معاف کرو! اللہ دے گا

پاکستان میں سٹریٹ بیگرز کا ہر چوک چوراہے پر ملنا عام سی بات ہے لیکن جب مانگنے والا کچھ پڑھا لکھا معلوم ہو اور مانگتے ہوئے چہرے پر شرمساری کے آثار بھی نمایاں ہوں تو سمجھ لیں کہ حالات سے بہت مجبور ہو گا جو عزت نفس کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
پروفیشنل اور مجبور مانگنے والے میں آپ کو واضح فرق دیکھنے میں ملے گا۔ پروفیشنل فقیر زیادہ تر معذوری یا نشے کی حالت میں ہوں گے یا اپنے بچوں کے ساتھ نظر آئیں گے تا کہ کوئی رحم کھا کر نظر کرم کر دے۔ جبکہ مجبور افراد آپ کو کوئی نہ کوئی چیز بیچتے نظر آتے ہیں. پھول، کتابیں، کھلونے وغیرہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی عزت نفس یہ گوارا نہیں کرتی کہ وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلائیں۔
آئس کریم شاپ پر مجھے ایک بچی ملی جو کھلونے بیچ رہی تھی چھ یا سات برس عمر ہو گی۔ کھلونے خریدنے کی بجائے میں نے اسے کچھ پیسے دینا چاہے تو کہنے لگی کہ میں پیسے ایسے ہی نہیں لوں گی آپ مجھ سے یہ کھلونے خرید لو۔ چھوٹی سی بچی کی عزت نفس نے یہ گوارا نہ کیا کہ وہ بھیک لے۔ کچھ سوالات سے پتا چلا کہ اس کے والد کا انتقال ہو چکا جس کے بعد ان کی ماں اور باقی بہن بھائی کھلونے بیچ کر اپنا پیٹ پالتے ہیں۔
لاہور کی ایک مارکیٹ میں بہت بزرگ بابا جی جو لیڈیز ہیر کلپس ایک ٹوکری میں سجائے بیٹھے نظر آئے۔ ان کی عمر گھر میں آرام کرنے کی تھی۔ مگر بیٹے نے گھر سے نکال دیا جس کی وجہ سے اس عمر میں بھی اپنی گزر بسر کے لیے کام کر رہے تھے۔ ایک نوجوان جو کہ کچھ پڑھا لکھا دکھائی دیتا تھا۔ بچوں کی کلرنگ بکس بیچ رہا تھا اور کہہ رہا تھا گھر میں بچے کے دودھ کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں پلیز کتابیں خرید لیں۔
سگنل پر بچے ہاتھ میں پانی کی بوتل اور وائپر لیے اکثر نظر آتے ہیں۔ جیسے ہی گاڑی رکتی ہے کار کی اسکرین صاف کرنے لگتے ہیں۔ بہت روکنے سے بھی نہیں رکتے اور اسکرین صاف کر کے پیسے مانگنے آ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کی اس حرکت پر بہت برہم ہوتے ہیں، کچھ لوگ پیسے دے جاتے جبکہ کچھ لوگ پیسے دیے بنا ہی چلے جاتے ہیں۔ یہ زبردستی کیوں اسکرین صاف کرتے ہیں؟ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بیشتر لوگ بھیک مانگنے پر یہیں کہیں گے کہ کوئی کام کیوں نہیں کرتے جبکہ کرنے کے لیے انہیں یہی کام نظر آیا جو وہ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ڈگری ہولڈرز بے روزگاری کا عذاب جھیل رہے ہیں یہ تو پھر ان پڑھ ہیں۔
ریسٹورنٹ کے باہر ایک بزرگ کہنے لگے مجھے پیسے نہیں چاہیے بس کھانا کھلا دو۔ پلٹ کر شاید کوئی یہ بھی کہہ دے کہ بابا جی کوئی کام دھندا کرو کیوں مانگتے ہو؟ لیکن ان بزرگ کے پاس تو شاید اتنے پیسے بھی نہ ہوں گے کہ جس سے وہ کوئی کام شروع کر سکیں اور نہ ہی جسم میں اتنی طاقت کہ کوئی مزدوری ہی کر لیں۔
اسی طرح ایک لڑکی جو کہ عبایہ میں ملبوس تھی سگنل پر قلم بیچتی نظر آئی اس کے کاندھے پر بیگ لٹکا تھا جس سے لگتا تھا کسی کالج کی سٹوڈنٹ ہے۔ ہر گاڑی کے پاس آتے ہوئے اس کے چہرے سے اضطراب اور دکھ کی کیفیت صاف عیاں تھی جو نہ صرف اس کی پریشانیوں کی عیاں تھی بلکہ بیچ چوراہے پر جس گاڑی کے پاس جاتی وہ اس سے پین خریدنے سے انکار کر دیتے اس انکار کے بعد کا کرب کسی بے حس کو دکھائی نہیں دے سکتا تھا۔
یہی نہیں ہمارا معاشرے کی پستی کا تو یہ عالم ہے کہ ان ضرورت مند مجبور خواتین کو ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔ مدد تو دور کی بات ہے۔ کاش جینڈر دیکھنے کی بجائے انسان دوسرے کو انسان سمجھ سکے۔
المیہ یہ ہے کہ ہم بہت آسانی سے ان مجبور افراد کو جو مختلف چیزیں بیچ کر اپنی گزر بسر کرنا چاہتے ہیں ان سے خریداری کرنے کو انکار کر دیتے ہیں۔ جب کہ بڑے بڑے برینڈز سے خریداری پر اتراتے ہیں۔ در حقیقت یہ ضرورت مند لوگ اپنی عزت نفس کو ہمارے سامنے لا رکھتے ہیں تو آپ کو کیا لگتا ہے. ہمیں ان کی عزت نفس کو مجروح کر دینا چاہیے یا عزت کی چادر میں ڈھانپ دینا چاہیے؟

