غیر منقسم ہندوستان کے آخری انتخابات: چند دلچسپ خبریں اور واقعات


اگست انیس سو پینتالیس میں لارڈ ویول کے عام انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی تمام سیاسی جماعتوں نے ان انتخابات کے لیے تیاریاں شروع کر دیں۔ ذیل کے واقعات ان ہی انتخابات سے متعلق ہیں جن کو مختلف کتابوں میں کیے جانے والے انتخابات کے تذکروں اور اس دور میں شائع ہونے والے چند اخبار و رسائل سے اخذ کیا گیا ہے۔

ان الیکشنز میں مرکزی اسمبلی کی ایک سو دو نشستوں پر نو سیاسی جماعتوں کا مقابلہ تھا۔ ان میں سے مسلم لیگ نے اپنے اصولی فیصلے کے تحت صرف تیس مسلم مخصوص نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے، جبکہ کانگریس نے اس کے بالمقابل اڑتالیس ہندو مخصوص نشستوں کے علاوہ بھی مختلف قوموں اور شعبوں کی مخصوص نشستوں پر اپنے امیدوار نامزد کیے تھے۔

مسلم لیگ نے ٹکٹوں کی تقسیم کے لیے مرکزی اور صوبائی پارلیمانی بورڈ تشکیل دیے تھے جن کو درخواست کنندگان میں سے موزوں امیدواروں کا انتخاب کرنا تھا۔ پارلیمانی بورڈ کے طریقہ کار کے مطابق مسترد درخواستوں کو حق اپیل دیا گیا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک حلفیہ تحریری بیان بھی لے لیا گیا تھا کہ ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں درخواست گزار مسلم لیگ کے منتخب امیدوار کے خلاف کھڑا نہ ہو گا بلکہ اسے کامیاب کرنے میں مدد دے گا۔ لیکن کچھ درخواست گزاروں نے اس کے برخلاف بھی کیا۔

یوں تو مسلم لیگ نے مرکزی اسمبلی کی مسلمانوں کی مخصوص تیس نشستوں میں سے آٹھ نشستوں پہ بلامقابلہ کامیابی حاصل کی تھی لیکن قائداعظم باوجوہ بمبئی شہری حلقہ سے بلا مقابلہ منتخب نہ ہو سکے اور بمبئی کی شہری نشست کے لیے ان کا مقابلہ حسین بھائی لالجی سے ہوا۔ قائداعظم یہ انتخاب باآسانی جیت گئے اور حسین بھائی لال جی اپنی ضمانت تک ضبط کرا بیٹھے۔

اترپردیش کی چھ مسلم نشستوں میں سے ایک مقابلہ بہت ہی اہمیت کا حامل تھا جس میں ایک طرف نوابزادہ لیاقت علی خان جو نہ صرف آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے اور دوسری طرف ان کے مقابل مولوی محمد احمد کاظمی تھے جو تحریک خلافت کے سرگرم کارکن مسلم قوم پرست اور بہت با اثر رہنما تھے۔ بقول نواب صدیق علی خان اس حلقے کے بھاری اخراجات کے پیش نظر مسلم لیگ کے پاس کوئی دوسرا موزوں امیدوار موجود ہی نہیں تھا جو اتنے بڑے کانگریسی سے لڑ سکے۔

مولانا انظر شاہ کشمیری صاحب نے اپنے ایک مضمون میں ان انتخابات کے ایک جلسے کا انتہائی دلچسپ احوال لکھا ہے وہ لکھتے ہیں کہ لیاقت علی خان مرحوم کا محمد احمد کاظمی سے آخری الیکشنی مقابلہ ہوا۔ کانگریس کا گھیراؤ اتنا سخت تھا کہ لیاقت علی خان کی کشتی بھنور میں پھنس چکی تھی۔ کہ اچانک علامہ عثمانی اپنی جادو بیانی کی طاقتوں کا پشتارہ لیے ہوئے میرٹھ پہنچے اور ایک ہی تقریر میں نواب زادہ کی ڈوبتی کشتی کو ساحل پر پہنچا دیا۔

