ڈاکٹر غلام مرتضیٰ عاطر کی کتاب ”استفسار“ کا ریویو
”استفسار“ کو آج ایک بار ھر پڑھا تھا۔ اب تک میں اسے چار بار پڑھ چکی ہوں۔ جب اسے پہلی بار پڑھا تو لگتا تھا ایک نہ ایک دن یہ غم مذکورہ ماضی کا حصہ بنیں گے اور انسان، ہمارے معاشرے کا انسان ان غموں سے آزاد ہو گا۔ اس بار ”استفسار“ کو پڑھا، ملک اور معاشرے کی حالت دیکھی تو لگا کہ یہاں کبھی کچھ نہیں بدلنے والا۔ ایک قدم آگے اٹھاتے ہیں تو چار قدم پیچھے رکھتے ہیں۔ جانا کدھر ہے؟ جا کہاں رہے ہیں؟ کچھ خبر نہیں۔ کوئی دن نہیں جاتا جب کوئی بری خبر نہ ملے۔ تکلیفیں اور زخم ہیں کہ بڑھتے جاتے ہیں۔ اور ہر زخم ایسا کاری ہوتا ہے کہ سمجھ نہیں آتا کس پر زیادہ پیٹنا ہے، زیادہ فغاں کرنی ہے، پہلے والوں پر یا نئے پر؟
”استفسار“ کے عنوان کو پیش نظر رکھ کر ”استفسار“ کے جتنے پہلو میں سمجھ سکی ہوں اس میں پہلا پہلو خدا سے ”استفسار“ ہے۔
خالق سے آہ و فریاد کی شنوائی کا ”استفسار“
خالق جو خاموشی سے سب کچھ ہوتے دیکھتا رہتا ہے۔
مشیتوں کے سہارے زندگی کے دن کاٹتا فرد خدا سے اپنے لیے اس کی مرضی و رضا کی تفہیم چاہتا ہے۔
خدا۔ جسے جانبداری کے بنا سوچیں تو لگتا ہے کہ جانبدار ہے۔ اس سے پوچھنے کا دل چاہتا ہے کہ دھرتی کہ کس حصے پر جا کر کتنا بلکیں، کتنی ایڑیاں رگڑیں تو چشمہ پھوٹے گا؟
یا چشمہ صرف ابن خلیل کے لیے ہی پھوٹنا تھا؟ ایک وی آئی پی کے لیے؟
”استفسار“ دکھوں کے درماں کا۔ ”استفسار“ ”مسیحا“ کی آمد کا۔ اس کی خاموش تماش بینی کا۔ ”کیوں؟“ آخر وہ کچھ کرتا کیوں نہیں؟
بیکٹ نے پون صدی قبل جس مسیحا (گوڈو) کا تعارف کروایا تھا مجھے لگتا ہے کہ ہم ذاتی و قومی سطحوں پر اسی مسیحا کے منتظر ہیں جو کبھی نہیں آتا۔ اور اگر کوئی مسیحائی کا دعویدار آ بھی جاتا ہے تو اس کے پاس ہمیں کوئی ”عیسیٰ نفسی“ دکھائی نہیں دیتی۔ وہ بھی ہماری طرح لاچار نظر آتا ہے۔ ”استفسار“ نسل در نسل غموں پر پلتی جنتا کی آہوں، سسکیوں، اشکوں اور فریادوں کی کردگار کے حضور ترجمانی کی کوشش ہے۔ اور اس سے مسیحا کی آمد کا ”استفسار“ ہے۔ مجھے یہ ترجمانی دل تک بھا گئی ہے۔ ترجمان کی صدا نہیں پہنچے گی تو وہ پتھر لیے فلک کی جانب اچھالنے کو تیار ہے۔ ترجمان کو اتنا ہی جرات مند ہونا چاہیے۔
دوسرا ”استفسار“ اس معاشرے اور ریاست کے کرتا دھرتاؤں سے، فیصلہ ساز قوتوں سے ہے۔ یہ سامراجی طاقتیں، یہ بنا پیٹ والی بلائیں ہیں، جو ہم پر مسلط ہیں۔ بلا پیٹ والی ہو تو کچھ نہ کچھ اس کے منہ میں جھونک کر کچھ نہ کچھ بچایا جا سکتا ہے۔ بنا پیٹ کی بلا نہ کہیں رکتی ہے، نہ کچھ چھوڑتی ہے۔
”استفسار“ کلونائزر اور کلونائزڈ کے درمیان کی کشمکش کا اظہار ہے۔ ہمارے ملک اور معاشرے کا نظام شروع سے کالونائزرز کے ہاتھ میں ہے۔ کالونائزڈ طبقہ ان نوآبادیاتی اور سامراجی قوتوں کے ہاتھ میں کھلونا ہے۔ یہ ”فضول لوگ“ ہیں۔
