راﺅ انوار کی ’باعزت بریت‘ سے تحریک انصاف کی توہین آمیز واپسی تک


ملک بھر میں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے پھیلی تاریکی کے عالم میں آج دو اہم خبریں ملکی سیاست اور عوامی مزاج پر گہرا اثر مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایک طرف تحریک انصاف کے 45 ارکان قومی اسمبلی نے اپنے استعفے واپس لینے کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ اب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی پوزیشن حاصل کرسکیں۔ بدقسمتی سے یہ فیصلہ بہت تاخیر سے کیا گیا ہے اور ملکی سیاست پر منفی اثرات کے علاوہ تحریک انصاف کی کمزور حیثیت پر مہر تصدیق ثبت کرے گا۔

دوسرا اہم واقعہ میں کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پانچ سال قبل پولیس مقابلے میں مارے جانے والے نوجوان نقیب اللہ محسود کے قتل کے الزام میں سابق ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار اور اس جرم میں شریک دیگر سترہ پولیس اہلکاروں کو ’باعزت‘ بری کر دیا ہے۔ عدالت کے مختصر فیصلہ میں قرار دیا گیا ہے کہ استغاثہ ملزمان پر الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران استغاثہ کے متعدد گواہوں نے اپنے بیانات واپس لے لئے تھے۔ ملک بھر میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے لوگوں اور گروہوں نے اس افسوسناک عدالتی فیصلہ کو ناقابل یقین اور شرمناک قرار دیا ہے۔

ملک میں انسداد دہشت گردی کی عدالتیں دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث لوگوں کو جلد از جلد سزا دینے کے لئے قائم کی گئی تھیں۔ لیکن جب ایسے ہائی پروفائل کیس میں بھی کوئی عدالت نتیجہ تک پہنچنے کے لئے پانچ برس کا وقت صرف کرسکتی ہے توبلا خوف تردید یہ کہہ دینا چاہئے کہ ایسی عدالتیں اپنی افادیت اور اپنے قیام کا جواز کھو چکی ہیں۔ حکومت کے علاوہ مجاز ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو اس معاملہ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے تاکہ ملکی عدالتی نظام میں پولیس جرائم، ریاستی قانون شکنی اور شہریوں پر لاقانونیت نافذ کرنے کے موجودہ ہتھکنڈوں سے نجات کا کوئی موثر اور قابل عمل طریقہ اختیار کیا جا سکے۔

نقیب اللہ محسود ایک پر امن شہری تھا جسے ’دہشت گردی‘ کے شبہ میں اٹھا کر راﺅ انوار جیسی شہرت رکھنے والے پولیس افسر کی قیادت میں پولیس کی ایک ٹیم نے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا۔ اس قتل کے بعد ملک بھر میں عام طور سے اور پختون نوجوان آبادی میں خاص طور سے شدید رد عمل دیکھنے میں آیا تھا۔ اسی قتل کے بعد شروع ہونے والے احتجاج کے نتیجہ میں پشتون تحفظ موومنٹ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ منظور پشتین کی قیادت میں کام کرنے والے اس حقوق گروپ نے لاپتہ افراد کے بارے میں واضح موقف اختیار کیا اور قبائلی علاقوں میں شہریوں کی ہتک آمیز پڑتال کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس تحریک نے پولیس کے ہاتھوں نقیب اللہ محسود کے بہیمانہ قتل کا حوالہ دیتے ہوئے متعدد بار واضح کیا ہے کہ پشتون عوام اور نوجوان ملکی قوانین اور عدالتی نظام کو مانتے ہیں لیکن ماورائے عدالت قتل یا افراد کو لاپتہ کرنے کا طریقہ ختم ہونا چاہئے۔ اسی قسم کا مطالبہ متعدد بلوچ تنظیموں کی طرف سے بھی کیا جاتا رہا ہے۔

