کراچی الیکٹرک بس:مایوسی کے اندھیرے میں امید کی کرن

میری رہائش ملیر کینٹ کراچی میں ہے۔ 13 جنوری 2023 کی صبح جب میں گیٹ نمبر 2 سے نکل کر ٹینک چوک تک آیا تو میں نے سڑک پر ایک نئی قسم کی بس دیکھی، یہ سیاہ اور سفید بس دیکھ کر ایک خوشگوار احساس ہوا ورنہ سڑکوں پر رنگ برنگی مگر ٹوٹی پھوٹی کھٹارا بسیں ہی ایک عرصہ سے بھاگتی دوڑتی نظر آ رہی ہیں۔ یہ ایک جدید ترین الیکٹرک بس ہے جو ماحول دوست ہے کیونکہ یہ 100 % دھوئیں سے پاک اور کم شور والی بس ہے، یہ بس 12 میٹر لمبی ہے، اس میں تیس افراد کی بیٹھنے کی گنجائش ہے اس کے علاوہ 2 نشستیں خصوصی افراد کے لیے مختص ہیں اس طرح کل بیٹھنے کی گنجائش 32 ہو جاتی ہے، 50 افراد کھڑے ہو کر سفر کر سکتے ہیں یعنی یہ بسیں ایک وقت میں 80 افراد کو لے جا سکتی ہیں۔
مزید برآں بین الاقوامی معیار کے مطابق خصوصی افراد کے لیے وہیل چیئر اٹھانے کے لیے ان بسوں کے دروازے کی جگہ کو اوپر نیچے کیا جا سکتا ہے اور یہ مکمل طور پر ائر کنڈیشنڈ ہیں۔ یہ بس سو فیصد بیٹریوں سے چلتی ہے اور ایک گھنٹے کا چارج 240 کلومیٹر تک کے سفر لئے کافی ہے۔ ابھی تجرباتی بنیادوں پر 50 بسیں سڑک پر ڈالی گئیں ہیں تاہم 200 بسیں پہلے ہی درآمد کی جا چکی ہیں۔ اس بس کا پہلا روٹ ملیر کینٹ سے کلفٹن سی ویو تک ہے۔
یہ تقریباً 35 کلو میٹر کا فاصلہ ہے اور ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا کرایہ صرف 50 روپے ہے۔ اب امید کی ایک کرن جاگی ہے کہ حکمرانوں کو کراچی کے شہریوں کی حالت زار پر ترس آ گیا ہے اور وہ ان کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو اپنی سفری ضروریات کے لیے مکمل طور پر پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم پر انحصار کرتے ہیں۔ اس مہنگائی کے دور میں سکھ کا سانس لے سکیں گے۔
ان بسوں کا نام ”Eurabus“ ہے۔ یہ ایک جرمن کمپنی ہے جو برلن میں واقع ہے۔ یہ کمپنی 2015 میں قائم کی گئی تھی اور یہ Euracom گروپ کا حصہ ہے جو پچھلے 25 سالوں سے بسوں کی تعمیر اور بس سپلائیز کے ماہر ہیں۔ وہ ایک گھنٹہ چارج پر 650 کلومیٹر کی رینج کے ساتھ بھی اعلیٰ کارکردگی والی بسوں کو ڈیزائن اور تیار کر رہے ہیں۔ یہ کمپنی نہ صرف بس بناتی ہے بلکہ وہ ایک پائیدار اور بے آواز مسافروں کی نقل و حمل کا نظام پیش بھی کرتے ہیں۔ کراچی میں بھی یورا بس نے نہ صرف بسیں فراہم کیں بلکہ دیکھ بھال اور مرمت کے لیے ایک جدید سروس نیٹ ورک بھی دیا ہے۔ ان بسوں میں خود کار نظام نصب ہے جو بس میں ہونے والی کسی بھی خرابی کی بابت پہلے سے خبر دار کر دیتا ہے۔ یہ پیش گوئی کرنے والی دیکھ بھال کی خدمت I۔ P پر مبنی ہے اور آپریٹر کو بسوں کی زندگی کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔ بس خود بخود کمزور پوائنٹ کی اطلاع دیتی ہے اس سے پہلے کہ وہ متعلقہ نقصان کا باعث بنیں اور نقصان سے پہلے ہی ورکشاپ میں اس خرابی کو دور کر دیا جائے۔ حیرت انگیز طور پر بسوں کی بیٹری لائف 10 سال ہے، اس لیے یواربس کی زندگی ڈیزل بسوں کے مقابلے میں دو گنی سے بھی زیادہ ہے۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ 50 سال کی پر اسرار مجرمانہ خاموشی کے بعد حکومتی حلقے کراچی کے ماس ٹرانزٹ سسٹم کے بارے میں سرگرم ہو گئے، پہلا قدم وفاقی حکومت / وزارت مواصلات نے 2012 میں اٹھایا جب جاپان انٹرنیشنل کارپوریشن ایجنسی۔ جائیکا کو کراچی کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی کی تیاری کا ٹاسک دیا گیا۔ جائیکا نے مقررہ وقت میں فزیبلٹی رپورٹ تیار کی اور سال 2030 تک ماس ٹرانزٹ ماسٹر پلان کی تجویز دی۔ جائیکا نے ایک ساتھ دو ماس ریپڈ ٹرانزٹ (ایم آر ٹی) لائنز (بلیو اور براؤن لائنز) اور چھ بی آر ٹی لائنیں (سبز، سرخ، پیلا، اورنج، ایکوا اور جامنی) تجویز کیں۔ ان لائنوں کی مرکزی شریان گرین لائن ہے جو پہلے ہی جزوی طور پر کام کر رہی ہے۔ یہ مستقبل میں سب سے مصروف کاریڈور ہو گا جو بورڈ آفس میں اورنج لائن سے، گرو مندر کے قریب بلیو لائن سے مل جاتا ہے۔ مزار قائد کے قریب ریڈ لائن اور نمائش کے قریب یلو لائن سے مل جائے گا۔
اب خوش قسمتی سے سندھ کی صوبائی حکومت نے بھی اس میگا سٹی کے ٹرانسپورٹ سسٹم کی بہتری کے لیے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ صوبائی حکومت نے اورنج لائن تعمیر کی ہے جو کہ پانچ لائنوں میں سے سب سے چھوٹی ہے اور 3.9 کلومیٹر لمبی ہے اس میں اورنگی کے اندر صرف چار اسٹیشن ہیں تجویز کردہ یہ منصوبہ مکمل طور پر سندھ حکومت کی طرف سے فنڈ اور تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ 2016 میں شروع کیا گیا تھا، لیکن کافی تا خیر کے ساتھ یہ منصوبہ 2022 میں مکمل ہو گیا اور گرین لائن سے منسلک ہو گیا۔
ریڈ لائن کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے اور یہ وسطی کراچی کو اس کے مشرقی مضافات سے جوڑے گی۔ یہ وسطی کراچی میں مزار قائد کے قریب نمایش چورنگی سے یونیورسٹی روڈ سے ہوتے ہوئے مشرقی کراچی میں ملیر ہالٹ تک پھیلے گا۔ یہ نظام ”تیسری نسل“ کا بی آر ٹی سسٹم ہو گا جس میں مقامی بسیں شہر کی سڑکوں اور مخصوص بس کوریڈور کے درمیان سفر کرنے کے لیے مخصوص پوائنٹس پر سسٹم میں داخل/باہر جا سکتی ہیں۔ اس کی کل لمبائی 27 کلومیٹر ہوگی۔ تعمیر کا آغاز اگست 2020 میں ہونا تھا، لیکن عالمی کورونا وائرس وبائی امراض کی وجہ سے 2021 تک موخر کر دیا گیا، اور اصل میں 503.2 ملین ڈالر کی لاگت سے 2022 میں مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ سسٹم کی متوقع سواریوں کی تعداد 300,000 یومیہ ہے۔
یہ دنیا کا پہلا ٹرانسپورٹیشن پروجیکٹ ہے جس کی بسوں کو گائے کے گوبر سے حاصل کردہ بائیو میتھین گیس سے چلایا جائے گا۔ اس منصوبے کے لیے اقوام متحدہ کے گرین کلائمیٹ فنڈ سے فنڈنگ حاصل کی گئی ہے۔ لائن کی 213 بسوں کے لیے روزانہ 11 ٹن بائیو گیس پیدا کرنے کے لیے بھینس کالونی میں ایک پلانٹ لگایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لائن کے دونوں جانب باغبانی کے لیے بارش کے پانی کو جمع کیا جائے گا اور لائن کے ساتھ پانی کی نالیوں کا ایک نظام بھی بنایا جائے گا، جبکہ بلیو لائن، ییلو لائن، ایکوا لائن اور پر پل لائن کی تعمیر کا کام بھی جلد شروع ہو جائے گا۔ خواتین کے لئے بھی ایک خوشخبری ہے کہ حکومت سندھ نے یکم فروری 2023 سے پنک پیپلز بس سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بسیں گلابی رنگ کی ہوں گی جو صرف خواتین کے لئے مخصوص ہوں گی اور ان میں مرد مسافروں کا داخلہ ممنوع ہو گا۔
مزید برآں یہ ماس ٹرانزٹ ماسٹر پلان مجوزہ کراچی سرکلر ریلوے سسٹم سے بھی منسلک کر دیا جائے گا۔ نئے کے سی آر کے انٹر سیکشنز کے پوائنٹس پر کراچی میٹرو بس کے ساتھ مشترکہ اسٹیشن ہوں گے، کے سی آر کا تعمیراتی کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ موجودہ 43 کلومیٹر ٹریک اور اسٹیشن کو مکمل طور پر بین الاقوامی معیار کے مطابق دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ ان ٹریکس پر بغیر ڈرائیور کے برقی ریل چلائی جائیں گی۔ روٹ وہی پرا نا ہو گا، تاہم لیول کراسنگ کو ختم کرنے کے لیے روٹ کے ساتھ نئے زیر زمین راستے اور پل بنائے جائیں گے۔
امید ہے کہ ان تمام ماس ٹرانزٹ منصوبوں کی تکمیل کے بعد ۔ کراچی کو ایک بار پھر اپنی ماضی کی شان کا کچھ حصہ مل جائے گا جب کراچی میں متعدد ماس ٹرانزٹ سسٹم ایک ساتھ موجود تھے جب کراچی ٹرام وے کو پہلی بار 1885 میں ٹریفک کے لیے کھولا گیا تھا اور یہ اپریل 1975 میں بند ہو گیا تھا۔ سٹی اسٹیشن سے لانڈھی، کورنگی اور ملیر کے لیے لوکل ٹرین سروس قیام پاکستان سے لے کر 80 کی دہائی تک فعال تھی۔ کراچی سر کلر ریلوے 60 کی آخری دہائی میں شروع ہوئی تھی اور اسی کی ابتدائی دہائی تک چلتی رہی تھی۔ یہاں تک کہ ڈبل ڈیکر بسیں 60 کی دہائی تک پورے کراچی میں جگہ جگہ چلتی نظر آتی تھیں۔





