معروف شاعرہ اور محقق، نائلہ گل ”سپنا“ قاضی کی سسئی کی مذکورہ حیات کے حوالے سے تحقیق


27 جنوری کا دن ہر برس، سندھ کی جواں مرگ شاعرہ، نثر نویس، استاد، خطاط، مدیر، ماہر تعلیم اور کمپئر، پروفیسر نائلہ گل ”سپنا“ قاضی کے بچھڑنے کی دکھدائک یاد ساتھ لاتا ہے۔ سندھی کے نامور شاعر، مقصود گل کی سب سے بڑی اولاد اور دختر واحد، نائلہ گل (متخلص: ”سپنا“ ) 8 دسمبر 1977 ء کو پیدا ہوئیں اور چار برس قبل 27 جنوری 2019 ء کو محض 41 برس کی عمر میں سندھ سے بچھڑیں۔ سپنا کی ادب کے میدان میں پہچان تو شاعری رہی، مگر نثر کے میدان میں ان کا قلم، نظم سے زیادہ موثر انداز میں اپنے جوہر دکھاتا رہا۔

مضامین سے لے کر، تحقیقی مقالہ جات تک، کالم سے لے کر بچوں کی کہانیوں تک، ان کی تحریروں کا حسن و جامعیت، قارئین کے لئے مکمل ابلاغ کا بہترین ذریعہ رہا۔ سال 2000 ء کے دوران، سندھی ادب میں ایم۔ اے۔ کرتے ہوئے، اس کے سال آخر میں، نامور محقق اور سندھی تجریدی نظم کے منفرد شاعر، ملک ندیم کی سرپرستی میں شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کے شعبہ سندھی میں، حضرت شاہ بھٹائی کی شاعری میں مذکور بیباک کردار ’سسئی‘ کے مختلف روایات کے مطابق بیان کیے گئے احوال حیات، اس کی جدوجہد کے شاعرانہ پہلوؤں، اس کے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحہ کے ساتھ ساتھ دیگر اساسی اور جدید شعراء کی شاعری میں ذکر اور اس کے لوک خواہ کلاسیکی سندھی ادب میں ذکر اور مقام کے حوالے سے انہوں نے ایک مونوگراف (تحقیقی مقالہ) تحریر کیا، جس کا معیار بلا مبالغہ ایم۔

فل۔ کے مقالے سے کم نہ تھا، جس تحقیق کی تکمیل میں ملک رزاق ندیم صاحب کے ساتھ ساتھ نامور لطیف شناس دانشور، ڈاکٹر شاہنواز سوڈھر نے بھی ان کی رہنمائی کی۔ ہونہار طالبہ کے طور پر نائلہ گل ”سپنا“ قاضی نے اپنے ماسٹرز کے امتحانات کے نتیجے میں جو ’فرسٹ کلاس۔ فرسٹ پوزیشن‘ حاصل کی، اس میں یقیناً اس مقالے میں شامل ان کی محنت، تحقیقی ہنر اور تحریری صلاحیتوں کا بھی بہت بڑا ہاتھ تھا۔

آج ہم پروفیسر نائلہ گل ”سپنا“ قاضی کے چوتھے یوم وفات پر ان کے اس تحقیقی مقالے کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

سندھی میں تحریر شدہ اس مقالے کا عنوان نائلہ گل نے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے سسئی کے حوالے سے کہے گئے ایک شعر کی ایک سطر کے نصف سے مستعار لے کر، اسے معمولی ترمیم کے ساتھ اپنایا ہے، جو ہے ”گولیاں گولیاں م لہاں“ (شاہ لطیف کے الفاظ ہیں : ”ڈوریاں ڈوریاں م لہاں“ ) دونوں کے معنی ہیں : ”میں ڈھونڈتی ہی رہ جاؤں، مگر اے کاش! تجھے کبھی نہ پاؤں۔“

میں سمجھتا ہوں کہ شاہ لطیف کے اس بہادری، عزم مسمم اور نڈر مثالی کردار (سسئی) کے حوالے سے تحریر شدہ تھیسز کا نام، اس سے بہتر اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا۔

اس تحقیقی مقالے کو سپنا گل نے اپنے والد محترم، جناب مقصود گل کے نام منسوب کرتے ہوئے، لکھا ہے :

”ان کے نام، جنہوں نے کتب کا قرب اور کار ہائے قلم سکھا کر، جہان تخلیق میں قدم در قدم چلنے کے قابل بنایا۔ جو میرے والد ہونے کے ساتھ ساتھ میرے ادبی رہنما بھی ہیں۔ وہ ہستی ہیں۔ ’مقصود گل‘ “

سندھ کے معروف عالم، لطیف شناس دانشور اور محقق ڈاکٹر شاہنواز سوڈھر مرحوم (جو اس تحقیق میں سپنا کے شریک رہبر بھی رہے ) ، اس مونوگراف کے پشت کے پرت (بیک ٹائٹل) پر مصنفہ کے حوالے سے لکھتے ہیں :

