ضمنی انتخابات پر قومی خزانے کا نقصان کب تک؟


اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کے چند روز بعد ہی پی ٹی آئی کے مزید 35 اراکین کے استعفے منظور کر لیے ہیں۔ اس تمام صورتحال کا نچوڑ نکالا جائے تو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ۔ معاشی مسائل میں ڈوبی ہوئی قوم کے قومی خزانے پر مزید بوجھ ڈالنے کا سلسلہ تمام ہی سیاسی جماعتوں کی جانب سے جاری ہے۔ پی ٹی آئی نے گزشتہ سال اپریل میں عمران خان کی برطرفی کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان سے اجتماعی استعفے دے دیے تھے، جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے صرف 11 ارکان کے استعفے منظور کیے تھے اور کہا تھا کہ باقی ارکان اسمبلی کو تصدیق کے لیے انفرادی طور پر طلب کیا جائے گا، ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق کسی بھی صوبائی حلقے میں انتخابات پر تقریباً پانچ سے سات کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں، ماضی میں بھی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے 9 حلقوں سے خود ضمنی الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔

قومی اسمبلی کی سات نشستوں پر عمران خان نے کامیابی بھی حاصل کی مگر کامیابی کے باوجود انہیں 6 حلقوں کو چھوڑ کر ایک کا انتخاب کرنا ہو گا کیونکہ وہ میانوالی کی نشست سے پہلے ہی رکن قومی اسمبلی ہیں۔ اس صورت میں اگر پھر ضمنی انتخابات ہوتے ہیں تو ایک مرتبہ پھر ان چند نشستوں کے الیکشن پر 50 سے 90 کروڑ روپے تک اخراجات آئیں گے۔ دوسری جانب اب تک مجموعی طور پی ٹی آئی کے 80 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے جا چکے ہیں۔

جبکہ پنجاب اور کے پی کے اسمبلیاں پہلے ہی تحلیل ہو چکی ہیں۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے دوبارہ انتخاب پر کم ازکم ساڑھے 22 ارب کا خرچ آئے گا۔ جبکہ 80 استعفے منظور ہونے کے بعد اگر خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوتے ہیں تو اس کا خرچہ 8 ارب روپے تک چلے جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ اگر ذکر کریں بلدیاتی انتخابات کا تو الیکشن کمیشن کے جانب سے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر 18 ارب کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

مگر اس کے باوجود اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ہو نہیں سکے۔ اور جہاں جہاں ہوئے وہاں دھاندلی اور بدنظمی ماضی کی طرح زور و شور سے جاری رہی۔ کراچی کے بلدیاتی انتخابات کو بھی تحریک انصاف کی جانب کالعدم قرار دینے کا کہہ دیا گیا تو حکومتی اتحادی ایم کیو ایم نے بھی بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت کے نام پر قوم کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے؟ قومی خزانے کا بے دریغ استعمال اور اس کے باوجود شفاف الیکشن کا نا ہونا۔ یہ سلسلہ آخر کب تک جاری رہے گا؟ مہنگائی کی چکی میں پستی عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے۔ مگر انتخابات پر قوم کا اربوں روپیہ بلا نتیجہ کیوں ضائع کیا جا رہا ہے؟ حکومت کی جانب سے اگر ضمنی انتخابات پر ہی پیسہ برباد کرنا ہے تو ایک ہی بار عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیوں نہیں کیا جا رہا ؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments