تعلیمی اداروں میں موثر اور عملی قیادت کی ضرورت
میرا تعلیم کے میدان میں تعلیم و تربیت، رہنمائی، مشاورت، تدریس اور پرائیویٹ کوچنگ کا کل ملا کر کوئی سولہ سترہ سال کا پروفیشنل تجربہ بنتا ہے۔ اس دوران میں نے عام ٹیوشن پڑھانے سے لے کر، سکول میں بطور ٹیچر پڑھانے، تعلیمی اداروں میں وزٹ، انسپیکشن ٹیم کا حصہ بننے، ٹریننگ، کانفرنسز اور سمپوزیمز میں شرکت بھی کی۔ درسی اور روایتی تعلیم کے رائج طرز اور مستقبل کے حوالے سے کتابیں پڑھیں، قومی اور کئی عالمی ماہرین تعلیم سے انٹرویو کیے ۔
کئی سکولوں کے ساتھ کام کیا۔ ایجوکیشن کے فروغ کے لئے کام کرنے والی قومی اور عالمی تنظیموں کے ساتھ وابستگی رہی۔ اس سارے عملی تجربے، براہ راست واقعات اور مشاہدات کی بنیاد پر میرے ذہن میں ہمیشہ ایک سوال ضرور اٹھتا ہے۔ کیا موجودہ دور میں تعلیمی ادارے معاشرتی بگاڑ کو بہتر کرنے کے لئے کارگر ثابت ہو سکتے ہیں؟
میری نظر میں تعلیمی اداروں میں سب سے اہم اور بنیادی کردار قیادت یعنی لیڈرشپ کا ہوتا ہے۔ جن تعلیمی اداروں میں موثر، قابل اور دور اندیش قیادت ہوتی ہے وہ ادارے وقت کے ساتھ ساتھ ناصرف بہترین نتائج فراہم کرتے ہیں بلکہ معاشرتی رویوں اور ترقی میں اپنا کلیدی کر دار بھی ادا کرتے ہیں۔
اکثر لوگ مجھے سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ آج کل ہر گلی محلے میں جگہ جگہ تعلیمی ادارے کھل چکے ہیں، آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟
میں کہتا ہوں کہ میں چاہتا ہوں کہ ہر گھر میں ایک تعلیمی ادارہ ہو بلکہ گھر ہی ایک ایسا ادارہ ہو جہاں تعلیم کے ساتھ تربیت کا عمل بھی بخوبی سرانجام دیا جائے۔ بنیادی طور پر تو تربیت گھر والوں کی ذمہ داری ہے اسکول اس ضمن میں معاونت کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں گھرمیں اب یہ ذمہ داری نبھائی نہیں جاتی اور ساری ذمہ داری سکول پر ڈال دی جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیمی اداروں میں لیڈرشپ کا معیار، وقار اور کردار نہایت ہے۔
تعلیمی اداروں میں Value Based Leadership کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اس طرز کی لیڈرشپ کے ذریعے تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو یہ تربیت دینا مقصود ہوتا ہے کہ ان کا لیڈرشپ سٹائل کس قدر تعلیمی اداروں کی بقاء، فلاح اور فضاء کو بہتر بنانے میں اہم و معاون ثابت ہوتا ہے۔
ویلیو بیس لیڈرشپ کے تین اہم اور مرکزی پہلو ہیں۔ تعلیمی اداروں میں اہم پوزیشن پر فائز لوگ نہ صرف لیڈرشپ کے رول میں ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنے قائدانہ انداز سے پورے ادارے کے ماحول اور کلچر کو اثر انداز کرتے ہیں۔ تعلیمی ادارے، اپنی عمارت، نصاب اور ٹیکنالوجی کی بدولت نہیں بلکہ اپنی مثبت مضبوط روایات، ماحول اور قیادت کے معیار کی بدولت معاشرے میں اپنا نام اور مقام بناتے ہیں۔ آج ہم صرف عمارت بنا رہے ہیں اس ماحول کو قائم کرنے میں کسی حد تک کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔
اپنی قیادت کے معیار اور انداز کو بہتر بنانے والے لیڈرز سب سے پہلے اپنی ذات کی تعمیر اور تکمیل کے لئے سنجیدہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے رویے، سوچ اور افکار کو ہمیشہ اوپن اور مثبت رکھتے ہیں۔ وہ ذاتی تعمیر و ترقی کے ذریعے دوسروں کے لئے مثال بنتے ہیں۔ میں اپنے ٹریننگ سیشن میں اکثر پرنسپل، ہیڈ ماسٹرز اور انتظامی ذمہ داری نبھانے والے افراد سے پوچھتا ہوں، کیا آپ اپنی سوچ، فیصلہ سازی اور طرز عمل پر غور و فکر کرنے اور دوسروں کی رائے لینے کے لئے تیار ہوتے ہیں؟
کیا آپ اپنی قیادت کے انداز کو بہتر بنانے کے لئے نئی کتابیں، نئی چیزیں اور دوسروں سے سیکھنے کے لئے تیار رہتے ہیں؟ بہت کم ایسا ہوتا ہے جب بہت زیادہ جواب ہاں میں ملتا ہے۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ جنہوں نے اداروں کی رہنمائی اور قیادت کرنی ہوتی ہے وہ رہنمائی اور تعاون لینے کے لئے تیار ہوں۔ یاد رکھیں لیڈرشپ ایک رواج نہیں بلکہ مزاج ہے۔
ویلیو بیس لیڈرشپ میں فرد کی انفرادی ترقی کے بعد دوسرا اہم مرحلہ اس کے ادارے کی ترقی ہے۔ پاکستان میں یہ سوچ بہت عام ہے کہ اگر میں نے ترقی کرلی تو ادارہ ترقی نہیں کرے گا اور اگر ادارہ ترقی کرے گا تو میری انفرادی ترقی رک جائے گی۔ یہ انتہائی نا مناسب اور منفی سوچ ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ ترقی کریں اور آپ کا ادارہ ترقی نہ کرے اور آپ کا ادارہ ترقی کرے اور آپ کی ترقی نہ ہو۔ دیرپا اور پائیدار ترقی اجتماعی ترقی میں پنہاں ہے۔ بعض دفعہ فرد کو ادارے اور ادارے کو فرد کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس سوچ کے تحت اپنے اور ادارے کے ساتھ جڑے لوگوں کی بڑھوتری کے لئے اقدامات کرتے ہیں۔ آپ کی ترقی اور نشوونما اس وقت تک موثر، مضبوط اور محفوظ نہیں ہوتی جب تک آپ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو اس ترقی کی تحریک میں شامل نہیں کرتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ٹریننگ اور ترقی صرف پرنسپل تک محدود نہ ہو بلکہ اساتذہ، ڈومیسٹک اسٹاف کو بھی اس میں شامل کیا جائے کیونکہ وہ سب ادارے کی ترقی اور فلاح کے لئے مل کر کام کرتے ہیں۔ یہ ادارے کی اجتماعی ترقی کے عظیم مبشر ہوتے ہیں جو دراصل معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے معاشرے کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔


