صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل
پنجاب اسمبلی کی تحلیل حقیقت بن چکی۔ خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل ہونے جا رہی ہے۔ ہمارے سابق وزیر اعظم اور عالمی کرکٹ کے فاتح عمران خان احمد خان نیازی نے جن عظیم مقاصد کے حصول کے لیے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں تحلیل کرنے کا رسک لیا ہے کیا انہیں حاصل کر پائیں گے؟ یا اپنے پونے چار سالہ دور حکومت میں اپنے دعووں اور اعلانات پر آگے بڑھنے اور ان پر عمل کرنے کی بجائے پسپائی ( جنہیں عوامی زبان میں یو ٹرن کہا جاتا ہے ) اختیار کرنے کو ترجیح دیں گے۔
تحلیل کی جانے والی اسمبلیوں کے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف باہمی مشاورت سے نگران وزرائے اعلی کا فیصلہ نہ کر پائے۔ اب یہ معاملہ دونوں اسمبلیوں کی پارلیمانی کمیٹیوں کے پاس چلا گیا ہے اگر ان سطور کی اشاعت تک یہاں فیصلہ نہ ہوا تو پھر دونوں نگران وزرائے اعلی کی تعیناتی الیکشن کمیشن آف پاکستان کرے گا۔
پنجاب کے وزیر اعلی اور تحریک انصاف کے راہنما چودھری پرویز الہی نے تو دو ٹوک اعلان کر دیا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ نگران وزیر اعلی کو تسلیم نہیں کریں گے اور معاملہ سپریم کورٹ لے کر جائیں گے۔ چودھری پرویز الہی کے اس بیان سے کیا ثابت ہوتا ہے یا وہ کیا چاہتے ہیں؟ خوشگوار حیرت ہے کہ جس وقت چودھری پرویز الہی الیکشن کمیشن کے خلاف بیان دے رہے تھے اسی وقت الیکشن کمیشن نے سات حلقوں سے عمران خاں کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کر رہا تھا جس سے پرویز الہی کے الزامات سے ہوا نکل گئی۔
سندھ میں مقامی حکومتوں کے دوسرے مرحلے کے انتخابات کے نتائج سامنے آ گئے ہیں سرکاری نتائج کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ انتخابات کی کریڈیبلٹی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی فاتح ٹھہرائی گئی ہیں اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے درمیان کراچی کے میئر کے لیے بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے۔ دونوں جماعتوں کے راہنماؤں سعید غنی اور حافظ نعیم الرحمان نے ایک دوسرے کے امیدواروں کے خلاف دوبارہ گنتی کے لیے دائر کی گئی درخواستیں واپس لینے کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند ہے۔
گو تحریک انصاف نے کراچی میں پچاس کے قریب نشستیں حاصل کی ہیں لیکن پھر بھی اس نے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے نئے انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تحریک انصاف کے تیسرے نمبر پر آنے کے باعث پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی آپس میں اتحاد کرنے دباؤ میں ہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے جماعت اسلامی کو اتحاد کی پیشکش کر چکی ہے مگر بادی النظر میں یہ بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی اس کی وجہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا دیرینہ ٹکراؤ بھی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی خواہش بھی۔
کراچی اور حیدرآباد میں پیپلز پارٹی کی کامیابی دیکھ کر پنجاب میں پیپلز پارٹی کے خیر خواہوں کے دل میں بھی اس خواہش نے انگڑائی لی ہے کہ کاش پنجاب میں بھی پیپلز پارٹی کو فتح حاصل ہو۔ ایسی فتح کا حصول خواہش سے نہیں کارکردگی دکھانے سے ملتی ہے۔ یہ بات پنجاب کی قیادت کو سمجھنی چاہیے۔
سنا تھا کہ سیاست بڑی بے رحم چیز ہے اور اس کے سینہ میں دل نہیں ہوتا جو کسی کے لیے پسیج جائے، آج اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھ لیا ہے۔ پاکستانی سیاست اور تاریخ میں اتحاد و اتفاق کا درخشاں ماضی رکھنے والے گجرات کے ”چودھری برادران“ سیاست کے بے رحم ہاتھوں ”وکھو وکھ“ ہو گئے ے لاہور کے ظہور پیلس میں دیواریں چن دی گئی ہیں حتی کہ خواتین بھی الگ ہو گئیں۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے 35 مستعفی ارکان قومی اسمبلی کے استعفی منظور کر کے تحریک انصاف کے اسمبلی واپس آنے کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
ملکی سیاست کی حالت تو دگرگوں ہے ہی لیکن معاشی صورتحال کے متعلق بھی کچھ اچھی خبریں نہیں آ رہیں۔ آئی ایم ایف نے قرض کی قسط کی ادائیگی آنے والے بجٹ تک موخر کردی ہے اور شرائط رکھی ہیں کہ معاہدہ پر پہلے عمل درآمد کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہمارے دوست ممالک چین، سعودی عرب اور دیگر کی جانب سے فوری مدد کرنے سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا ہے اور ہمیں واضح بتا دیا گیا ہے کہ پہلے ”اپنے گھر کی صفائی کریں“ سعودی عرب کے پیغام میں صاف کہا گیا ہے کہ ہم اپنے شہریوں سے ٹیکس وصول کرتے ہیں تو آپ بھی ٹیکس لگائیں۔ عالمی اداروں کے ساتھ چلیں۔
اس صورتحال میں حکومت آئی ایم ایف اور عالمی بنک کی شرائط پر عمل کرنے میں ہچکچا رہی ہے۔ شہباز شریف حکومت کو ”شیر بننا ہو گا کیونکہ ہچکچاہٹ کی بجائے فوری فیصلہ کرنا ہو گا اگر الیکشن میں ناکامی کے خوف سے آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانا چاہیے تاکہ ملک پر ڈیفالٹ ہونے سے بچانا چاہیے اگر حکومت ایسا کرنے کا ارادہ نہیں ر کھتی تو نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی تقلید کر کے اقتدار سے الگ ہو کر میدان چھوڑ دے۔