”نائلہ گل قاضی نے سسئی کے احوال حیات کو ایم۔ اے۔ فائنل میں مضمون کے طور پر چن کر، غیر شعوری طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ سندھ کا دانشور طبقہ، ذات پات کی تفریق سے کافی آگے نکل چکا ہے۔ نائلہ گل ایک عالم گھرانے کی چشم و چراغ ہیں۔ مغرور اور متنفر افکار اور متکبر روایات کو ان کے خانوادے نے ہمیشہ ہی سے ناپسند اور رد کیا ہے۔ انہوں نے خود سسئی کے احوال زیست کو اسی لیے اولیت دی ہے، کیونکہ سسئی بیجا غرور و تکبر کا نشانہ بنی۔ دعا ہے کہ نئی نسل انسانیت دشمنوں اور جبر کے خلاف پہاڑ بن کر کھڑی ہو جائے۔“

اس تحقیق کو نائلہ نے موٹے موٹے 11 ابواب میں تقسیم کیا ہے اور فہرست کو ”موتین مالہا“ (موتیوں کی مالا) کا حسین عنوان دیا ہے۔

وہ باب مندرجہ ذیل ہیں :
1۔ بھنبور شہر کا تاریخی پس منظر
2۔ سسئی کی پیدائش اور پرورش
الف) سسئی کون تھی؟
ب) سسئی کی پیدائش
ج) سسئی کا نصیب
د) سسئی کی پرورش
ہ) سسئی کی جوانی
3۔ پنہوں کے ساتھ سسئی کا محبت کا ناتہ
4۔ سسئی کی مبینہ غفلت اور اس کے نتائج

5۔ سسئی، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کا امر کردار ( ’شاہ جو رسالو‘ سے سسئی کے ذکر پر مشتمل منتخب کلام)

6۔ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام میں سسئی کے مذکور سے سجے ’سر‘ (ابواب) اور ان میں پنہاں راز اور مقصد

7۔ سسئی کا ذکر، دیگر (کلاسیکی اور جدید) شعراء کے وہاں
8۔ اس داستان کے واقعات کے حوالے سے پائے جانے والے چند اختلافات
9۔ سسئی، مصنفہ (نائلہ گل قاضی) کی نظر میں
10۔ بلوچستان میں سسئی اور پنہوں کا مبینہ مقبرہ (جڑواں قبر)
11۔ ببلیوگرافی
ان ابواب سے پہلے مصنفہ نے اپنی تحریر، بعنوان ”میری جانب سے“ بھی شامل کی ہے۔

98 صفحات پر مشتمل اس کتاب کے باب نہم ”سسئی، مصنفہ کی نظر میں“ میں نائلہ گل نے ان تمام محرکات کا تفصیل سے ذکر کیا ہے، جن کی وجہ سے انہوں نے سسئی ہی کے موضوع کو اپنے ماسٹرز اس تحقیقی کے مقالے کے عنوان کے طور پر منتخب کیا۔ لکھتی ہیں :

”سسئی ایک عورت ہے اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کے وہاں غیر معمولی اہمیت کا حامل کردار ہے۔ میں نے آج تک جتنی بھی رومانوی داستانیں پڑھی یا سنی ہیں، ان تمام میں سے سسئی اور پنہوں کی داستان مجھ پر شروع ہی سے زیادہ اثر پذیر رہی ہے۔ بالخصوص، اس کا کلائیمیکس (انجام) انتہائی پر اثر اور حیرت میں مبتلا کرنے والا ہے۔ علاوہ ازیں شاہ لطیف کے مذکورہ تمام نسوانی کرداروں میں سے اتنی تکلیفیں کسی کے حصے میں نہیں آئیں، جتنی سسئی کے حصے میں۔ یوں لگتا ہے، جیسے سسئی، درد، تلخیوں، صدموں اور صعوبتوں کا دوسرا نام ہے۔“

سسئی، گو کہ کوئی ’شخصیت‘ نہیں، ایک ’لوک کردار‘ ہے، مگر اس کو شاہ لطیف کے کلام کے ساتھ ساتھ دیگر کلاسیکی خواہ جدید شعرا کے سخن میں درج اشاروں، کنایوں سے اخذ کر کے نہ صرف الفاظ کی صورت اس کی تصویر کشی کرنا، بلکہ تحقیقی نکتۂ نظر سے، تحقیق کے اصولوں کے مطابق چھان کر اس کو قارئین تک پہنچانا، یقیناً پروفیسر نائلہ گل ”سپنا“ قاضی کا ایک اہم علمی اور تحقیقی کام ہے، جو اس اہم کلاسیکی کردار (جس کا ذکر نہ صرف سندھی، بلکہ سرائیکی اور پنجابی سمیت اس خطے کی متعدد زبانوں میں آیا ہے ) کے حوالے سے مزید تحقیق کرنے والوں کے لیے مشعل راہ بھی ثابت ہو گا اور نائلہ گل کو بھی جہان ادب و تحقیق میں تا دیر جاوید رکھے گا۔

Facebook Comments HS