تیس سال


سنہ 1993 سے 2023 صرف تیس سال کا سفر ہے۔ 1993 میں ہمارے خاندان کا پہلا شخص نیشنل کالج آف آرٹس لاہور سے تھیسز دے کر نکلا تھا اور آج ٹھیک تیس سال بعد ہمارے خاندان کا دوسرا شخص تھیسز دے رہا ہے اور آج اس کی جیوری ہے۔ الحمدللہ آج میں اور میری بیٹی علیزے اظہر نیشنل کاج آف آرٹس کے طالب علم کی حیثیت سے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

مجھے میرے والد کی بہت مدد حاصل تھی شاید میں اپنی بیٹی کی ویسے مدد نہیں کر سکا۔ مجھے بہت کچھ پتہ تھا پر اپنی بیٹی کو نہیں بتا سکا۔ اور میرے والد محترم کو تو میرے کالج کا نام بھی نہیں آتا تھا ہمیشہ آرٹس کونسل لاہور ہی کہہ کر پکارتے تھے پر انھوں نے جیسے مجھے سپورٹ کیا ویسے میں اپنی اولاد کو نہیں کر سکا۔ میاں محمد حفیظ احمد جیسا بننا میرے بس سے باہر تھا اور آج بھی ہے۔ نقل کی مکمل کوشش کرتا ہوں پر یقیناً نقل کے لئے عقل کی ضرورت ہوتی ہے جو میرے پاس سے بھی نہیں گزری۔ میں آج الحمدللہ بہت خوش ہوں کہ میری بیٹی آج نیشنل کاج آف آرٹس کے شعبہ فائن آرٹس کے فائنل امتحان میں کھڑی ہے۔

کل بروز ہفتہ شام ساڑھے پانچ بجے اس کا فائن آرٹس پینٹنگ کا کام عوام کے دیکھنے کے لئے کھول دیا جائے گا۔ اور دیکھنے والوں میں ایک شخص نم آنکھوں کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ دھندلی آنکھوں سے جتنا ممکن ہو گا اس کے کام کو دیکھوں گا۔

غلام حبیب بھائی کا بہت شکریہ جنہوں نے اس کام کو ڈسپلے کرنے میں بے انتہا اور بے لوث مدد کی، تایا محمد طارق حفیظ نے سارے کینوس اپنے ہاتھ سے دعاؤں کے ساتھ سٹیج کیے ، علیزے کی ماں جو اس سارے سفر میں ساتھ ساتھ رہی اور اس کو آرٹسٹ بنانے کے عمل میں سارے کام کو خود بھی سمجھ گئی۔

میرے پیارے چھوٹے بھائی عقیل سولنگی نے اس سفر کو عملی جامہ پہنانے میں بنیادی تربیت سے لے کر تھیسز تک بہت راہنمائی کی۔ اللہ تعالی جزائے خیر عطا فرمائے آمین۔

میری والدہ کہتیں تھیں ایک نسل کے لئے ایک بچہ ہی نیشنل کالج آف آرٹس کا تربیت یافتہ ہونا کافی ہے۔ الحمدللہ میری بڑی بیٹی کے ساتھ ساتھ سب سے چھوٹی بیٹی عبیرہ اظہر بھی اسی ادارے سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے مکمل تیار ہے۔

ایک دن علیزے کہنے لگی کہ شاید راولپنڈی سے نیشنل کالج آف آرٹس بند ہو جائے اس وقت عبیرہ کلاس 4 کی طالبہ تھی۔ مجھے مل کر رونے لگی میں نے کہا میری بیٹی کیا بات ہے۔ کہتی ہے بابا آپ سے دور جاکر میرے لیے پڑھنا مشکل ہو گا۔ میں کیسے اکیلی رہوں گی۔ پر بیٹے کہاں اکیلی۔ جی لاہور نیشنل کالج آف آرٹس۔ میری جان راولپنڈی سے پڑھ لینا بابا جی وہ بند ہو رہا ہے۔ میں ہنس دیا پگلی وہ کیوں بند ہو گا یہ سب افواہوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

الحمدللہ اب نیشنل کالج آف آرٹس مختلف صوبوں میں بھی کھلنے جا رہا ہے۔ اس میں ہر ماں باپ کی عبیرہ آسانی سے داخلہ لے سکی گی۔

جب ہم نیشنل کالج آف آرٹس کے داخلے کے خواہش مند تھے تو مرتضی جعفری صاحب آرٹس اکیڈمی چلاتے تھے اور آج ڈاکٹر مرتضی جعفری صاحب ہی نیشنل کالج آف آرٹس کے پرنسپل ہیں۔

وسیم احمد بھائی میرے تھیسز کا ڈسپلے دیکھنے آئے تھے اور کل تیس سال بعد وہ راولپنڈی میری بیٹی کا تھیسز دیکھے لاہور سے آرہے ہیں۔

میں اپنے والد کے جگر کا ٹکڑا تھا اور آج اپنی بیٹی کے جگر کا ٹکڑا ہوں۔

اسی ٹاپک پر میری بیٹی کا تھیسز ہے جگر کے ٹرانسپلانٹ کو ہی اس نے بطور ٹاپک چنا ہے، یاد رہے وہ میرے جگر ٹرانسپلانٹ کی ڈونر بھی ہے، اس سلسلے میں باجی رضوانہ عرفان نے بہت مدد کی شکریہ۔

تمام اساتذہ کا شکریہ جنہوں نے میرے ساتھ ساتھ میری بیٹی کو بھی پڑھایا۔ خصوصی شکریہ زاہد الحق صاحب، اعظم جمال صاحب، میڈم نادیہ بتول صاحب اور وہ سب نام جو اس عمل میں شامل رہے۔

سعدیہ اظہر کا بھی دل کی گہرائیوں سے شکریہ جو ہمیشہ ہم پانچ آڑٹسٹوں میں اور میری چار بیٹیوں کو برداشت کرتی ہے اور سپورٹ کرتی ہے۔

سب طلبا کے لئے ڈھیروں دعائیں۔ خصوصی طور پر ثمین قمر بیٹی، ثمن درانی بیٹی، روھا بیٹی، روھما بیٹی، سمعیہ بیٹی، سارہ بیٹی اور علیزے کی ساری کلاس فیلوز اور دوستوں کے لئے دل کی گہرائیوں سے دعائیں۔ اللہ تعالیٰ دین و دنیا میں کامیابی سے ہمکنار کریں آمین۔ دعاؤں کی خصوصی درخواست ہے۔ جزاک اللہ خیر

Facebook Comments HS