انواع و اقسام کے بریک ڈاؤن اور پاکستان


نئے سال کے چوتھے ہفتے کا پہلا دن ہی لگا تھا کہ ایک بڑے پاور بریک ڈاؤن نے پورے پاکستان بلکہ پورے پاکستانیوں کا بریک ڈاؤن کر دیا۔ اس بریک ڈاؤن نے پاکستان بھر کے نظام زندگی کو ڈاؤن کر دیا۔ سب چیزیں رک گئی تھی سوائے کوسنے کے، تمام پاکستانی اپنے اپنے علاقوں قلب کی گہرائی سے حکومت وقت کو کوس رہے تھے۔ کم و بیش 24 گھنٹے بعد بجلی کی واپسی ہوئی مگر عوام کی زبان کی بجلی کے جھٹکے جاری رہیں۔ اس بریک ڈاؤن نے موبائل نیٹ ورک کے سگنل، پمپنگ نہ ہونے کی وجہ سے پانی اور تو اور بہت سارے سلسلوں کو بریک ڈاؤن کر دیا۔

ہمارے ملک میں بریک ڈاؤن کا سلسلہ نیا نہیں، یہ تو بہت پرانا ہے۔ البتہ پاور سیکٹر میں کبھی کبھی ہوتا ہے مگر قانونی، آئینی، سیاسی اور نہ جانے کون کون سے شعبوں میں بریک ڈاؤن کا سلسلہ 75 سال سے جاری ہے۔ مجھے لگتا ہے سب سے بڑا مسئلہ جس بریک ڈاؤن کا ہے وہ آئینی بریک ڈاؤن ہے، جو سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ویسے تو ملک میں چھوٹے چھوٹے آئینی بریک ڈاؤن کا سلسلہ تو ہمہ وقت جاری رہتا ہے مگر تین چار بڑے بریک ڈاؤن ایسے بھی ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں اب تک پوری طرح روشنی بحال ہوئی۔

ویسے ماضی کے بڑے بڑے آئینی بریک ڈاؤن اپنی جگہ مگر کچھ ایسے بریک ڈاؤن ہوئے جس نے بظاہر آئینی روشنی تو بحال رکھی لیکن وہ روشنی غیر آئینی جنریٹر کی طرف سے فراہم کی جا رہی تھی۔ زیادہ پرانی بات نہیں چند مہینوں پرانی بات ہے اور ابھی بھی ذہنوں میں موجود ہوگی کہ کس طرح خاموشی سے آئینی بریک ڈاؤن جاری رہا۔ لیکن جو روشنی تھی وہ لوگوں کے نزدیک اتنی کمال تھی کہ انھیں غیر آئینی جنریٹر کا دھواں محسوس ہوتا نظر ہی نہیں آیا، بہرحال ابھی بھی بہت سارے معاملات میں آئینی بریک ڈاؤن جاری ہے مگر کوئی بولنے والا نہیں، کیونکہ اکثر بڑوں کے فائدے آئینی بریک ڈاؤن میں پنہاں ہے۔

آئینی بریک ڈاؤن کے ساتھ ایک اور بریک ڈاؤن ہے جو طویل عرصے سے جاری ہے وہ ہے معاشی بریک ڈاؤن، جس کا سیدھا سا تعلق ہے سیاسی استحکام سے، مگر عجب ہی حالات ہیں، ملک میں سیاسی بریک ڈاؤن بھی کافی عرصے سے جاری ہے۔ جس کی وجہ سے معاشی استحکام بھی آ نہیں پا رہا اور اس بریک ڈاؤن کی وجہ سے عام پاکستان کے معاشی حالات بھی بہت ڈاؤن ہے۔ سب ڈاؤن چل رہا ہے، کاروبار کو بھی بریک لگ گیا ہے اور وہ بھی ڈاؤن ہو رہا ہے، پیسے کی قدر بھی ڈاؤن ہو رہی ہے مگر ایک چیز سب نہ بریک ہو رہی ہے اور نہ ڈاؤن اور وہ ہے حکمرانوں کی ڈھٹائی۔

اس ملک کو بنے 75 سال سے زیادہ ہو گئے، مگر اب تک زیادہ تر معاملات میں ڈاؤن ہی چل رہا ہے مگر ہم ان معاملات کو سمجھ ہی نہیں پا رہے۔ ہمارا ذہنی معیار بھی اس قدر ڈاؤن ہے کہ ہم فیصلہ ہی نہیں کر پا رہے کہ ہمیں آخر کرنا کیا ہے؟ کوئی ڈائریکشن نہیں، کوئی پلاننگ نہیں، صرف دماغ ہے تو یہ کہ سیاست میں چال کیا چلنی ہے اور حکومت میں آنا کیسے ہے یا پھر حکومت کو ٹف ٹائم کیسے دینا ہے؟

معاشی، سیاسی کے ساتھ ساتھ ہم اخلاقی طور پر بھی کافی ڈاؤن ہو چکیں ہیں، ہمارے اخلاقی قدروں کو بھی بریک لگ چکا ہے۔ لیکن ابھی تک ہمیں یہ احساس ہی نہیں ہوا ہے اور ہم شاید اس چیز سے نکلنا بھی نہیں چاہتے۔ وقت گزرتا جا رہا ہے اور ہم بحیثیت قوم اور بحیثیت انفرادی ڈاؤن ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن ہم نے اپنے آپ سے وعدہ کر لیا ہے کہ غلطیوں سے نہیں سیکھنا اور بس۔ دعا ہے اور خواہش بھی کے ڈاؤن ہونے کے اس سلسلے کو اب بریک لگ جائے اور ہم اپ یعنی بلندیوں کی جانب جائیں۔

 

Facebook Comments HS