ہجوم کی اعلیٰ قیادت ( اب قوم کا لفظ استعمال کرتے ہوئے سوچنا پڑتا ہے کہ کرنا چاہیے یا نہیں ) حکمران ایلیٹ، جاگیردار، وڈیرے، پنڈ کے نمبردار، ( اور کہیں کہیں مولوی بھی ) تھانے کا انسپکٹر، گھر میں وہ دستار بند بوڑھا یا جوان جس کے ہاتھ میں باقی اہل خانہ کی قسمتوں کی فرد ہے۔ ( کون کیسے رہے گا؟ کیا پہنے گا، اوڑھے گا؟ کیا کام کرے گا؟ پڑھے گا یا نہیں؟ اس کی شادی کس سے ہوگی؟ یہ سب وہی شملے والا طے کرے گا ) یہ تمام کالونائزر کردار اختیار اور طاقت کے بل پر کالونائزڈ کے حقوق پر قابض ہیں۔ ”استفسار“ اسی کالونائزڈ طبقہ کی آواز ہے۔
”استفسار“ میں ”زندگی“ کے عنوان سے موجود نظم خوبصورتی سے کالونائزر اور کالونائزڈ کی تصویر کشی کر رہی ہے۔
”استفسار“ کا اگلا پہلو اپنے آپ سے، اپنی ذات سے ”استفسار“ ہے۔ اپنے ہونے کی توجیہ، اپنے ہونے کے معنی کی جستجو، کار جہاں میں اپنے کردار کی سمجھ، اور اپنی حیثیت کا سوال ہے۔
استفسار مجموعی طور پر موضوعاتی تنوع کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ یہ فنی، صنفی اور موضوعی ہر زاویے سے مکمل ہے۔
خشک راوی کا مرثیہ، ماحولیاتی آلودگی، قدرتی آفات، ( قدرتی آفات ماضی میں ہوا کرتی تھیں، یہ کرپشن کی آفات ہوتی ہیں جن کو قدرت کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے ) نفرت کا تعفن، خارجی عدم تحفظ، شدت پسندی، بے گناہوں کی خون ریزی۔ الغرض اندر باہر کے سارے تنازعات کو بیان کیا گیا ہے۔
”استفسار“ غم جاں، غم جاناں اور غم جہاں۔ سبھی کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
”استفسار“ میں فکر فرد ہے اور فکر فردا بھی۔ معنی خیز، اثر آفریں، ہمہ گیر و ہمہ جہت۔ ہر خوبی سے مزین۔ اور ان سب سے بڑھ کر ”استفسار“ کی کمال خوبی اس کی ”سچائی“ ہے۔ یہ کسی جنت نظیر مقام پر بنے محل کی بالکونی میں بیٹھ کر کیوپڈ کے تیر، کسی گلفام یا کسی بدیع الجمال پر لکھا قصہ نہیں ہے۔ نہ ہی حقیقت پر تخیل کی ملمع کاری سے پڑھنے سننے والوں کو کسی گمراہ کن پہلو کے پیچھے دوڑایا گیا اور نہ الفاظ کی شعبدہ بازی کر کے پیغام کو دفن اور معنی کو مسخ کیا گیا۔ ( جیسا کہ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں ہر جگہ اور ادب میں نئے تجربات کے نام پر ہو رہا ہے ) یہ زمین کا تذکرہ ہے آنکھوں کے سامنے برپا ہوئی قیامتوں کا احوال اور کسی سجاوٹ اور بناؤ والے ملفوف کے بنا بے رحم حقیقتوں کا بیان ہے۔ اس رقم ہوئی سچائی موضوعی بھی ہے اور معروضی بھی۔
پھولوں والے گاؤں کو نکلنے والے جنگلوں میں بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ وہ درندوں کے مسکن میں آ گئے ہیں اور اس بن سے باہر کا راستہ تلاش کرنے میں کامیاب نہیں۔ اس سے نکالنے کے لیے کوئی راہبر میسر نہیں۔ ”استفسار“ انہی بھٹک جانے والوں کے کرب کا اظہار ہے۔
Straggling through fire
سونے والوں کو جگانے کی پہلی کوشش اور پہلی اذان تھی۔ ”
Straggling through fire
شعور پر پہلی دستک کی طرح تھی۔ میں خوش ہوں کہ دستک کا یہ سلسلہ رکا نہیں۔ ”استفسار“ دوسری دستک بن گئی ہے اور امید ہے یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گا
پکارنے اور اذان دینے والے کی ذمہ داری پکارنا اور اذان بلند کرنا ہے۔ آستینوں سے صنم ہٹانا اس کا کام نہیں ہے۔
ایک اور بہترین تخلیق پر مبارک باد
ایک اور چشم کشا ادبی پارہ فراہم کرنے کے لیے شکریہ
