اقتداری جال اور ماہر شکاری

سیاست کی الجھتی گتھیاں ایسی ہیں کہ سلجھائے بھی نہ سلجھیں کیونکہ اس کے پیچھے خاص مقاصد ہوتے ہیں، جب تک ان کے حصول کا کوئی سبب نہ بنے، گتھیوں کو مزید الجھائے رکھنے میں ہی عافیت جانی جاتی ہے۔ تاکہ جن مفادات کے لیے کام ہو رہا ہے ان کو انجام دیا جا سکے۔ مفادات کے حصول کے لیے جب کوئی صورت نہ بن پڑے تو شکاری بڑی خوبصورتی سے ایسا جال بچھاتا ہے کہ اس کا شکار خود

Read more

مفادات کی کوکھ میں سیاسی آنکھ مچولی

سیاستدانوں اور مقتدرہ کی آنکھ مچولی کے کھیلے جانے والے کھیل کی اتنی دلچسپ صورتحال کبھی سامنے نہیں آئی جتنی اب عملی طور پر ہمارے سامنے ہے۔ پہلے جو کچھ پس پردہ ہوتا تھا اب سامنے ہوتا ہے۔ کبھی سیاستدانوں کی اسٹیبلشمنٹ سے جنگ تو کہیں عدلیہ کی عدلیہ سے ہی محاذ آرائی۔ ایک ”تھپڑ“ کی گونج ”کم نہ ہوئی تھی کہ دوسرے“ تھپڑ ”کا شور آنے لگا۔ اقتدار کی اس لڑائی میں کوئی کرسی سے جاتا ہے تو کوئی

Read more

بڑی اسکرین کے چھوٹے کردار

جانے نہ جانے گل ہی نہ باغ تو سارا جانے ہے۔ یہی حال ہمارے معصوم سیاستدانوں کا ہے جن کو معلوم ہی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا اور کیا ہو رہا ہے؟ وہ اتنے سیدھے ہیں کہ خواہش کے مطابق ان کو اقتدار کی مستند پر بٹھا دیا جاتا ہے اور سب جانتے ہیں کہ ان کو اس تخت پر لانے اور بٹھانے کا مقصد کیا ہے۔ نہیں جانتا تو صرف وہ ایک شخص نہیں جانتا جو حاکم

Read more

سیاسی ریاست

پہلے کہانیاں پھر الزام لگتے ہیں اور بعد میں اصل کردار سامنے آتے ہیں، وہ بھی اپنے ”فیصلوں“ کے ساتھ۔ اور فیصلے بھی وہ جو بولتے ہیں پھر چاہے وہ فیصلہ کسی کو حکومت میں لانے کا ہو یا کسی کو سیاست سے نکال باہر کرنے کا، معاملہ کسی کی نا اہلیت کا ہو یا کسی کو تحفظ فراہم کرنے کا۔ عوام میں جانے اور خود کو عوام میں زندہ رکھنے کے لیے یہ کہانیاں، ان کے کردار اور فیصلے

Read more

”مشن اقتدار“ اور خون کی ہولی

الزامات، تصادم، خون اور لاشیں۔ یہی سب تو چاہیے ہوتا ہے سیاست کے لیے۔ کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، بالکل درست کہا جاتا ہے کیونکہ سیاست میں تو ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا بہانہ چاہیے اور اس کے لیے کسی موقع کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن سب سے منفی رجحان لاشوں پر سیاست کا ہے۔ زندگی قیمتی ہے لیکن یہ زندگی سیاستدانوں کے لیے فقط اقتدار تک پہنچنے کی سیڑھی ہوتی ہے۔ موت کو بھی

Read more

چھڑی کی طاقت

بندر اور مداری کا پرانا کھیل اب بھی جاری ہے۔ اس کھیل میں دلچسپ چیز وہ ”چھڑی“ ہے جو مداری کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور اصل طاقت مداری کی نہیں، بلکہ اس چھڑی کی ہوتی ہے جو بندر کو نچواتی ہے۔ اس کا کمال ایسی ایسی قلا بازیاں دکھاتا ہے کہ تماش بین بھی داد دیے بغیر نہیں رہتے۔ بندر میں انا بھی بہت ہے اور اسے جھکنا بھی خوب آتا ہے۔ اگر وہ آنکھیں ماتھے پر رکھنے لگے

Read more

سیاست کے ”مفاداتی“ رنگ

رنگ بدلنے کے لیے تو گرگٹ مشہور تھا لیکن اب یہ الفاظ گرگٹ سے زیادہ انسانوں سے منسوب ہو گئے ہیں جو کہ درست بھی لگتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر انسان بدلتے رنگوں کا مجموعہ ہے اور موقع دیکھتے ہی وہ رنگ بدلے گا اور وار شروع کر دے گا۔ سیاستدان بھی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں۔ اپنے اپنے مفادات کی خاطر ایسے ایسے رنگوں میں ڈھل جاتے ہیں کہ دیکھنے والے بھی دنگ رہ جاتے ہیں۔

Read more

خواہشات کی آنکھ مچولی

ایک طرف حسرتوں کا شمار اور بے رحم خواہشوں کا عذاب ہے تو دوسری طرف دو دھاری تلوار۔ یہ وہ تلوار ہے جس پر توازن رکھنا بہت مشکل ہے، توازن بگڑے تو لالے پڑ جاتے ہیں۔ خواہشات کی تکمیل کے لیے کھیلی جانے والی آنکھ مچولی میں کئی زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں۔ دہشتگردوں کی مضبوط ہوتی گرفت اور سیکیورٹی کا کمزور حصار انہی خواہشات کا نتیجہ ہے۔ خواہشوں کے بوجھ نے ملک کا تماشا بنا دیا ہے اور

Read more

چالیں الٹی پڑ گئیں؟

ستاروں کے حال اور وقت کی چال کے ساتھ ”چالیں“ چلنے والوں کے ساتھ بھی کبھی کبھی ایسی چال چل جاتی ہے جو گمان سے باہر ہوتی ہے اور وقت ایسی قلا بازی دکھاتا ہے کہ کئی چہرے بے نقاب اور کئی راز فاش ہو جاتے ہیں۔ چالیں چلنے کے لیے وقت کا درست انتخاب بہت ضروری ہوتا ہے۔ غلط وقت پر درست چال چلنا فائدہ نہیں نقصان ہی دیتا ہے۔ ایسی ہی ایک چال عمران خان کے گلے پڑی

Read more

حکم کا اکا

کون کہاں راستہ بدل جائے یہ تو ”اشارے“ بتاتے ہیں یا مفادات کے ”ستارے“ ۔ جس طرح موسم بدلتے ہی پرندوں کے ٹھکانے بدل جاتے ہیں اسی طرح مفادات بدلتے ہی سیاستدانوں کے آشیانے بھی بدل جاتے ہیں۔ مفادات کے لیے الزامات کا سہارا اور سہاروں کے لیے فقط ایک اشارہ کافی ہوتا ہے۔ حکومت بنانے اور بچانے کے لیے آزاد پنچھی بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں جن کی وفاداریاں ”حکم کے اکے“ کی منتظر ہوتی ہیں۔ ان کا

Read more