کیا اسلام کا کوئی معاشی نظام نہیں ہے؟
ہمارے ایک ”فاضل“ دوست نے سوال کی آڑ میں نشانہ لگایا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اسلام کا کوئی معاشی نظام ہی نہیں ہے۔ دیانت داری کا تقاضا تو یہ تھا کہ موصوف پوری تحقیق کر کے اس سوال کا جواب تلاش کرتے کہ اگر اسلام کا کوئی نظام نہیں تھا تو نبی کریم ﷺ نے ایک نوزائیدہ ریاست کو کیونکر چلایا اور نہ صرف چلایا بلکہ دن بدن اسے معاشی لحاظ سے مضبوط بھی بنایا۔ یہ ریاست مدینہ خلفائے راشدین کے دور میں تو معاشی افق پر مکمل چھاتی ملتی ہے تو کیا یہ سب ایک معاشی نظام کے بغیر ممکن تھا؟
موصوف اگر صرف فاروق اعظم کے دور میں ہی فلاح عامہ سے متعلق اپنے ممدوح گوروں کے اقوال پڑھ لیتے تو ”چانن“ ہو جاتا لیکن شاید ”تحقیق کرنے“ اور سوال ”اٹھانے“ میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ اسی طرح خلافت عثمانیہ اور برصغیر میں شاندار مسلم دور ( جس میں ایک پولیس والے کی تنخواہ وائسرائے کے منہ میں پانی لے آتی تھی ) کیا کسی معاشی نظام کے بغیر تھا اور کیا اتنے لمبے عرصے اس کے بنا حکومت کی جا سکتی ہے؟ یہ ایک لمبا موضوع ہے اور ہفتہ وار ایک کالم کی قید اس کا بوجھ نہیں سہار سکتی تاہم مقدور بھر کوشش پیش خدمت ہے۔ آج کی جدید معیشت بنیادی طور پر تین سوالوں پر کھڑی ہے۔
1. What to produce
2. How to produce
3. How to distribute
یعنی کیا پروڈیوس کرنا ہے؟ کیسے پروڈیوس کرنا ہے اور پھر اسے تقسیم کیسے کرنا ہے؟ انھی تین سوالوں کے بنیادوں پر کچھ بنیادی اصول استوار کیے گئے جن میں سے پہلے اصول کا نام ”determination of priority“ ہے یعنی ترجیحات کا تعین۔ جدید معیشت کا کہنا ہے کہ جب تک انسان اپنی ترجیحات کا تعین نہیں کر لیتا، گھر ہو یا ریاست، وہ اسے معاشی لحاظ سے مضبوط نہیں بنا سکتا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ جب نبی کریم ﷺ نے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی تو اس اصول کو نہ ریاست بلکہ ایک فرد کی زندگی میں بھی متعارف کرایا۔
سنن ابوداؤد ( 1641 ) ، ابن ماجہ ( 2198 ) اور ترمذی ( 1218 ) کی ایک حدیث ہے کہ ایک انصاری، نبی کریمﷺ کی خدمت میں سوالی بن کر حاضر ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تمھارے گھر میں کچھ بھی نہیں ہے؟ اس نے جواب دیا: کیوں نہیں بلکہ ہمارے پاس لکڑی کا ایک پیالا ہے جو پینے کے کام آتا ہے اور ایک کمبل ہے جس کا کچھ حصہ ہم بچھاتے ہیں اور کچھ حصہ خود پر اوڑھ لیتے ہیں۔ یعنی وہ اسی کمبل کا آدھا حصہ بطور بچھونا اور آدھا حصہ بطور رضائی استعمال کرتے تھے۔
یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ۔ وہ گھر گیا اور کمبل اور پیالا اٹھا کر بارگاہ مصطفوی میں لے آیا۔ آپ ﷺ نے دونوں چیزیں سامنے رکھیں اور فرمایا: کوئی ہے جو ان چیزوں کو خریدنا چاہیے؟ ایک شخص نے کہا:میں ان دونوں چیزوں کو ایک درہم کے بدلے خریدتا ہوں۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے دو یا تین بار فرمایا: کوئی ہے جو اس سے زیادہ دینا چاہیے؟ ایک اور شخص نے کہا : میں ان دو چیزوں کے دو درہم دیتا ہوں۔
الغرض اس نے دو درہم کے بدلے وہ دونوں چیزیں خرید لیں۔ آپﷺ نے دونوں درہم اس انصاری کو دیے اور فرمایا: ایک درہم سے گھر کے لیے راشن خرید لو اور دوسرے درہم سے ایک کلہاڑی خرید لاؤ۔ جب وہ کلہاڑی لے کر آیا تو آپ نے اپنے دست مبارک سے اس میں دستہ ٹھونکا اور اس سے فرمایا: جاؤ اور لکڑیاں کاٹ کر بیچو۔ آپ ﷺنے اسے پندرہ دن بعد دوبارہ ملنے کا کہا۔ وہ شخص گیا اور جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر بازار میں بیچتا رہا یہاں تک کہ جب وہ پندرہ دن دوبارہ حاضر ہوا تو اس کے پاس دس درہم تھے۔ آپﷺ نے اس فرمایا :یہ ہمارے لیے بہتر ہے۔ اس نے کچھ کا غلہ خریدا اور کچھ کپڑا وغیرہ۔
اس حدیث میں علم الاقتصاد کا نہ صرف پہلا انتہائی اہم اصول ترجیحات کا تعین (determination of priority) بیان ہوا ہے گیا بلکہ اور بھی بہت کچھ ہے جو اگلے کالموں میں بیان کیا جائے گا لیکن سردست اسی اصول کو دیکھ لیں کہ اس میں ایک صحابی جدید معاشیات کے مطابق پہلا سوال ”What to produce“ لے کر حاضر ہوئے اور آپﷺ نے نہ صرف اس سوال کا جواب دیا بلکہ پہلے اصول کو بھی متعارف کرا یا۔ اس انصاری کے گھر میں ایک پیالا اور ایک کمبل تھا اور یہ دونوں ضرورت کی چیزیں تھیں۔
اس کے سامنے دو سوال تھے ؛کمبل بیچ دیا تو سوئیں گے کیسے اور پیالا بیچ دیا تو پینا کیسے ہو گا اور سب سے بڑا سوال معاش کے مستقل انتظام کا تھا۔ کوئی اور ہوتا تو یہ چیزیں نہ بیچتا لیکن نبی کریمﷺ نے اس کمبل، پیالے اور معیشت میں سے اس کی ترجیحات کا درست تعین کیا، اس کی دونوں چیزیں بیچ دیں اور گھر میں راشن ڈلوا کر اس کی روزمرہ کی ضرورت کا بھی کچھ دنوں کے حل نکال لیا اور اس کے بعد اسے لکڑیاں کاٹنے کا مشورہ دے کر ”کیا کمایا جائے“ کا عملی حل بھی نکالا۔
جب وہ پندرہ دن بعد حاضر ہوا تو بیچے گئے کمبل اور پیالے کی جگہ اچھے اور نئے بستر اور نئے برتنوں کے ساتھ ساتھ اس کی معیشت کا عملی حل بھی نکل چکا تھا۔ اگر وہ کمبل اور پیالے کو ترجیح دیتا تو کمبل اور پیالے نے کمبل اور پیالا ہی رہنا تھا بلکہ کچھ عرصے بعد دونوں چیزیں ایکسپائر ہو جانی تھیں لیکن نبی کریمﷺ نے نہ صرف ترجیحات کا درست تعین کیا بلکہ اس چیز کی پروڈکشن کی جانب رہنمائی بھی جس کی مارکیٹ میں ضرورت تھی جس کے نتیجے میں ایک سوال پندرہ دن میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا۔


