منٹو کا افسانہ زا‏ئد المیعاد کیوں نہیں ہوتا؟


آٹا، روٹی، پانی، گیس، بجلی، دوا، مکان، امریکی ڈالر، ممد بھائی، کہاں سے ملیں گے؟ انصاف ایک سنگین اور وزنی لفظ ہے۔ ہم اپنی زندگی میں ہمیشہ یہ امید کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ممد بھائی اور رابن ہڈ جیسے ہیرو ہوں جو محرومیوں کی لعنت میں الجھے ہوئے عوام کو امید کی کرن دکھا سکیں۔ 2021 کے پاکستان سی ایس ایس اردو ادب کے امتحان میں ایک سوال تھا۔

منٹو کو برصغیر کا تخلیقی ضمیر کہا گیا ہے۔ شاید اسی لئے منٹو کا افسانہ کبھی بھی زا‏ئد المیعاد نہیں ہوا۔ اس اجمال کی تفصیل پیش کیجیے۔

اگرچہ بہت سے ان کے افسانے ہیں جو منٹو کی سوچ و نظریہ کے لازوال ہونے کو واضح کر سکتے ہیں، لیکن میرے خیال میں یہ کرنے کے لئے افسانہ ”ممد بھائی“ سے زیادہ مناسب کوئی نہیں ہے۔

منٹو کی ادبی دنیا میں کوئی معجزہ نہیں ہوا، بلکہ المیے ہوتے رہے۔ در حقیقت، منٹو کا تخلیقی ضمیر و شعور اپنے فلسفیانہ مراقبہ سے منسوب ہے کہ صرف خیالی اور سراب میں مبتلا لوگ، بشمول منٹو، راحت اور تسلی کے لمحے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسانی مصائب کا ذریعہ روح، جوہر اور حقیقت کا ہونے والا تصادم ہے اور یہ تصادم لامتناہی اور ستم ظریفی پر مبنی ہے۔ اس مشکل میں لوگوں کو دو اختیارات دیے گئے : عاجز ہو نے دکھاوا کرنے بہانہ کرنے کے ساتھ ساتھ نجات کے دن کی امید رکھنا؛ دوسرے، تقدیر کے خلاف بغاوت کرنے والے جن کے لئے جہنم کا دروازہ کھلا ہے۔ ہر کوئی مسلمان نہیں ہے جو قرآن پاک پڑھنے کے بعد جود تسلی کے بہترین طریقہ سے واقف ہے۔

یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہے کہ جہاں تک کردار نگاری کے ادبی رجحان کا تعلق ہے، منٹو پریم چند کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ ناراض ہونے کے بجائے، قارئین کو منٹو کی زبان کا بھدا پن بہت متحرک کرتا ہے اور جب قارئین کے ذہن کی بات کرتے ہیں، جو نظریاتی قدامت پسندی اور سیاسی درستگی کے باعث منٹو کے افسانوں میں پیش کیے گئے کرداروں کا انداز بولنے کی آزادی، حوصلہ اور ہمت نہیں رکھتے۔ یہاں، ممد بھائی عجیب مگر پرکشش شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی اپنی سخت شخصیت اپنی خام شکل میں ملتی ہے۔ وہ آداب نہیں جانتے ہیں، لیکن ان کے لئے ضمیر ہونا اور ‏غیر مصنوعی زندگی گزرنا دوسروں کی تعریف اور پچان سے زیادہ اہم ہے۔ ان کے نزدیک شائستگی چاپلوسی کی طرح منافقت رکھتی ہے۔

ممد بھائی مردانگی، خیر خواہی اور بھائی چارے کا بہترین نمونہ ہیں۔ ان کی مونچھیں اور خنجر ممد بھائی کی مردانہ پہچان ہیں، جو مستقل مزاجی، ہوشیاری اور بہادری کے اقدار کی ترجمانی کرتی ہیں۔ اگر چہ ممد بھائی نا انصافی کے ازالے کے لئے ناجائز ذرا‏ئع پر انحصار کرتے ہیں، تب بھی وہ عصمت دری کرنے والے کو قتل کرنے کے دوران اس کو ہونے والی تکلیف پر پچھتاوا کا شکار ہیں۔ خواہ ممد بھائی کے شاگرد نہ مانیں کہ ممد بھائی ان کو مادی مدد دے سکیں، ممد بھائی کی بے لوثی ہی وجہ ہے کہ وہ ان کے زوال پذیر ہونے کے باوجود ان سے غداری نہیں کریں گے۔ جب ہماری دنیا خوشامد پسندی، منافقت اور چاپلوسی سے بگڑ جاتی ہے، تو ہمیں ایسے لوگ نہیں ملتے جو زبانی ہمدردی کے بجائے، محرومیوں اور نا انصافیوں کے خلاف اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔

جب ہم خواجہ سراؤں کو نا انصافی اور بھائی چارہ کے نام پر جنسی آزادی اور حقوق کے اقدار کی تبلیغ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، تو کیا ہم کچھ اور بنیادی باتیں بھول جاتے ہیں؟ افسانہ ”ممد بھائی“ میں ایک زا‏ئد المیعاد نہ ہونے والا پیغام موجود ہے۔ اسلامی مردانگی کی قدر تو یہ ہے کہ انسان قائد بننے کی خواہش پورا کرنے کے بجائے، ایسے معاشرے کا خادم ہو نا چاہیے، جو تقسیم اور قانونی انصاف دونوں پر ایک قوم کو تشکیل دے سکے۔ ممد بھائی نے معاشرے کے انصاف کے لئے اپنی عزت (خنجر) اور غرور (مونچھیں ) کو قربان کیا۔ لیکن کیا ہم پاکستانی معاشرے میں ایسا شخص تلاش کر سکتے ہیں؟

اگر چہ میں پاکستانی نہیں ہوں، میں عاجزی کے ساتھ درج ذیل انصاف حاصل کرنے کے لئے اوسط بجٹ پیش کرتا ہوں :

روٹی: 25 روپے
پانی: 55 روپے
آٹا: 135 روپے
گیس سلنڈر: 2000 روپے
بجلی: 15000 روپے (لوڈشیڈنگ ہونے کے باوجود! )
علاج اور دوا: 2 لاکھ
کراچی میں ایک گھر: 2 کروڑ
امریکی ڈالر: 260 روپے، شاید 300 روپے ہو گا۔

ہم لالچی نہیں ہیں۔ ہم صرف ممد بھا‏ئی ایسا ہیرو چاہتے ہیں جو کے الیکٹرک سے بل موصول ہونے پر ہمیں تسلی دے سکیں۔ آیا یہ افسانہ ”ممد بھائی“ فرضی ہے جو قارئین کو کچھ فنتاسی یا وہم فراہم کرتی ہے، یا اسے منٹو کی حقیقی زندگی سے ماخوذ کیا گیا ہے، یہ اہم نہیں، جب تک کہ وہ اپنے حقیقی نفس کی بات کرتے ہیں۔ منٹو کا افسانہ کبھی بھی زا‏ئد المیعاد نہیں ہوا ہے۔

Facebook Comments HS