کھلونے کی خریداری


وہ آنگن ہی سوہنے محسوس ہوتے ہیں جن میں بچوں کی کلکاریاں، نوک جھونک اور چھیڑ چھاڑ کی آوازیں نہ گونجے یہ بچے ہی ہوتے ہیں جو اداسی میں بھی لبوں پر مسکراہٹیں بکھیر دیتے ہیں۔

ہم اگر آج سے دس، پندرہ سال پیچھے چلے جائے تو بہنوں میں اس بات پر جھگڑا ہوتا تھا کہ تم نے میری گڑیا کے بال خراب کر دیے اب میں اس کی شادی تمھاری گڈے سے نہیں کروں گی اور بھائی اس بات پر لڑ جاتے تھے کہ میری گاڑی کا ریموٹ تم نے کہاں چھپایا ہے؟ مجھے اس سے کھیلنا ہے اور اس ہی قسم کی نوک جھونک سے گھر کی فضا میں رونق رہتی مگر اب ٹیکنالوجی نے کچھ ایسا جکڑا ہے کہ بچوں کی خوشی کا سب سے بڑا ساماں اسمارٹ فون ہے اسمارٹ فون پکڑوا دیں پھر گھنٹوں آپ کو یہ بات بھی نہیں پتا چلے گی کہ آپ کا بچہ گھر پر ہے بھی کہ نہیں۔

مائیں اسمارٹ فون پکڑوانے کو اس لیے بھی ترجیح دینے لگی ہیں کہ انھیں مہنگائی کے دور میں کھلونے خریدنا گھر کا بجٹ آؤٹ کرنے کے مترادف محسوس ہوتا ہے اور اسمارٹ فون چونکہ آج کل ضرورت بن چکا ہے اس لیے ہاتھ میں موجود ہیں اور اسے دے کر ہی سکون سے گھر کے کام نمٹائے جا سکتے ہیں مگر کیا گھر کے کام اتنے اہم ہیں؟ کہ بچوں کی شخصیت سازی کے لیے ان کی عمر کی مطابقت سے کھلونے نہیں خریدے جائے؟ اور ان کے ساتھ کھیل کر ان کے بچپن کو یادگار نہیں بنایا جائے جس طرح میرا اور آپ کا بچپن کھلونوں کی وجہ سے یادگار بنا ہے۔

بچوں کے کھلونے خریدتے وقت کچھ احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے ایک تو یہ کھلونے بچوں کی عمر کی مطابقت سے خریدے جائے اور دوسرا یہ کہ وہ کس دھات سے بنے ہوئے ہیں وہ دھات بچے کے لیے نقصان دہ تو نہیں؟

عمومی طور پر کھلونوں پر یہ لکھا ہوا ہوتا ہے کہ تین سال سے کم عمر بچوں کے لیے نہیں ہے مگر آج کے تیز رفتار دور میں جہاں بچوں کو دو سال میں مونٹیسوری میں داخلہ مل رہا ہے وہاں مائیں کیوں اپنی زیر نگرانی بچوں سے ان کھلونوں سے نہیں کھیلے جنھیں مونٹیسوری میں رکھا جا رہا ہے اور بچے ان کھلونوں سے کھیل رہے ہیں۔

اگر مائیں مارکیٹ کا رخ کریں تو انھیں وہاں ایسے بورڈز ملیں گے جن پر پرندوں، سبزیوں، جانوروں کی تصویریں موجود ہیں اور بچے انھیں لگا کر خوش ہوتے ہیں۔ مختلف انداز میں شیپز کی جوڑ توڑ موجود ہیں جنھیں نکالنے اور اندر ڈالنے میں ان کی ذہنی صلاحیت استعمال ہوتی ہیں اور وہ آپ سے کسی گیجٹ کا مطالبہ نہیں کرتے۔ اس کے ساتھ وہ کھلونے جن کی فرمائش بچے خود کر رہے ہوتے ہیں جیسے استری کا اسٹائنڈ یا پھر ڈریسنگ ٹیبل اور آپ ان کھلونوں کو دلانے میں شش و پنج کا شکار ہوتی ہیں تو یہ وہ کھلونے ہیں جو اسکول میں موجود ہوتے ہیں اور پلے ٹائم میں بچوں کو انھیں کھلونے سے کھیلنے کا کہا جاتا کیونکہ اس سے وہ زندگی میں موجود معمولی معمولی کاموں سے ہمکنار ہوتے ہیں۔

