”نظریہ قومیت:عالمی و مقامی تناظر“ :تعارفی مطالعہ


ڈاکٹر غلام اصغر خان اس وقت دی اسلامیہ یونیورسٹی، بہاول پور میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں جنھوں نے ”علامہ اقبال نظریہ قومیت و وطنیت“ کے عنوان سے مقالہ تحریر کر کے 2018 ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اسی مقالے کے ابتدائی باب میں ضروری ترامیم و اضافے کے بعد انھوں نے اسے کتابی شکل دی تاکہ ہر خاص و عام، ان کی محنت اور تحقیقی کاوش سے مستفید ہو سکے۔ اس اہم کام کو عکس پبلی کیشنز، لاہور نے 2022 ء میں اشاعت کے مرحلے سے گزارا۔ علمی و ادبی حلقوں میں اس تحقیقی کاوش نے ان کے علمی قد کاٹھ میں نہ صرف اضافہ کیا بلکہ انھیں اعتبار اور وقار بھی بخشا۔

مذکورہ کتاب نو ابواب پر مشتمل ہے، ہر باب کو مصنف نے منظر سے موسوم کیا ہے۔ جس میں پہلا منظر ”قوم اور قومیت“ کا عنوان لیے ہوئے ہے۔ اس باب میں انھوں نے قوم اور قومیت کی حدود متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے خیال میں ”کسی ایک مقصد یا ایک سے زیادہ مقاصد کے حصول کے لیے کمر بستہ/یک جا ہونے والے ایک جگہ یا نسل کے افراد ایک قوم کہلاتے ہیں۔“ جب کہ ”قومیت وہ ذہنی رویہ (نفسیاتی ساخت) ہے جو افراد (کی کسی ایک جماعت یا جماعتوں ) کو کسی ایک مقصد کے تحت مربوط و متحد قوم بنا کراس کے قومی کردار کا ایسا تعین کرے اور ایسا تشخص ابھارے جو اسے دوسری قوم/اقوام سے ممیز و ممتاز کرے اور اس امتیاز کے بعد علیحدہ شناخت قوم کو حق حکمرانی کے احساس کی طرف لے جائے۔“ مصنف نے قوم کو جسم سے اور قومیت کو روح سے مماثلت دے کر قاری پر تصور کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان تعریفوں کے تعین میں انھوں نے متعدد مصنفین کی کتب، لغات اور انسائیکلوپیڈیا کے حوالے بھی دیے ہیں جس سے ان کی علمی وسعت، تحقیقی لگن اور محنت کا ثبوت ملتا ہے۔

دوسرا منظر ”قومیت کے خصائص و علائم“ کے عنوان سے رقم کیا گیا ہے جس میں انھوں نے واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ قوم کو دنیا کی برادری میں داخل ہونے کے لیے دو پہلوؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک قوم کی خصوصیات ہوتی ہیں جب کہ دوسرا پہلو قوم کی علامات یا آثار ہوتے ہیں۔ قوم کی خصوصیات اس کے اندرونی دائرے کے لیے لازمی ہیں اور دائرے سے باہر دوسری اقوام کے لیے شناخت، علامات و آثار سے ہوتی ہے۔ مصنف نے قوم کی خصوصیات کے لیے قوم کا نام، امتیازی شناخت، تاریخی روایت، ایک قوم ہونا، اخلاقی و قانونی ضابطہ، مشترکہ مفادات، اجتماعی احساس، مرکز کا اثبات، متعین علاقہ اور قوم کے عمومی تاثر کو لازمی خیال کیا ہے۔

جب کہ علامات یا آثار میں قومی پرچم، قومی ترانہ، قومی دن، قومی زبان، قومی لباس، قومی تاریخ، قومی نصاب، قومی کھیل، قومی کرنسی، قومی دریا، قومی عمارات، فنون لطیفہ، قومی جانور اور ذرائع ابلاغ وغیرہ کو ضروری خیال کیا ہے۔ تیسرا منظر ”قومیت کے نامیاتی اجزا“ کے عنوان سے قلم بند کیا گیا ہے۔ اس باب میں مختلف ماہرین کے نظریات کو بیان کرنے کے بعد عصبیت کو قومیت کی تشکیل میں لازمی جز خیال کیا گیا ہے۔ عصبیت کو واضح کرتے ہوئے مصنف تحریر کرتے ہیں کہ ”عصبیت کسی دائرے کے اندر موجود مرکز مائل قوت کا نام ہے جب کہ تعصب دو دائروں کے بیچ کارفرما گریز کی قوت کو کہتے ہیں۔