راﺅ انوار کے معاملہ کو اس لئے بھی قومی شہرت حاصل ہوئی تھی کیوں کہ پولیس میں ان کا کردار مثالی نہیں تھا اور اعلیٰ شخصیات سے تعلقات کی بنیاد پر وہ کسی کو بھی کسی نام نہاد پولیس مقابلہ میں قتل کردینے کی شہرت رکھتے تھے۔ مظلوم نقیب اللہ بھی اسی قسم کے جبر کا شکار ہوا تھا۔ اپنی زندگی میں مگن اور کام کرنے یا ماڈلنگ کا خواب پورا کرنے کی جد و جہد کرنے والے اس نوجوان کو ناکردہ گناہ کے جرم میں بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ اس معاملہ کو میڈیا میں اس قدر شہرت حاصل ہوئی تھی کہ اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس پر سوموٹو ایکشن بھی لیا لیکن حیرت انگیز طور پر راﺅ انوار کو ہمیشہ وی آئی پی کا رتبہ دیا گیا اور انہیں اس جرم میں ایک روز بھی پولیس ریمانڈ میں نہیں رہنا پڑا۔ اب ایک شفاف کیس کی پانچ سال تک سماعت کرنے کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں ’باعزت‘ بری کر کے خود اپنی عدالت کے علاوہ پورے نظام انصاف کی بھد اڑائی ہے۔

ملکی اسٹیبلشمنٹ نے پہلے دن سے پشتون تحفظ موومنٹ کے بارے میں معاندانہ رویہ اختیار کیا ہے حالانکہ اس تنظیم کے لیڈر پاکستانی ہونے پر فخر کرتے ہیں اور ملکی قوانین کو مانتے ہیں لیکن انہیں جابرانہ ریاستی ہتھکنڈوں کے ذریعے دبانے اور لاقانونیت پر اکسانے کا ہر حربہ آزمایا گیا ہے۔ اس میں سب سے نمایاں مثال پی ٹی ایم کے لیڈر علی وزیر کی گزشتہ دو سال سے گرفتاری کی صورت میں موجود ہے۔ انہیں دسمبر 2020 میں فوج کے خلاف توہین آمیز تقریر کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا لیکن سپریم کورٹ کی طرف سے ضمانت منظور ہونے کے باوجود سندھ پولیس نے کسی نہ کسی تکنیکی و قانونی عذر پر انہیں مسلسل قید میں رکھا ہوا ہے۔ نہ انہیں بطور رکن قومی اسمبلی پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جاتی ہے اور نہ ہی ان کا مقدمہ کسی عدالت میں پیش کرکے کوئی واضح فیصلہ لیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ملک میں تحریک انصاف کی حکومت کے بعد اب شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی جماعتوں کی حکومت قائم ہے لیکن یہ حکومت بھی علی وزیر کے حوالے سے بے دست و پا و معذور دکھائی دیتی ہے۔
یہ ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ علی وزیر پر جو الزامات عائد کئے گئے ہیں، تحریک انصاف کے متعدد لیڈر فوج کے بارے میں اس سے کہیں زیادہ تند و تیز گفتگو کرتے رہے ہیں۔ سینیٹر اعظم سواتی کے ہتک آمیز ٹوئٹ اور شہباز گل کی ٹی وی پر فوج کو بغاوت پر اکسانے والی گفتگو پر بھی مقدمے قائم ہوئے لیکن چند ہفتوں کے بعد ہی ان لیڈروں کو ضمانتوں پر رہا کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ بلوچستان ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل ججوں نے ان دونوں افراد کے خلاف مزید مقدمے قائم کرنے سے روکنے کا حکم دینے کے علاوہ انہیں متعدد قانونی رعایات بھی فراہم کیں۔ حیرت انگیز طور پر ہائی کورٹ کے کسی جج کو علی وزیر کے بارے میں ایسی نرم دلی دکھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور نہ یہی کوئی عدالت ابھی تک راﺅ انوار جیسی مجرمانہ ذہنیت کے حامل شاطر کی گرفت کرنے میں کامیاب ہے۔