گر میں بات کروں چھ سال سے اوپر بچوں کے لیے کھلونے خریدنے کی تو کھلونوں کے ساتھ ساتھ کلے (clay) اور ( (claytools

ایک ایسی چیز ہے کہ جب بچے اس سے مختلف چیزیں بناتے ہیں تو ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا ملتی ہیں اور وہ پراعتماد محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنے ہاتھوں سے کچھ انوکھا اور منفرد تخلیق کر سکتے ہیں۔

چھ سے دس سال کے بچوں کو عمومی طور پر گاڑیاں، ٹول سیٹ، کچن سیٹ، گڑیائیں یا پھر چھوٹی چھوٹی چیزیں پسند آجاتی ہیں اور آپ انھیں بہلا بھی دیتے ہیں مگر عمر بڑھنے کے ساتھ پسند، ناپسند، چھوٹا، بڑا سب سمجھ آنے لگتا ہیں اور پھر یہ فرمائش بھی ہوتی ہے کہ دکان جاکر خود خریدا جائے اور آپ کے نہ دلانے پر اپنی عیدی سے ہی خرید لیا جائے۔ مگراس عمر میں ماؤں کا ایک عمومی رویہ دیکھنے کو ملتا ہے اور وہ ہوتا ہے (gender discrimination) یقیناً یہ لفظ یہاں عجیب لگ رہا ہو گا اب بھلا کھلونوں میں کیسی ( (gender discriminationمگر ایسا ہے کیونکہ ہر چیز میں جدت آ گئی ہے اس لیے کھلونوں میں بھی جدت آنا ایک عام سی بات ہے اس لیے آپ کو مارکیٹ میں کنگ سائز کچن سیٹ اور کنگ سائز ریموٹ کنٹرول گاڑیاں ملے گی مگر اگر ایسا ہو کہ آپ اپنے بیٹا، بیٹی کو کھلونوں کی دکان پر لے کر جائے اور وہاں جاکر آپ کا بیٹا کچن سیٹ اور بیٹی ریموٹ کنٹرول خریدنے کی فرمائش کریں تو آپ یہیں سمجھائیں گی کہ کچن سیٹ سے لڑکے نہیں کھیلتے اور گاڑیوں سے لڑکیاں نہیں کھیلتی مگر آپ کیوں یہ بات سمجھائیں گی؟

یہیں سے ( (gender discrimination کی شروعات ہوتی ہے کیونکہ اس میں کوئی برائی نہیں اگر آپ کا بیٹا کچن سیٹ سے کھیلنا چاہتا ہے اور اس کا خواب ایک مشہور چیف بننا ہے اور آپ کی بیٹی چولستان میں جیپ سفاری میں شرکت کرنا چاہتی ہے ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں اپنے بچوں کے خوابوں کو پورا کرنے میں ساتھ دینے میں کوئی قباحت نہیں۔

آج کے دور میں سب سے اہم یہیں چیز ہے کہ مائیں یہ سوچے سمجھے کہ ہمارے عہد کے بچے بہت تیز ہو گئے ہیں ان کی نظر ہمارے چلنے، پھیرنے، اٹھنے، بیٹھنے، بولنے، کھانے، پینے سب پر ہے اس لیے ہمیں محتاط رویہ اپنانا ہے دو سال کے بچہ کے لیے ان کھلونے کا انتخاب کرنا ہے جس سے وہ سیکھنے کی طرف راغب ہو کیونکہ ہمیں اسے سیکھنے کے لیے مائل کرنا ہے چھ سال کے بچے کو وہ کھلونے دینے ہیں جس سے وہ پراعتماد ہو اسے اپنی صلاحیتوں پر کسی قسم کا کوئی شک نہ ہو اور ایک دس سال کے بچے کو وہ کھلونے دلانے ہیں جس سے وہ خواب دیکھ سکے اپنے پیشن اور پروفیشن کو دیکھ سکے کیونکہ آپ ہی کے معمولی فیصلے انھیں زندگی میں کامیابیاں اور کامرانیاں عطا کرتے ہیں۔

Latest posts by مبشرہ خالد (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments