انصاف سے محروم کالے کوٹ والا


ریاستوں کے عدم استحکام اور تباہی کی سب سے بڑی وجہ ظلم اور نا انصافی ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں عدل و انصاف نہ ہو اسے تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ پاکستان میں نظام انصاف انتہائی مایوس کن ہے۔ نظام انصاف سے جڑے ہوئے تمام اداروں کی کوتاہیوں اور خامیوں پر پہلے بھی بات ہوتی رہی ہے لیکن انصاف کی امید کا آخری چراغ بھی بجھنے لگتا ہے جب سکھر کے رہائشی نامور قانون دان امداد علی ملک کے درد کی روداد سنتے ہیں۔

15 سالوں سے ہائی کورٹ سمیت مختلف عدالتوں میں پیش ہو کر عوام الناس کو انصاف دلانے کے لیے قانونی جنگ لڑنے والے وکیل امداد ملک انصاف سے محروم ہیں اور خود اپنے لیے عدالت کی راہ تک رہے ہیں۔

ایڈوکیٹ امداد ملک کبھی سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کبھی کراچی حیدرآباد اور لاڑکانہ بینچ میں خلق خدا کو انصاف کی فراہمی کے لیے دہائی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ کبھی کرپشن کے خاتمے کے لیے کسی مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے احتساب عدالت میں ملیں گے تو کبھی پولیس اور وڈیرہ گردی کا شکار ہونے والے مظلوم عوام کا دفاع کرنے کے لیے سکھر لاڑکانہ شکارپور خیرپور جیکب آباد اور نوشہرو فیروز کی عدالتوں میں فائل اور قانون کی کتابیں ہاتھ میں لیے جدوجہد میں مصروف عمل ہوں گے۔

گزشتہ سیلابی صورتحال کے دوران جب امداد ملک نے دیکھا کہ متاثرین کے مال میں غبن ہو رہا ہے۔ غریبوں کے لیے آیا ہوا ساز و سامان کرپشن اور اقربا پروری کی نذر ہو رہا ہے تو وہ فوری طور پر مفاد عامہ کی پٹیشن لے کر سندھ ہائی کورٹ پہنچ گئے اور حکومت سندھ کے وزراء، کمشنر سکھر سمیت مختلف ذمہ داران کے خلاف پٹیشن دائر کر ڈالی اور عدالتی محاذ پر جنگ لڑنے کے بعد حقیقی مستحقین کو ان کا حق دلایا مگر نہایت افسوس کا مقام ہے کہ معاشرے کے مظلوم طبقات کا درد اپنے دل میں محسوس کرنے والے وکیل امداد ملک کے اپنے سگے بھائی ممتاز ملک کا خون میں نہلا ہوا جسد خاکی اور انصاف کا متلاشی روح ڈھائی سال گزر جانے کے بعد بھی انصاف سے محروم ہے۔

وہ 2020 کے 12 اگست کا بدبخت سورج تھا جو ایڈوکیٹ امداد ملک کے خاندان کے لیے قیامت لے کر طلوع ہوا۔ وکیل امداد ملک کے بڑے بھائی ممتاز علی ملک کو ان کے آبائی گاؤں ضلع گھوٹکی کے گوٹھ سجاول ملک میں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔

ممتاز ملک کو علم نہیں تھا کہ اسے کس جرم کی سزا میں ابدی نیند سلا دیا گیا۔ ممتاز کے بچوں کو خبر نہیں تھی کہ کس دوش میں ان کے سر سے شجر سایہ دار کا سایہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اٹھایا جا چکا ہے۔ ممتاز ملک کو رات کے رہزنوں نے دن کی روشنی میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ لہو میں لت پت ممتاز کی لاش نے ان کے بچوں کو یتیمی کا بوجھ لیے کھیل کے میدان اور اسکول کی کلاس سے نکل کر انصاف کے لیے کورٹ کچہریوں میں دھکے کھانے پر مجبور کر دیا جنہیں انصاف کے بجائے تاریخ پر تاریخ مل رہی ہے۔ ممتاز کے بچوں کے زخم آج بھی ہرے ہیں۔ گھاؤ ابھی تک بھرے نہیں ہیں۔ وہ انصاف لینے ہر پیشی پر عدالت میں حاضر ہوتے ہیں۔

ممتاز کے قتل کا دن تھا جب دوسروں کے لیے انصاف کی جنگ لڑنے والے وکیل امداد ملک اپنے سگے بھائی ممتاز کے لال لال لہو کے ساتھ انصاف کے لیے راہ انصاف کے مسافر بن گئے اور آج تک اپنا نوحہ عدالتی کمروں میں بیان کر رہے ہیں کہ ان کا بھائی بے قصور تھا اس نے تو کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا تھا۔ اس نے تو جیو اور جینے دو کا سبق پڑھا تھا پھر اسے بہیمانہ طریقہ سے کیوں قتل کر دیا گیا لیکن اسے کسی سوال کا جواب ملنے کے بجائے تاریخ مل جاتی ہے۔ میں نے کچھ روز قبل ایڈوکیٹ امداد ملک سے عدالتی کارروائی کا احوال پوچھا تو انہوں نے ایک گہرا ٹھنڈا سانس لے کر کہا جی ایم بھائی!

”سنے کون قصہ درد دل میرا غم گسار چلا گیا،
جسے آشناؤں کا پاس تھا وہ وفا شعار چلا گیا ”

کوئی تفصیلی جواب دینے کے بجائے اس شعر کی دو سطریں نقل کر کے سنائیں اور وہ خاموش ہو گئے۔ شاید ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا کہ وہ تو دوسروں کو دلاسا دیتے ہیں۔ اور ہمیں امید دلاتے رہے ہیں انصاف کی (ایڈوکیٹ امداد ملک نے میری بہن کے قتل کیس کی پیروی شاندار انداز میں کی تھی، میں جھوٹے مقدمے میں قید بھگت رہا تھا تو انہوں نے مفت میں کیس لڑا، بھرپور ساتھ دیا اور کسی قسم کے دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا) لیکن وہ خود اور ان کے بھتیجے ڈھائی سال سے عدالتی عمارتوں کے اندر انصاف کی صدائیں دے رہے ہیں اور کوئی جواب نہیں مل رہا۔ تا ہم ایڈوکیٹ امداد ملک تھکے نہیں ہیں مایوس نہیں ہوئے ہیں کیوں کہ وہ مرحوم ممتاز کے بچوں کے حوصلے پست ہوتے نہیں دیکھ سکتے اور ان کو بلند عزائم کے ساتھ لے کر آگے بڑھ رہے ہیں

اس کیس کے تناظر میں اگر پولیس کے کردار کو دیکھا جائے تو غضب کی حد تک افسوس ناک ہے۔ ممتاز ملک کے قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچانا تو دور کی بات الٹا قاتلوں کو تحفظ فراہم کر کے مقتول ممتاز کے خاندان کو مقدمہ سے دستبردار ہونے کے لیے جھوٹے کیس میں پھنسا کر دباؤ ڈالا گیا تا کہ زبردستی صلح کروائی جا سکے۔ ڈھائی سال گزر گئے ہیں تاحال ممتاز ملک کے قتل کیس کے اہم ملزمان واحد بخش عرف بابو گڈانی جان محمد گڈانی و دیگر قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ صرف دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جس طرح سے مقتول فریق کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر قاتلوں کو بچانے کی کوشش کی گئی یہ ہمارے نظام انصاف کے لیے بہت بڑے المیے سے کم نہیں۔

سوچنے کا مقام ہے کہ جب ایک وکیل (جو خود عدالت کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں ) کے ساتھ یہ حال ہوا ہے تو ایک عام آدمی کے لیے کس طرح کے حالات ہوں گے۔ انصاف کی فراہمی ایک غریب آدمی کے لیے مشکل ہی نہیں ناممکن بن چکی ہے لاکھوں روپے وکیلوں کی فیس عدالتی پیشیوں کے اخراجات وغیرہ ادا کرتے کرتے ایک غریب خاندان کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے لیکن انصاف نہیں ملتا اور مجبوراً جرگے کر کے معاملات کو رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔

وکیل امداد ملک کا کیس سامنے رکھنے سے اس بات کا اندازہ لگانا مقصود ہے کہ اگر کالے کوٹ والے بھی اس کرپٹ اور بوسیدہ نظام کے قہر سے محفوظ نہیں ہیں تو پھر عام شہریوں کے لیے انصاف کا حصول ”دہلی دور است“ کے محاورے جیسا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالتی نظام میں اصلاحات لائی جائیں تفتیشی نظام میں بہتری لائی جائے اور کرپشن کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جائے تا کہ انصاف کا حصول ممکن ہو سکے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments