بلاسفیمی لا: حصول نجات براستہ پارلیمان


17 جنوری 2023 کو ، پاکستان کی قومی اسمبلی نے توہین مذہب کے قوانین میں مزید ترمیم کرنے اور مقدس شخصیات کے خلاف توہین کی سزا میں اضافے کی تجویز پیش کی۔ مجوزہ ترامیم کے تحت مجرموں کو کم از کم 10 سال قید ہو سکتی ہے ترامیم کا مسودہ تیار کرنے اور متعارف کرانے والے قانون ساز مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا: ”یہ بل ہماری نجات کا سبب ہو گا اور اللہ ہمارے حکمرانوں کو اس بل کو حقیقی معنوں میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔“

اس قسم کے قوانین اکثر ہجومی تشدد کی صورت میں زیادہ تر مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ یا یوں کہیے ان کو مزید ڈرانے اور دبانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اب تک کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق زیادہ تر مسیحی، ہندو اور احمدی برادری کے پاکستانی شہری ان قوانین کی آڑ میں تشدد اور ظلم کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔ بیشتر اوقات ان سے زبردستی ذاتی، سماجی یا معاشی فوائد حاصل کرنے میں ناکامی کی صورت میں ان پر مبینہ طور پر توہین مذہب کے الزامات لگا کر راستہ صاف کیا جاتا ہے۔ جس کی تازہ مثال، کراچی میں ہونے والے حالیہ واقع سے ملتی ہے جس میں ایک مسیحی خاتون اہلکار کو ائرپورٹ پر اپنے فرائض تندہی سے انجام دینے پر توہین مذہب کا سامنا کرنا پڑا اور مذہبی الزام لگا کر ہجومی تشدد سے جان سے مارنے کی کھلے عام دھمکی دی گئی۔

قطع نظر الزامات درست ہے یا غلط یا قانون کے مطابق الزامات کی تحقیق کا ایک طریقہ کار متین ہے، دیکھا یہ گیا ہے کہ ہر بار ہجوم اکٹھا کرے تشدد کا راستہ اپنایا جاتا ہے۔ جس میں ملزم کو جان سے مار کر قصہ ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ خود ہی مدعی، خود ہی منصف، کا یہ وتیرہ اب تک درجنوں افراد کو نشانہ بنا چکا ہے۔ اور اب تو غیرملکی مہمان شہری بھی اس کا براہ راست نشانہ بن چکے ہیں۔ حالیہ سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کی جھوٹے الزام میں ہلاکت پاکستان میں بڑھتے ہوئے خود انصافی یا ہجومی تشدد کے رجحان کا ثبوت ہے

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان جو ہر سال پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے رپورٹ تیار کرتا ہے۔ 2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق، 1990 سے 2019 تک، توہین مذہب کے الزامات سے متعلق ہجومی تشدد میں کم از کم 60 افراد ماورائے عدالت قتل ہوئے۔ ان میں مسلم اور غیر مسلم شہری شامل تھے۔ تاہم، بیشتر واقعات کی بعد از عدالتی یا حکومتی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تر الزامات بے بنیاد تھے یا ذاتی عناد کی آڑ میں لگائے گئے تھے۔ 2021 میں شائع ہونے والی اسی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں توہین کے قوانین کے تحت کل 586 مقدمات درج کیے گئے، جن میں صوبہ پنجاب 426 مقدمات کے ساتھ سرفہرست رہا۔

پاکستانی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس نئی ترمیم پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ نئی ترمیم باقاعدہ قانون بن گئی تو پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی اور اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک، سماجی منافرت اور تشدد میں مزید اضافہ ہو گا۔ توہین کے موجودہ قوانین نے کئی دہائیوں سے مذہب کے نام پر قانونی امتیاز، تشدد اور ظلم و ستم کو راستے اپنانے اور مذہبی جذبات کے ذریعے ذاتی رنجشوں کو حل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ جس کی وجہ سے مذہبی اقلیتوں میں بے چینی، عدم تحفظ اور خوف کا احساس پایا جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ توہین مذہب یا امتیازی قوانین میں مزید سخت ترامیم کرنے کی بجائے ان قوانین کے تحت لگائے گئے الزامات کی شفاف اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کو یقینی بنایا جائے اور الزامات جھوٹے ثابت ہونے پر الزام لگانے والوں کو سخت ترین سزا کا سامنا کرنا پڑے۔ اور ایسا قانون لایا جائے تاکہ مذہبی قوانین کے مجموعی طور پر غلط استعمال کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ مزید یہ کہ پارلیمان کو مذہبی اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور مربوط قانون سازی اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ غیر مسلم شہریوں میں ریاست پر اعتماد بڑھے۔

Facebook Comments HS