی حکومت ہے۔
ایم کیو ایم کا مقصد تھا کہ 2023 کے بلدیاتی انتخابات میں ان کے سابقہ میئر کو ہی واپس کراچی کا میئر بنا دیا جائے اور حیدرآباد کے ساتھ بھی یہی کیا جائے۔ تاکہ پی پی پی کے ساتھ اگلے دس سال ہنسی خوشی گزرے اور دال روٹی بھی سکون سے چلتی رہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پیپلز پارٹی کو ہی فرنٹ سیٹ دے دی جائے لیکن درمیان میں آ گئی جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی۔ سالوں کی سخت مشقت کے بعد بھی جماعت اسلامی واضح اکثریت نہ لے سکی اور جماعت اسلامی نے دھاندلی کا الزام عائد کیا اور پھر الیکشن کمیشن میں جانے کا عندیہ دے دیا ہے۔
خیر کچھ بھی کہہ لے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو ان کی جیت مبارک ہوں۔ اردو بولنے والوں کو اس اتحاد کو مزید دس سال تک خدا کی ناراضگی سمجھ کر قبول کرنا پڑے گا۔