یہ دو نوں اصطلاحیں بنیادی طور پر ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ یہ اضدادی جوڑا قومیت کی تشکیل کے لیے لازمی عنصر بھی ہے۔“ عصبیت ہی ایک ایسی شے ہے جو کسی گروہ کو قوم بناتی ہے۔ قومیت کے تصور کو واضح کرنے کے لیے مصنف نے متعدد عصبیتوں کا ذکر کیا ہے۔ جن میں نسلی عصبیت، لسانی عصبیت، تمدنی عصبیت، مذہبی عصبیت، مرز بومی عصبیت، جغرافیائی عصبیت، معاشی عصبیت اور نفسیاتی عصبیت خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ کتاب کا منظر چہارم ”تحریک قومیت کا آغاز و ارتقاء“ کا عنوان لیے ہوئے ہے جس میں قومیت کی ابتدا کا پتا چلا نے کی کوشش کی گئی ہے۔

جب انسان نے گروہ یا جتھے کی صورت میں جیون بسر کرنا شروع کیا تو انسان میں عصبیت کے جذبے نے پروان چڑھنا شروع کر دیا تھا لیکن اس کی باقاعدہ تبلیغ و ترویج اٹھارہویں صدی میں اس وقت ہوئی جب فرانسوی ادیبوں نے اسے ان لوگوں کے لیے استعمال کرنا شروع کیا جو ذات اور قبیلے کے فرق کے بغیر بادشاہوں سے مختلف ہوتے تھے۔ 1789 ء کے بعد قومیت ان تمام لوگوں کا نعرہ بنی جو عوام کے اختیار کے لیے بر سر پیکار تھے۔ قومیت جن معنوں میں آج مستعمل ہے اس کا آغاز پندرہویں صدی میں ہوا جب انگلستان اور فرانس میں جنگ ہوئی۔ اس جنگ کے نتیجے میں دونوں ملکوں میں قومی زبان اور ثقافت کی وجہ سے قومی جذبات نے پرورش پائی۔ مصنف نے تحریک قومیت کے ارتقا کو علمی و سماجی سطح پر چار مراحل میں تقسیم کیا ہے۔

پہلا مرحلہ :اٹھارہویں صدی کا آخر اور انیسویں صدی کا آغاز ہے جب قوم پرستی پہلی بار سامنے آئی۔ اس عہد میں قومیت کی بنیادیں فلسفیانہ نظریات پر استوار ہوئیں۔

دوسرا مرحلہ :پہلی عالمی جنگ سے لے کر دوسری عالمی جنگ کے خاتمے تک کا ہے جب قومیت باقاعدہ علمی مباحث کا حصہ بنی۔

تیسرا مرحلہ: 1945 ء سے لے کر 1980 ء کی دہائی کے آخر تک جب کئی ماہرین سماجیات نے تمام دنیا میں مابعد نوآبادیاتی مسائل کو دیکھا۔

چوتھا مرحلہ: 1989 ء میں کمیونزم کے زوال کے بعد کا ہے جس کے باعث قوم، قومیت یا قوم پرستی کے بننے، بگڑنے، زوال پذیر ہونے اور ترقی پانے کے نئے پہلو سامنے آئے۔

کتاب کا پانچواں منظر ”قومیت کے فوائد“ کے نام سے تحریر کیا گیا ہے۔ اس باب میں بتایا گیا ہے کہ قومیت کے تصور کو جمہوریت کی ترویج، حق خود ارادیت کے تحفظ، قوم کے اتحاد و یگانگت، اجتماعی سوچ کے فروغ، مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ترقی، تعلیمی و ثقافتی ترقی اور بد عنوانی سے احتراز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یوں قومیت کا جذبہ انسانی زندگی میں مثبت رنگ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ کتاب کا چھٹا منظر ”قومیت کے نقصانات“ کو زیر بحث لاتا ہے۔

قومیت کے جہاں فوائد ہیں وہیں اس کی منفی صورت کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ قومیت کاجذبہ جب حد سے زیادہ بڑھ جائے تو نفرت، تعصب اور جنگ کو ہوا دیتا ہے۔ اب تک تقریباً تمام جنگیں ملی تشخص یا دو قومی نظریات کی بنیاد پر لڑی گئی ہیں۔ یہ انسان کو خبط عظمت میں مبتلا کر کے دیگر اقوام کے نظریات، رسوم و اقدار اور انداز زیست کو رد کرنے کی سطح پر لے آتا ہے۔ یہ سماجی و معاشرتی اقدار کی تباہی کے ساتھ ساتھ اخلاقیات و الہیات کی نفی کرتا بھی دکھائی دیتا ہے۔

حالاں کہ انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان سے بڑھ کر کسی اور چیز کو مقدس خیال نہ کیا جائے۔ ساتواں منظر ”قومیت کی اقسام“ کے عنوان سے تحریر کیا گیا ہے۔ یہ باب کتاب میں موجود تمام ابواب سے زیادہ طویل ہے جس میں ایک درجن سے زیادہ قومیت کی اقسام زیر بحث لائی گئی ہیں۔ ان اقسام کی ذیلی اقسام کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے مذکورہ باب کے آغاز میں خود ہی اعتراف کیا ہے کہ ان میں سے بعض اقسام ایسی ہیں جن میں قومیت کو تقسیم کرنا غلط ہو گا لیکن یہ اقسام اس لیے بیان کی جا رہی ہیں کہ ان میں کسی نہ کسی طرح کی ثقافت کا اشتراک ملتا ہے۔

ان نظریات میں جو چیزیں مذکور ہیں یہ صرف قوم سازی کے لیے ہی نہیں بلکہ ”لاقومیت“ کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔ کیوں کہ دنیا میں کوئی شے حتمی نہیں ہے۔ Rogers Brubakerنے اس حوالے سے خود کہا ہے کہ دنیا میں ہر امر Predictable، ہر باتKnowable، اور ہر نظریہ changeable ہوتا ہے۔ قومیں بھی اسی کائناتی تسلسل کا حصہ ہیں جو وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ تعمیر اور تخریب کے عمل سے گزرتی رہتی ہیں۔ اس باب میں قومیت کی نامیاتی عناصر کی موجودگی میں تقسیم کی جائے تو اس کی کئی اقسام سامنے آتی ہیں جن کا ذکر واضح انداز میں کیا گیا ہے۔

(یہ کون کون سی ہیں اس کی تفصیل سے آگاہ ہونے کے لئے کتاب کا مطالعہ لازمی ہے، قومیتوں کی اقسام اور ان کی ذیلی اقسام کے محض نام بھی درج کیے جائیں تو تعارف طویل ہو جائے گا اس لیے اس سے گریز کیا گیا ہے۔ ) کتاب کا منظر ہشتم ”اسلام کا نظریہ قومیت و وطنیت“ زیر بحث لایا گیا ہے۔ اسلام کے نظریہ قومیت و وطنیت کے حوالے سے مفکرین کے دو گروہ موجود ہیں ایک قائلین اور دوسرا غیر قائلین کا گروہ ہے۔ قائلین میں مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد، ضیاگوکلپ، مصطفیٰ کمال اتا ترک اور جمال عبدالناصر کے نام شامل ہیں جب کہ غیر قائلین میں جمال الدین افغانی، علامہ اقبال، سید قطب شہید اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کے نام شامل ہیں۔

مصنف نے دونوں گروہوں کے مفکرین کے خیالات پیش کرنے کے بجائے براہ راست اسلامی الٰہیات سے رجوع کیا ہے جس کی رو سے تمام دنیا کے انسان اگر خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اسلام کی رسالت پر یقین رکھتے ہوں تو وہ ایک ملت یا امت شمار ہوں گے۔ نسل انسانی کو ایک وحدت میں رکھنا اسلام کا مقصود ہے۔ کتاب کا نواں منظر ”بر صغیر میں نظریہ قومیت کا ارتقا اور پس منظر“ کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے جس میں ہندوستان میں قومیت کے تصور کے آغاز کا کھوج لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔

مصنف کا خیال ہے کہ برصغیر میں ویسے تو قومیتوں کے کئی رنگ ہیں لیکن سیاسی نظریہ قومیت ”دوقومی نظریہ ہے جس کی ابتدا کے حوالے سے مصنف نے K۔ M۔ Panikkarکا قول نقل کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسلام کی آمد کے بعد برصغیر کے ہر شہر، ہر قصبہ، ہر قریہ میں تقسیم کی ایک دراڑ آ گئی۔ اس کے بعد برصغیر دو قوموں میں تقسیم ہو گیا لیکن بعد میں کچھ حکمرانوں نے اس خلیج کو کم کرنے کی کوشش کی جیسے قلی قطب شاہ نے مقامی لباس کو اپنانے کے ساتھ ساتھ ہندوؤں کے تہواروں کو سر کاری سطح پر منانے کا اعلان کیا۔

اس کے بعد اکبر نے دین الٰہی کے ذریعے عوام میں اشتراک پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اورنگ زیب کے عہد حکومت میں مسلم اور غیر مسلم میں ایک بار پھر فرق نمایاں ہو گیا۔ انگریزوں کی آمد کے بعد حکمرانوں نے Divide and Rule Policy کو اپنایا اور بیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے لسانی اور مذہبی تقسیم کی بنیاد پر “ دو قومی نظریے ”نے اپنی جڑیں مضبوط کر لیں۔ یہی وہ نظریہ ہے جو تقسیم ہندوستان کا باعث بنا۔

”نظریہ قومیت:عالمی و مقامی تناظر میں“ قومیت کو معرض تفہیم میں لانے کے لیے اہم کتاب ہے جس میں غلام اصغر خان کی محنت، لگن اور تحقیقی کاوش واضح دکھائی دیتی ہے۔ قومیت کی حدود متعین کرنے سے لے کر قومیت کے فوائد و نقصانات اور اس کی اقسام کے بیان تک ہر جگہ خیالات کے تسلسل کو برقرار رکھا گیا ہے۔ کہیں بھی عبارت بے ربط اور خیالات میں انتشار کا احساس نہیں ہوتا جوان کے مذکورہ موضوع پر مضبوط گرفت کی دلیل ہے۔

Facebook Comments HS