مولانا مدنی مرحوم نے سہارنپور کے جلسے میں کچھ علامہ مرحوم کے متعلق گل افشانی فرمائی۔ علامہ نے میرٹھ کے جلسے میں جوابی حملہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مولانا حسین احمد صاحب کو میرے ایمان میں شبہ ہے مجھے تو ان کے تقوے تک میں شبہ نہیں میں ان کا مقابلہ کہاں کر سکتا ہوں وہ چوٹی کے علماء میں ہیں مجمع اس طنز کو اوٖل تو سمجھا نہیں لیکن جب علامہ نے انگشت شہادت کو اپنے سر پر سے لے جا کر حرکت دیتے ہوئے فرمایا کہ بھائی وہ تو چوٹی کے علماء میں ہیں تو اب مجمع کی گرفت میں علامہ کی بات آئی تو پھر کیا تھا ہزاروں کا مجمع قہقہوں کی گونج میں علامہ کے بھرپور طنز کی داد دے رہا تھا۔ علامہ کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ کمشنری کے ووٹ لیاقت علی خان کی جھولی میں ڈلوا دیے۔

مفتی شفیع عثمانی صاحب کا فتوی بھی مسلم لیگ کے لیے کافی کارآمد رہا جو انہوں نے عین انتخابات کے موقع پر ایک استفسار کے جواب میں دیا تھا اس فتوے کے مطابق کیونکہ کانگریس مسلمانوں کی مستقل قومیت سے انکار کر رہی ہے اس لیے کانگریس کی حمایت کفار اور کفر کی حمایت ہے جو ہرگز جائز نہیں۔ مسلم لیگ نے کانگریس کے مقابلہ میں اس فتوے کو اپنے موقف کی تائید میں بھرپور استعمال کیا۔

اتر پردیش کی ایک اور نشست کے لیے مسلم لیگ کے نواب محمد اسماعیل خان صاحب کا مقابلہ ڈاکٹر فاروقی صاحب سے ہوا ڈاکٹر فاروقی صاحب نے غلطی سے اپنا ووٹ نواب اسماعیل خان صاحب کے حق میں دے دیا جو بعد میں گو اپنے نام پر صحیح کرا لیا لیکن اس خبر کو روزنامہ احسان لاہور نے کچھ اس طرح ذکر کیا نواب اسمعیل کے حریف ڈاکٹر فاروقی صاحب مسلم لیگ کی کامیابی دیکھ کر اس قدر سراسیمہ ہوئے کے انہوں نے نواب اسمعیل کے حق میں ووٹ دیدیا۔ اس سے بھی اہم واقعہ بیگم فاروقی صاحبہ کا نواب اسمعیل کو ووٹ دینا رپورٹ کیا گیا۔

صوبائی نشست کے لیے حلقہ غربی (دیہات) سے مسلم لیگ کے امیدوار حافظ جمشید علی خان کے خلاف جمیعت علماء کے محمد الیاس صاحب نے کاغذات نامزدگی داخل کرانے کی کوشش کی جس پر یہ اعتراض کیا گیا کہ محمد الیاس صاحب مسلمان نہیں ہیں اس لئے مسلمانوں میں شامل ہو کر یہ کاغذات نہیں داخل کر سکتے اور نہ ہی مسلمان نشست کے لیے امیدوار ہو سکتے ہیں۔ اس پر الیاس نے اپنے غیر مسلم ہونے کا اقرار کرتے ہوئے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے۔

ان انتخابات میں بیگم محمد علی جوہر یو پی سے بلامقابلہ منتخب ہوئیں۔ ان کا مقابلہ عورتوں کی مخصوص نشست پر بیگم بشارت حسن سے تھا جو رفیع احمد قدوائی صاحب کی تحریک پر مقابلے سے دستبردار ہو گیں۔ رفیع احمد قدوائی صاحب نے مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت کے احترام میں ان کی بیگم صاحبہ کو بلامقابلہ اسمبلی میں منتخب ہونے دے کر سیاسی کشمکش میں شرافت کی عمدہ مثال قائم کی۔

جماعت اسلامی نے ان انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ مولانا مودودی صاحب نے ایک خط کے جواب میں اس فیصلہ کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ ہمارے لئے اس معاملے میں صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اپنا سارا زور اس اصول کے منوانے میں صرف کریں کہ حاکمیت صرف خدا کی ہے اور قانون سازی کتاب الہی کی سند پر مبنی ہونا چاہیے جب تک یہ اصول نہ مان لیا جائے ہم کسی انتخاب اور کسی رائے دہی کو حلال نہیں سمجھتے۔

Facebook Comments HS