حکم کا اکا


کون کہاں راستہ بدل جائے یہ تو ”اشارے“ بتاتے ہیں یا مفادات کے ”ستارے“ ۔ جس طرح موسم بدلتے ہی پرندوں کے ٹھکانے بدل جاتے ہیں اسی طرح مفادات بدلتے ہی سیاستدانوں کے آشیانے بھی بدل جاتے ہیں۔ مفادات کے لیے الزامات کا سہارا اور سہاروں کے لیے فقط ایک اشارہ کافی ہوتا ہے۔ حکومت بنانے اور بچانے کے لیے آزاد پنچھی بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں جن کی وفاداریاں ”حکم کے اکے“ کی منتظر ہوتی ہیں۔ ان کا کوئی وار خالی نہیں جاتا اور جن کے پاس چالیں چلنے اور بازی پلٹنے کے تمام پتے ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں۔ جو اقتدار کی راہ بھی ہموار کرتے ہیں۔

کئی مہینوں سے جاری سیاسی تماشے کبھی کوئی رخ اختیار کر رہے ہیں تو کبھی کوئی۔ سیاسی مخالف محض اپنے سیاسی مفادات اور مقتدر حلقوں کی خوشنودی کے لیے کوشاں ہیں کیونکہ ان کی خوشنودی ہی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔ لیکن جہاں ان کو لگے کہ بات نہیں بن رہی اور عوام میں بیچنے کو منجن چاہیے تو اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کا سہارا لے کر عوام میں آتے ہیں۔ کیونکہ دکھانے کو کارکردگی تو ہے نہیں۔ یہی نون لیگ نے کیا جو حکومت میں آنے کے سیاسی فیصلے کی قیمت چکا رہی ہے اور اس کے توڑ کے لیے جارحانہ بیانیہ تیار کرنے کی ٹھان لی ہے اور وہ بیانیہ ”اینٹی باجوہ“ ہے کیونکہ سیاسی میدان سے غائب پارٹی نے الیکشن بھی لڑنا ہے۔ بظاہر پنجاب بھی ان کے ہاتھ سے نکلتا نظر آ رہا ہے اور پارٹی بھی۔ یہ وہی جنرل باجوہ ہیں جن کے خلاف اقتدار سے باہر ہوتے ہی عمران خان نے بھرپور مہم چلائی اور شہباز شریف نے ان کو کہا کہ باجوہ صاحب اب ریٹائر ہو گئے ہیں ان کو آرام سے زندگی گزارنے دیں۔

انہی جنرل باجوہ کو لائن میں لگ کر نون لیگ نے ایکسٹینشن دی اور قانون سازی میں معاونت کی۔ اب انہی باجوہ صاحب کے خلاف نون لیگ خود میدان میں آ گئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ محاذ آرائی ان کے کام آئے گی یا اس بار بھی حکم کا اکا ہی کردار نبھائے گا۔ کیا نئے بیانیے کے ساتھ وہ پارٹی کو اس دلدل سے نکالنے میں کامیاب ہوں گے؟ یا سیاسی ناکامی ہی مقدر ہو گی؟

تبدیلی کی خواہشمند ایک جماعت امپائر کے نیوٹرل ہونے کی گواہی دیتی ہے تو دوسری جماعت الزام لگاتی ہے۔ اگر وہ نیوٹرل ہو جائیں تو بھی ہنگامہ اور نیوٹرل نہ رہیں تو بھی۔ اور اب بھی ان کی نیوٹریلیٹی پر ہنگامہ برپا ہے کل تک کے ”لاڈلے“ عمران خان کو آج لگتا ہے کہ ان کے نام پر کانٹا لگ چکا ہے اور ان کو سیاست سے مائنس کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے ون پوائنٹ ایجنڈا بھی بتا دیا کہ کس کس طرح ان کو ہرانے اور میدان سے باہر کرنے کی کوشش کی جائے گی اس لیے وہ ایک بار پھر سڑکوں پر آنے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔

اور ایک کے بعد ایک نئی مہم شروع کر رہے ہیں تاکہ کوئی امید کی کرن تو نظر آئے۔ وہ جانتے ہیں ’‘ رنگ کے بادشاہ“ کے پاس ہمیشہ ”بیک اپ“ پلان موجود ہوتا ہے، اور موجودہ حالات میں اتحادی حکومت کی مسلسل ناکامیوں نے ان کے لیے روشنی کی کرن کا کام کیا ہے اس لیے وہ اپنی گری ہوئی وکٹ کو سنبھالنے کے لیے تھرڈ امپائر کی حمایت کے انتظار میں ہیں جن سے تا حال کوئی ریلیشن شپ نہیں ہے۔

اقتدار کی چھینا جھپٹی اور الزامات کی سیاست ایک طرف اور بگڑتی معاشی صورتحال ایک طرف ہے جو سنبھالے نہیں سنبھل رہی۔ معاشی بھنور سے نکلنے کی بجائے اس دلدل میں مزید پھنستے چلے جا رہے ہیں، کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ حالات کو کس طرح مستحکم کیا جائے۔ حکومت میں آنے سے قبل نون لیگ وہ جماعت تھی جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ ملک کو دلدل سے نکال سکتی ہے لیکن اب یہ تاثر بہت تیزی سے زائل ہو رہا ہے اور عمران خان نے بھی بہت خوبصورتی سے خود کو اس معاشی بحران سے الگ کر لیا جیسے ان کے دور میں سب اچھا تھا اور اس سب کی ذمہ دار نون لیگ ہی ہے۔

اور اسی بیانیے کو لے کر وہ عوامی رابطہ مہم شروع کر رہے ہیں مہنگائی سے بے حال عوام میں اضطراب اور غصہ واضح ہے جس سے ان کو فائدہ پہنچنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ایک طرف مہنگائی کا عذاب اور دوسری طرف دوست ممالک کے ”خود بھی کچھ کرو“ کے ارشادات۔ جب گھر کے بھیدی لنکا ڈھائیں تو باہر والے فائدہ ہی اٹھائیں گے۔ ایسے میں تو وہ ”جادوگر“ ’بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں جن کی چھڑی گھومنے سے سب ٹھیک ہو جاتا تھا کہ اب کریں تو کیا۔ کوئی بھی اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے، سب ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ آنے والے جانے والے پر۔ اور جانے والے اپنے لانے والوں پر۔ اور عمران خان کے بقول تو اصل تباہی کے ذمہ دار ہی جنرل (ر) باجوہ ہیں۔

یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم کمزور وکٹ پر کھڑے ہیں اور اس کا فائدہ کوئی بھی اٹھا سکتا ہے کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔ ذاتی عناد اور مفاد ہر چیز پر حاوی ہے۔ تمام جماعتیں سیاست نہیں ریاست بچاؤ کے نعرے کی آڑ میں ”حکم کے اکے“ کی منتظر ہیں کہ کوئی اشارہ کریں تاکہ ہم آگے بڑھیں۔

ن لیگ کو سخت معاشی فیصلوں کے لیے حمایت درکار ہے تو پی ٹی آئی کو اقتدار میں آنے کی۔ تجربہ کار حکومتیں اور ملک کو تجربہ گاہ بنانے والے ان حالات سے نمٹنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔ اگر بروقت اور درست فیصلے نہ کیے تواصل ناکامی کس کی ہو گی؟ اور ذمہ دار کون ہو گا؟

حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ مسائل سے نمٹنے کے لیے ان کو اتنی ہی سپورٹ دی جائے جتنی عمران خان کو دی گئی تھی تاکہ ملک کا نظام آگے چلے اور عمران خان کی خواہش ہے کہ ان کو دو تہائی اکثریت سے اقتدار کی کرسی واپس دلائی جائے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت بچائی جائے گی یا نئی حکومت بنائی جائے گی، ڈوبتی معیشت کو سہارا دیا جائے گا یا ایک اور تجربہ کرنے کا ”اشارہ“ ۔ ذاتی عناد آڑے آئیں گے یا ملکی مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔

Latest posts by ثنا ارشد (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments