پنجاب، کے پی اسمبلیوں کی تحلیل اور مستقبل کا سیاسی منظر

چوہدری پرویزالہی کی تمام تر مزاحمت اور کوششوں کے باوجود ان کی پنجاب میں حکومت بچ نہیں پائی۔ عمر ان خان بالآخر اپنے اس اعلان پر عمل درآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے جو انہوں نے اپنے دوسرے لانگ مارچ کے اختتام پر راولپنڈی میں کیا تھا۔ مسلم لیگ نون نے بھی پوری کوشش کی کہ کسی طرح ان کو قبل از وقت انتخابات میں نہ جانا پڑے چاہے ان کو پرویزالہی کا اقتدار برداشت کرنا پڑے۔ مگر اس طرح کے حالت و واقعات کا سلسلہ چلا کہ پرویز الہی کو بادل نخواستہ اعتماد کا ووٹ لینے کے فوری بعد اسمبلیوں کی تحلیل کی سمری گورنر کو بھیجنا پڑ گئی۔
باخبر ذرائع کے مطابق اگر وہ ایسا نہ کرتے تو پی ٹی آئی میں موجود کچھ رہنما عمران خان کو اس بات پر راضی کر چکے تھے کہ پی ٹی آئی کے ممبران استعفی دے کر حکومت گرا دیتے اور تحریک انصاف کی توپوں کا رخ پرویز الہی کی جانب ہو جاتا۔ اس طرح وہ اگلے انتخابات میں تنہا ہو جاتے اور کسی بھی سیٹ پر جیتنا ان کے لئے ناممکن ہو جاتا کیونکہ چوہدری شجاعت اور ان کے صاحبزادوں کی شدید مخالفت نے مسلم لیگ نون کو پرویز الہی کے ساتھ کسی معاہدے سے باز رکھا ہوا تھا۔
اس طرح موجود سیاسی بحران کا ڈراپ سین ہوا۔ عمران خان اس بحران میں سرخرو ہو کر نکلے اور اب مسلم لیگ نون کے پاس الیکشن میں ان کا مقابلہ کرنے کے سوا آئین میں کوئی دوسرا رستہ نہیں بچا۔ اسی طرح تحریک انصاف نے حسب وعدہ خیبر پختونخوا اسمبلی کو بھی توڑ دیا ہے۔ اسی اثنا میں جب تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں جانے کا غیر متوقع فیصلہ کیا تاکہ پی ڈی ایم کے اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور وفاقی حکومت کے خلاف پریشر بڑھایا جائے تو اسپیکر نے فوری طور پر پی ٹی آئی ارکان کے زیر التوا استعفے منظور کرنا شروع کر دیے اور الیکشن کمیشن نے بھی بلا جھجک ان کو ڈی نوٹیفائی کر دیا۔ اس معاملے میں بھی عمران خان کے اس موقف کو تقویت ملی کہ الیکشن کمیشن ان کے ساتھ غیر جانبدار نہیں ہے۔
مگر اصل معاملات پنجاب میں پھر سے بگڑنا شروع ہوئے ہیں جب مسلم لیگ کے گورنر انتخابات کے لئے تاریخ دینے سے گریزاں نظر آتے ہیں اور بظاہر معاملات عدالتوں میں پہنچتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ مگر آئین اس بارے میں واضح حکم دیتا ہے کہ اسمبلیوں کی قبل از وقت تحلیل کی صورت میں نوے دن کے اندر انتخابات کروانا ضروری ہیں اور مسلم لیگ نون جتنی کوشش کر لے یا اس پر راضی نہ ہو الیکشن نوے دن کے اندر ہونے ہیں اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے گورنر کو انتخابات کی تاریخ دینے کے لئے خط لکھ کر بال مسلم لیگ نون کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔
اب مسلم لیگ جس قدر تذبذب کا شکار ہو گی اور چند نادان مشیروں پر انحصار کرتے ہوئے معاملہ کو روکے رکھی گی ایک تو اس کے جمہوری امیج کو نقصان ہو گا اور دوسرا رائے عامہ میں یہ بات سرایت کر جائے گی کہ وہ انتخابات میں پی ٹی آئی کا سامنا نہیں کر سکتی اور پنجاب میں بھی مقبولیت کھو چکی ہے۔ معاملہ جلد ہی اعلی عدلیہ کے پاس جانا ہے جہاں سے یقینی طور پر آئین کی عملداری پر مبنی فیصلہ ہو گا جیسا کہ موجودہ عدلیہ نے ماضی میں کسی سیاسی جماعت کا سیاسی پریشر قبول نہیں کیا خواہ وہ قاسم سوری کی نام نہاد رولنگ پر تحریک انصاف کا پریشر تھا یا دوست مزاری کی رولنگ پر مسلم لیگ نون کی دھمکیاں۔
اس لئے مسلم لیگ نون کے لئے بہتر ہو گا کہ وہ پہلے تو اپنے آپ کو انتخابات کے موڈ میں لے آئے اور پھر شکست کی صورت میں پنجاب پی ٹی آئی کی حکومت کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہے۔ اس وقت کے سروے بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف مسلم لیگ نون پر سبقت لے جا سکتی ہے اگر پی ٹی آئی میں کوئی بڑی توڑ پھوڑ نہ ہوئی۔ خاص کر جنوبی پنجاب کے الیکٹیبلز خانوادے اگر پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے رہے تو اس کو کامیابی مل سکتی ہے۔
اس طرح اگر پنجاب میں دوبارہ تحریک انصاف بر سر اقتدار آ جاتی ہے جس کے کافی امکانات ہیں تو اکتوبر میں ہونے والے عام انتخابات میں ملک ایک اور آئینی بحران کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ آئین کے مطابق عام انتخابات کے موقع پر وفاقی اور صوبائی سطح پر غیر جانبدار نگران حکومتوں کا تقرر ہونا ہوتا ہے اب اگر پنجاب میں کس طرح کیئر ٹیکر حکومت لائی جا سکتی ہے کیا پی ٹی آئی یا کسی جماعت کی حکومت جو فقط چند ماہ پرانی ہوگی اس کو برخواست کر دیا جائے گا اور وہاں بھی الیکشن ہوں گے یا ساٹھ دن کے لیے اس کو سسپنڈ کر کے الیکشن کروائے جائیں گے اور پھر ان کو بحال کر دیا جائے گا۔ لگتا یہی ہے کہ ملک میں جاری سیاسی بحران اور معاشی بحران ساتھ ساتھ چلیں گے۔ اقتدار کی اس نہ ختم ہونے والی جنگ میں عوام بدستور مہنگائی کے ہاتھوں پامال ہوتی رہیں گے۔