زیریں عدالتیں عام طور سے استغاثہ کے موقف کے مطابق قتل جیسے الزام میں ملوث لوگوں کو سزا سنا دیتی ہیں جنہیں بعد میں اعلیٰ عدالتوں میں عدم ثبات کی وجہ سے کالعدم بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم راو انوار اور ان کے ساتھیوں کو تو بنیادی اے ٹی سی نے ہی باعزت بری کر دیا ہے۔ افسوسناک طور سے اس فیصلہ تک پہنچنے کے لئے پانچ برس کی طویل مدت صرف کی گئی تاکہ نقیب اللہ کی دردناک موت پر ابھرنے والے جذبات ٹھنڈے پڑ جائیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ اعلیٰ عدالت اس فیصلہ کو بدل سکتی ہے۔ لیکن جو اعلیٰ عدالتیں ایک ماتحت عدالت کو ایک معقول مدت میں فیصلہ سنانے اور راﺅ انوار کو شان سے اپنے ہی گھر پر نظر بند کرنے کی بجائے جیل بھیجنے پر مجبور نہیں کر سکیں، اب ان سے کسی ڈرامائی انصاف کی امید نہیں کی جا سکتی۔ ایسے مقدمات سال ہا سال تک عدالتی نظام میں تعطل کا شکار رہتے ہیں اور پھر عوام اور میڈیا کی دلچسپی ختم ہوجاتی ہے اور مجرم سہولت لے کر گھر چلے جاتے ہیں۔ لیکن نقیب اللہ کا قتل ایک ایسا سانحہ ہے جس میں ہونے والی ناانصافی ملک کے سماجی رویوں اور سیاسی سوچ پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ تاآنکہ ملک کی کوئی اعلیٰ عدالت معاملہ کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے راﺅ انوار کو نشان عبرت بنانے کا اقدام کر سکے۔
دوسری طرف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے براہ راست حکم پر پارٹی کے 45 ارکان قومی اسمبلی آج قومی اسمبلی، اسپیکر کے گھر اور پھر الیکشن کمیشن کے دفتر کے چکر لگاتے رہے، دھرنا دیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ اسپیکر ان کے استعفے واپس دے دیں کیوں کہ اب وہ مستعفی نہیں ہونا چاہتے بلکہ قومی اسمبلی میں جاکر اپنا پارلیمانی کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ عمران خان نے ایسے سیاسی ہتھکنڈوں کو چونکہ کھیلنے جیسی اصطلاح سے معنون کیا ہے ، اس لئے اسپیکر راجا پرویز اشرف آج سارا دن ان ارکان کے ’ہاتھ ‘ نہیں آئے۔ اس کے بعد یہ ’احتجاجی‘ ٹولہ الیکشن کمیشن پہنچا اور چیف الیکشن کمشنر سے درخواست کی کہ ہم مستعفی نہیں ہونا چاہتے، اسپیکر کہہ بھی دے تو بھی ہماری نشستوں کو خالی قرار نہ دیا جائے۔ قیاس تو یہی کہتا ہے کہ پرویز اشرف کو ان ارکان کی نئی درخواست ماننا ہی پڑے گی لیکن یہ بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ تحریک انصاف کی حکمت عملی میں یہ تبدیلی اس وقت دیکھنے میں آئی ہے جب اسپیکر قومی اسمبلی نے پنجاب اسمبلی ٹوٹنے کے بعد اچانک تحریک انصاف کے 70 ارکان کے استعفے قبول کر لئے تھے۔ اب حکومت کو گھٹنوں پر لانے کے لئے ملکی معیشت کو تباہ کرنے کا ہر ہتھکنڈا اختیار کرنے والے عمران خان کے ہاتھ پاﺅں پھولے ہوئے ہیں۔ انہیں شاید اب یہ بات سمجھ آنے لگی ہے جو ملک کا ہر تجزیہ نگار پہلے دن سے انہیں سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ سیاست میں متعلقہ رہنے کے لئے پارلیمانی نظام کا حصہ بنے رہنا ضروری ہے اور ضد اور انا کی بجائے مصالحت و مفاہمت کا راستہ تلاش کیا جائے۔

دونوں اسمبلیاں توڑ کر اور قومی اسمبلی میں نصف سے زائد ارکان کی نشستیں گنوانے کے بعد اب عمران خان قومی اسمبلی واپس جا کر شہباز شریف کے خلاف ’عدم ا عتماد‘ لانا چاہتے ہیں اور محسن نقوی کے وزیر اعلیٰ بننے پر ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ عمران خان نے حال ہی میں کہا تھا کہ نواز شریف کو سیاست نہیں آتی۔ تاہم اب انہیں خود سوچنا چاہئے کہ منفی سیاسی ہتھکنڈوں کا جو کھیل انہوں نے شروع کیا تھا، اس سے ملکی معیشت تو تباہی کے کنارے ضرور پہنچی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف کی سیاست بھی گور کنارے پہنچ چکی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2382 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments